حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا

تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے لیے خصوصی دعا فرمائی:

يرحم الله أبا ذر

اللہ تعالیٰ ابو ذر پر خصوصی رحمت نازل فرمائے!

(المستدرك للحاكم، الرقم: ٤٣٧٣)

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا

حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنہ فرماتے ہیں:

جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم غزوہ تبوک کے لیے روانہ ہوئے، تو کچھ لوگ اس غزوہ میں شامل نہ ہوئے اور پیچھے رہنا پسند کیا۔ ان میں سے اکثر منافقین تھے۔

جب صحابہ کرام رضی الله عنہم پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے بارے میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو اطلاع دیتے، تو آپ صلی الله علیہ وسلم جواب میں فرماتے کہ ان کو چھوڑ دو! اگر ان میں کوئی بھلائی ہے، تو الله تعالٰی جلد ہی ان کو تمہارے ساتھ ملا دیں گے اور اگر ان میں کوئی بھلائی نہیں ہے، تو الله تعالیٰ نے ان کی صحبت سے تمہاری حفاظت فرمائی۔

اسی دوران کسی نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ ابو ذر رضی الله عنہ پیچھے رہ گئے ہیں چونکہ ان کا اونٹ کمزور ہو گیا اور نہیں چل سکا۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو چھوڑ دو! اگر ان میں کوئی بھلائی ہے، تو الله تعالی جلد ہی ان کو تمہارے ساتھ ملا دیں گے اور اگر ان میں کوئی بھلائی نہیں ہے، تو الله تعالیٰ نے ان کی صحبت سے تمہاری حفاظت فرمائی۔

حضرت ابو ذر رضی الله عنہ جہاں پر تھے، جب انہوں نے دیکھا کہ ان کا اونٹ چلنے سے عاجز ہے، تو انہوں نے اپنا سامان اپنی پِیٹھ پر رکھا اور پیدل چلنے لگے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس آنے کے لیے۔

کچھ دیر سفر کرنے کے بعد رسول الله صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی الله عنہم آرام کے لیے کسی جگہ رک گئے۔ جب وہ وہاں ٹھہرے ہوئے تھے، تو صحابہ کرام میں سے کسی نے پیچھے مُڑ کر دیکھا، تو انہیں دور سے کوئی شخص پیدل چلتے ہوے نظر آیا۔ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: اے الله کے رسول! میں ایک شخص کو پیدل آتے ہوئے دیکھ رہا ہوں (اور وہ دور سے آ رہے ہیں)۔

یہ سن کر رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے خوشی سے کہا: اللہ تعالیٰ کریں کہ وہ آدمی ابو ذر ہوں! جب صحابہ کرام رضی الله عنہم نے پیدل آنے والے شخص کو قریب سے دیکھا، تو انہیں معلوم ہوا کہ واقعی وہ ابو ذر تھے؛ چناں چہ انہوں نے خوشی کے مارے کہا: الله کی قسم! واقعی یہ ابو ذر ہیں۔

اس کے بعد رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حضرت ابو ذر رضی الله عنہ کے لیے خصوصی دعا فرمائی: الله تعالی ابو ذر پر خصوصی رحمت نازل فرمائے! وہ اس وقت اکیلے چلتے ہوئے آ رہے ہیں ہمارے پاس (اور) وہ اکیلے ہی مریں گے اور وہ اکیلے ہی اٹھائے جائیں گے (قیامت کے روز اسی جگہ سے جہاں ان کی موت ہو گئی)۔ (سیر اعلام النبلاء ۳/۳۸۴)

Check Also

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا اپنے پڑوسیوں اور مہمانوں کے ساتھ حسن سلوک

عن عيسى بن عميلة رحمه الله أنه قال: أخبرني من رأى أبا ذر يحلب غنيمة …