اتباع سنت کا اہتمام – ۸

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ ماضی قریب کے ایک بہت بڑے بزرگ اور اللہ کے ولی تھے۔ وہ ۱۱ رمضان ۱۳۱۵ ہجری کو پیدا ہوئے اور ۱۴۰۲ ہجری میں انتقال کر گئے۔

حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنتوں سے بہت زیادہ محبت تھی اور انہوں نے اس بات کی کوشش کی کہ ان کی زندگی کا ہر پہلو سنت مبارکہ کے مطابق ہو۔

ذیل میں ہم حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو دیکھیں گے کہ کس طرح ان کی زندگی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنتیں زندہ تھیں۔

بیمار کی عیادت

ایک حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی بیمار پُرسی صبح کے وقت کرے، تو شام تک اس کے لیے ستّر ہزار فرشتے دعا کرتے ہیں اور اگر شام کو کرے، تو صبح تک ستّر ہزار فرشتے دعا کرتے ہیں۔ (سنن الترمذی، الرقم: ۹۶۹)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عظیم سنت سے محبت کی وجہ سے اور اس سنت کے بے شمار فضائل حاصل کرنے کے لیے حضرت شیخ رحمہ اللہ ہمیشہ بیماروں کی عیادت کا خاص اہتمام فرماتے تھے؛ یہاں تک کہ جب ان کی صحت کمزور ہو گئی تھی، تب بھی جب تک وہ گاڑی میں بیٹھنے کی طاقت رکھتے تھے، وہ بیماروں کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔

عام طور پر جب کوئی بزرگ بیمار ہو جاتا ہے، تو بہت سے لوگ اس کی عیادت کے لیے جاتے ہیں؛ لیکن حضرت شیخ رحمہ اللہ کی یہ ایک خاص صفت تھی کہ وہ نہ صرف بیمار بزرگوں کی عیادت فرماتے تھے؛ بلکہ اپنے خادموں، معاونین اور عام مسلمانوں کی عیادت بھی فرماتے تھے۔

صوفی محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ مندرجہ ذیل واقعہ بیان کرتے ہیں:

ایک دفعہ احقر مدینہ طیبہ میں بیمار تھا اور احقر کا مکان کچّے راستوں میں سے ہو کر ایک بے آباد باغ کے اندر تھا۔ حضرت اپنے خادم خاص الحاج ابو الحسن صدّیقی کے ساتھ اس جگہ تشریف لے آئے اور پڑھ کر بندہ پر دم کیا، جس سے مجھے افاقہ ہو گیا اور مجھے تکلیف کی جگہ پر دیکھ کر کوئی سہولت کی جگہ ملنے کی دعا بھی فرمائی، جس کے بعد مجھے بلا کسی کوشش کے، حرم شریف کے قریب راحت کا مکان بھی مل گیا۔ (حضرت شیخ کا اتباعِ سنت، ص ۶۳)

میت کو غسل دینا

رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مُردے کو غسل دے، تو گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے جیسے کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ (مجمع الزوئد، الرقم: ۴۰۶۶)

اس عظیم سنت پر عمل کرنے اور اس کے عظیم اجر کو حاصل کرنے کے لیے حضرت شیخ رحمہ اللہ کے بارے میں یہ مذکور ہے کہ انہوں نے مدرسہ مظاہر العلوم کے بہت سے طلبہ کو غسل دیا، جو وفات پا گئے تھے۔ ان طلبہ میں سے بعض ایسے بھی تھے، جو دیگر علاقوں سے آئے ہوئے تھے اور مختلف مساجد میں امامت کی ذمہ داریوں کی وجہ سے مدرسے سے کچھ فاصلے پر رہائش پذیر تھے۔ تاہم، فاصلے کے باوجود، جیسے ہی حضرت شیخ رحمہ اللہ کو کسی طالبِ علم کے انتقال کی خبر ملتی، وہ فوراً اسے غسل دینے کے لیے روانہ ہو جاتے، خواہ وہ رات کے درمیانی حصہ کا وقت تھا۔

بعض اوقات یہ طلبہ ایسی بیماری کی وجہ سے وفات پاتے تھے، جس سے ان کے جسم خون اور پیپ وغیرہ جیسی نجاست سے آلودہ ہو جاتے تھے۔ عام طور پر ایسی حالت دیکھ کر انسان طبعی طور پر گھن محسوس کرتا ہے اور میت کے قریب جانے کو پسند نہیں کرتا ہے؛ لیکن ان مواقع پر بھی حضرت شیخ رحمہ اللہ اپنے ہاتھوں سے انہیں غسل دیا کرتے تھے۔

جب حضرت مولانا عبد اللطیف رحمہ اللہ کا انتقال ہوا، اس وقت حضرت شیخ رحمہ اللہ خود علیل تھے اور کئی قسم کی معذوریاں بھی تھیں۔ اس کے باوجود وہ مولانا عبد اللطیف رحمہ اللہ کو غسل دینے کے لیے تشریف لے گئے۔

حضرت شیخ رحمہ اللہ کو اس سنت پر عمل کرنے کی ایسی محبت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت سے لوگوں کو غسل دینے کی سعادت سے نوازا؛ چناں چہ حضرت نے ایک مرتبہ تحدیث بالنعمت کے طور پر فرمایا کہ میں نے تقریباً دو سو مُردوں کو غسل دیا ہوگا اور مجھے اللہ کی ذات سے اس پر بڑے اجر کی امید ہے۔ (حضرت شیخ کا اتباعِ سنت، ص ۶۴)

مسواک اور عطر کا استعمال

مسواک کے ذریعے منہ صاف کرنا صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنت نہیں تھی؛ بلکہ ہر نبی کی سنت تھی۔ مسواک کے استعمال کی اتنی ہی اہمیت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث شریف میں بیان کیا ہے کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں ضرور انہیں حکم دیتا (اور ان پر واجب کرتا) کہ وہ ہر وضو کے وقت مسواک کرے (لیکن اب ہر وضو کے وقت مسواک کرنا واجب نہیں ہے؛ بلکہ سنت مؤکدہ ہے)۔ (صحیح البخاری ۱/۲۵۹)

حضرت شیخ رحمہ اللہ نے اپنی پوری زندگی میں مسواک کی سنت کو بہت اہمیت دی۔ مسواک کے استعمال میں ان کا اتنا اہتمام تھا کہ بڑھاپے میں جب ان کا کوئی دانت باقی نہیں رہا، تب بھی وہ مسواک کا اہتمام فرماتے تھے اور مسواک کو اپنے مسوڑھوں پر پھیرتے تھے۔

اس کے بعد جب حضرت شیخ رحمہ اللہ کمزور اور علیل ہو گئے اور مسواک پکڑنے کی طاقت بھی نہ رہی، تو وضو میں ان کی مدد کرنے والے خادم سے فرماتے کہ وہ اپنے ہاتھ سے ان کے مسوڑھوں پر مسواک پھیر دے۔ اس حالتِ ضعف میں بھی انہوں نے اس سنت پر ایسی پابندی فرمائی کہ اگر کبھی خادم مسوڑھوں پر مسواک پھیرنا بھول جاتا، تو وہ اسے یاد دلاتے اور اس بات کا اہتمام فرماتے کہ یہ سنت کسی صورت میں ترک نہ ہو۔ (حضرت شیخ کا اتباعِ سنت، ص ۵۷-۵۸)

اسی طرح احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطر استعمال کرنا بہت محبوب تھا اور احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے استعمال کردہ عطر کے بارے میں مختلف تفصیلات بھی مذکور ہیں۔

اس سنتِ مبارکہ کی پیروی میں حضرت شیخ رحمہ اللہ بھی عطر لگانے کا خاص اہتمام فرماتے تھے؛ یہاں تک کہ ان کے دوستوں، متعلقین اور احباب کے درمیان ان کے عطر کے کثرتِ استعمال خوب مشہور تھا۔ (حضرت شیخ کا اتباعِ سنت، ص ۵۸)

اذان دینا

احادیثِ مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان دینے والوں کے عظیم فضائل بیان فرمائے ہیں۔ ایک حدیث شریف میں وارد ہے کہ قیامت کے دن مؤذنوں کی گردنیں سب سے لمبی ہوں گی (یعنی انہیں بلند مرتبہ اور عظیم مقام حاصل ہوگا)۔ اسی طرح ایک دوسری حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ ہر مخلوق (خواہ انسان ہو یا جنات ہو یا کوئی اور مخلوق ہو) جو مؤذن کی آواز سنتی ہے، قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دےگی۔

چونکہ ہر مسجد میں اذان دینے کے لیے ایک مقرر مؤذن ہوتا ہے اور حضرت شیخ رحمہ اللہ اپنے دینی کاموں میں مصروف ہوتے تھے؛ اس لیے وہ اپنے آبائی شہر میں خود اذان دینے کا موقع کم پاتے تھے؛ لہذا جب بھی وہ سفر پر جاتے، تو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے اور اذان دیتے؛ تاکہ اس سنتِ مبارکہ پر عمل کرنے کی سعادت حاصل ہو اور ان عظیم اجر وفضائل کو حاصل کر سکیں، جو اذان دینے والوں کے لیے وعدہ کیے گئے ہیں۔

چناں چہ جب حضرت شیخ رحمہ اللہ حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ کے ساتھ ٹرین میں سفر کرتے تھے، تو جب نماز کا وقت ہو جاتا، تو حضرت شیخ رحمہ اللہ خود اذان دیا کرتے تھے۔ وہ ٹرین کے ڈبے کی کھڑکی کے پاس جاتے، اسے کھولتے اور وہیں سے اذان دیتے تھے۔ وہ بہت ہی لمبی اذان دیتے اور بلند آواز کے ساتھ اذان دیتے، اس امید کے ساتھ کہ جب ٹرین چلتی رہے اور وہ اذان دیتے رہیں، تو زیادہ سے زیادہ مخلوق ان کی آواز سن سکیں؛ تاکہ وہ سب قیامت کے دن ان کے حق میں گواہی دیں۔ (حضرت شیخ کا اتباعِ سنت، ص ۶۰)

Check Also

اتباع سنت کا اہتمام – ۱۴

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد …