زکوٰۃ کی سنتیں اور آداب – ۳

(۱) زکوٰۃ ادا کرتے وقت اس بات کا اہتمام کریں کہ آپ پاکیزہ اور حلال کمائی سے زکوٰۃ ادا کریں۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ ناپاک مال (یعنی حرام یا مشتبہ مال) سے صدقہ قبول نہیں کرتا ہے۔

(۲) پورے اخلاص کے ساتھ زکوٰۃ ادا کریں، اسی طرح اللہ تعالی کے حکم کو بجا لانے اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے کی نیت سے زکوٰۃ ادا کریں۔

(۳) زکوٰۃ خوش دلی سے ادا کریں۔ زکوٰۃ کو ٹیکس یا بوجھ نہ سمجھیں۔

(۴) زکوٰۃ وصول کرنے والے کو اپنا مُحسِن سمجھیں؛ کیوں کہ وہ آپ کے فرض کی ادائیگی کا ذریعہ ہیں اور آپ کی زکوٰۃ وصول کرکے آپ کے مال سے گندگی دور کرنے والا ہے۔

(۵) زکوٰۃ وصول کرنے والے کو عزت اور احترام کے ساتھ زکوٰۃ دیں۔ اس کو کسی بھی طریقہ سے تکلیف نہ پہنچائیں (مثال کے طور پر اس کو شرمندہ کرنا یا اس پر احسان جتانا، اس سے اجتناب کریں)۔

(۶) زکوٰۃ ادا کرنے میں ریا کاری اور دِکھاوا نہ کریں اور نہ ہی زکوٰۃ کی رقم کی تشہیر کریں۔ نیک اعمال کا اجر وثواب ریا کاری کی وجہ سے ضائع ہوتا ہے۔

(۷) اس بات کا اہتمام کریں کہ آپ اُس رقم سے کم نہ دیں، جو آپ پر واجب ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ پہلے اچھی طرح ان تمام مال کا حساب کریں، جن پر زکوٰۃ واجب ہے، پھر ان کی زکوٰۃ ادا کریں۔ محض تخمینہ لگا کر زکوٰۃ ادا نہ کریں؛ کیوں کہ ممکن ہے کہ آپ تخمینہ لگانے میں غلطی کریں اور صحیح طریقے سے اپنی زکوٰۃ ادا نہ کریں۔

(۸) زکوٰۃ کے حساب کا صحیح طریقہ جاننے کے لیے علمائے کرام سے رجوع کریں۔

Check Also

زکوٰۃ کی سنتیں اور آداب – ‏ ٦

زکوۃ کی تاریخ جب کوئی شخص زکوٰۃ کے نصاب کے بقدر مال کا مالک ہو …