مرض کا اجر علیحدہ ہے اور صبر کا الگ

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا:

مشہور تو یہ ہے کہ جب صبر کرے، تب اجر ملتا ہے؛ مگر بعض محقّقین کی یہ تحقیق ہے کہ مرض کا اجر علیحدہ ہے اور صبر کا الگ۔ مرض الگ چیز ہے اور صبر الگ چیز۔ مرض غیر اختیاری چیز ہے اور صبر اختیاری چیز۔ دونوں ایک نہیں۔

میں قواعدِ فن سے کہتا ہوں کہ عدمِ صبر میں بھی مرض کا اجر ملےگا؛ گو بے صبری کا مواخذہ الگ ہوگا۔ اس سے مرض کا اجر کیوں فوت ہو جاوےگا۔

جیسے آج کل رمضان کا مہینہ ہے۔ بہت لوگ ایک ہیں کہ روزہ تو رکھتے ہیں؛ مگر نماز نہیں پڑھتے، تو نماز نہ پڑھنے کا مواخذہ الگ ہوگا اور روزے رکھنے کا اجر الگ ملےگا۔ (ملفوظاتِ حکیم الامّت، ج 10، ص 215)

Check Also

اشرافِ نفس

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمہ الله نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: ایک بات …