عن الحسن بن علي رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال حيثما كنتم فصلوا علي فإن صلاتكم تبلغني (المعجم الكبير للطبراني، الرقم: 2729، وإسناده حسن كما في الترغيب والترهيب للمنذري، الرقم: 2571)
حضرت حسن بن علی رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم جہاں کہیں بھی ہو، مجھ پر درود بھیجا کرو؛ اس لیے کہ تمہارا درود مجھ تک (فرشتوں کے ذریعہ) پہونچتا ہے۔
القول البدیع
علامہ سخاوی رحمہ الله تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مجھ سے شیخ احمد بن رسلان رحمہ الله کے شاگردوں میں سے ایک معتمد نے کہا کہ ان کو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خواب میں زیارت ہوئی اور حضورِ اقدس صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں یہ کتاب ”القول البدیع فی الصلوٰۃ علی الحبیب الشفیع “ (جو حضورِ اقدس صلی الله علیہ وسلم پر درود ہی کے بیان میں علامہ سخاوی رحمہ الله کی مشہور تالیف ہے اور اس رسالہ کے اکثر مضامین اسی سے لئے گئے ہیں)۔
حضور صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں یہ کتاب پیش کی گئی۔ حضورِ اقدس صلی الله علیہ وسلم نے اس کو قبول فرمایا۔ بہت طویل خواب ہے جس کی وجہ سے مجھے انتہائی مسّرت ہوئی اور میں الله کے اور اس کے پاک رسول صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے اس کی قبولیت کی امید رکھتا ہوں اور ان شاء الله دارین میں زیادہ سے زیادہ ثواب کا امید وار ہوں۔
پس تو بھی اے مخاطب! اپنے پاک نبی کا ذکر خوبیوں کے ساتھ کرتا رہا کر اور دل و زبان سے حضور ِ اقدس صلی الله علیہ وسلم پر کثرت سے دورد بھیجتا رہا کر، اس لیے کہ تیرا درود حضورِ اقدس صلی الله علیہ وسلم کے پا س حضور صلی الله کی قبرِاطہر میں پہنچتا ہے اور تیرا نام حضورِ اقدس صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا جاتاہے۔ (فضائلِ درود، ص ۱۷۵)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بے پناہ محبّت
کسی آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کتنی محبّت تھی؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبّت ہمارے دلوں میں اپنے مال، بچّوں اور اپنی ماؤں سے زیادہ تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابرکت صحبت ہمارے لیے انتہائی سخت پیاس کی حالت میں ایک گھونٹ پانی سے زیادہ عزیز تھی۔ (الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ ۲/۵۲)
يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّم دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ
Source: http://ihyaauddeen.co.za/?p=5904 & http://ihyaauddeen.co.za/?p=5965