حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت

عن سيدنا أبي الدرداء رضي الله عنه أنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليدني أبا ذر إذا حضر، ويفتقده إذا غاب (مسند الشاميين، الرقم: ١٤٦٤)

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

اللہ کی قسم! جب ابو ذر حاضر ہوتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنے قریب رکھتے تھے اور جب وہ حاضر نہیں ہوتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بارے میں پوچھتے تھے۔

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا شام اور ربذہ کی طرف منتقل ہونا

حضرت ابو ذر غفاری رضی الله عنہ نے چوں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی زہد والی زندگی دیکھی اور انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے اُن لوگوں کے بارے میں سخت وعیدیں سنیں، جو مال جمع کرتے ہیں؛ مگر مال کے حقوق ادا نہیں کرتے ہیں (یعنی وہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ہیں اور وہ لوگوں کے مالی حقوق ادا نہیں کرتے ہیں)، اس لیے حضرت ابو ذر رضی الله عنہ کے دل میں مال کی نفرت پیدا ہو گئی۔

ان کے دل میں مال کی نفرت اس حد تک پیدا ہو گئی کہ وہ اپنے پاس زائد مال نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی یہ پسند کرتے تھے کہ لوگ اپنی ملکیت میں ضرورت سے زیادہ مال رکھیں۔

مال کی نفرت کی وجہ سے حضرت ابو ذر رضی الله عنہ مدینہ منورہ کے لوگوں کو ہمیشہ نصیحت کرتے تھے کہ وہ اپنی ضرورت سے زیادہ مال نہ رکھیں۔

مگر جب مدینہ منورہ کے لوگوں کو حضرت ابو ذر رضی الله عنہ کے مسلسل تنبیہ سے ناگواری ہونے لگی، تو انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے شکایت کی؛ چناں چہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ بہتر ہے کہ آپ شام چلے جائیں۔

لیکن شام کے قیام کے دوران میں بھی حضرت ابو ذر رضی الله عنہ کے لیے انتہائی دشوار تھا کہ وہ یہاں کے لوگوں کو زیادہ مال کے ساتھ دیکھے؛ چناں چہ وہ یہاں کے لوگوں کو بھی تنبیہ کرنے لگے زیادہ مال رکھنے پر؛ یہاں تک کہ شام والوں کے لیے ان کے ساتھ رہنا مشکل ہونے لگا۔

چناں چہ جب حضرت عثمان رضی الله عنہ کو اطلاع ملی، تو انہوں نے حضرت ابو ذر رضی الله عنہ کو واپس مدینہ منورہ بلایا۔

مگر حضرت عثمان رضی الله عنہ نے جب دیکھا کہ حضرت ابو ذر رضی الله عنہ کے لیے مدینہ منورہ کے لوگوں کے ساتھ رہنا دشوار ہے اسی مال کی شکایت کی وجہ سے، تو بالآخر حضرت عثمان رضی الله عنہ نے ان سے کہا کہ وہ مقامِ ربذہ کی طرف منتقل ہو جائیں، جو مدینہ منورہ سے کچھ فاصلے پر تھا۔

حضرت ابو ذر رضی الله عنہ کی پوری زندگی میں جو کچھ ہوا (یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا مال کی نفرت کی وجہ سے)، وہ درحقیقت رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی پیشن گوئی تھی۔

حضرت ابو ذر رضی الله عنہ خود بیان کرتے ہیں:

ایک مرتبہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جب کہ میں مدینہ منورہ کی مسجد میں سو رہا تھا۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے مبارک قدم سے مجھے جگایا اور مجھ سے فرمایا: کیا میں تمہیں مسجد میں سوتے ہوئے نہیں دیکھ رہا ہوں؟ میں نے عرض کیا: اے الله کے رسول! مجھ پر نیند غالب آ گئی۔

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے پھر مجھ سے عرض کیا: تم کیا کروگے، جب تم کو اس جگہ سے (یعنی مدینہ منورہ سے) نکالا جائےگا؟ میں نے جواب دیا: تو پھر میں یہاں سے شام کی مقدس زمین کی طرف منتقل ہو جاؤں گا۔

پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مجھ سے ذکر کیا: تم کیا کروگے، جب تم کو شام سے بھی نکالا جائےگا؟ میں نے جواب دیا: پھر میں لوٹ کر (مدینہ منورہ کی طرف) آؤں گا۔

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے پھر مجھ سے فرمایا: تم کیا کروگے، جب تم کو یہاں سے پھر نکالا جائےگا (یعنی جب تم کو دوسری مرتبہ مدینہ منورہ سے نکالا جائےگا، تو تم کیا کروگے)؟ میں نے جواب دیا: اے الله کے رسول! مجھے اس وقت کیا کرنا چاہیے؟ کیا میں اپنی تلوار سے لوگوں کے ساتھ مقابلہ کروں (اور ان لوگوں سے لڑوں، جو مجھے نکالنا چاہیں گے)؟

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ بات نہ دکھاؤں، جو تمہارے لیے اس لڑنے سے بہتر اور اچھا ہے؟ پھر آپ صلی الله علیہ وسلم نے مجھے وہ بہتر بات بتائی، آپ نے فرمایا: تمہیں چاہیئے کہ تم امیر کی بات سنو اور اطاعت کرو اور جس جگہ کی طرف وہ تمہیں لے جائیں، تو تم وہاں چلے جاو۔ (مسند احمد، الرقم: ۲۱۳۸۲)

Check Also

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا علم‎

قال سيدنا علي رضي الله عنه عن سيدنا أبي ذر رضي الله عنه: وعى علما …