ذات مرة، صعد رسول الله صلى الله عليه وسلم جبل حراء فتحرك (الجبل ورجف)، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اثبت حراء، فما عليك إلا نبي، أو صديق، أو شهيد وعدهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: أبو بكر، وعمر، وعثمان، وعلي، وطلحة، والزبير، وسعد، وابن عوف، وسعيد بن …
اور پڑھوحضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت
قال سيدنا عمرو بن العاص رضي الله عنه: سأحدثك برجلين (معينين) مات رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يح…
امت کا درود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچنا
اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ (گھروں کو نیک اعمال: نماز، تلاوت اور ذکر وغیرہ سے آباد رکھو۔ ان کو قبر…
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبان سے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے عظیم علم کی تعریف
في إحدى المرّات، سُئل سيّدنا عمر رضي الله عنه عن مسألة، وكان سيّدنا عبد الله بن مسعود رضي الله عنه ج…
دنیوی زندگی کا حال اور مرتبہ صرف خواب کی طرح ہے
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمہ الله نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: یہاں تو کیا ہے! دنیا میں رکھا…
اتباع سنت کا اہتمام – ۱۴
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی…
نئے مضامين
ہر درود کے بدلہ ایک قیراط کے برابر ثواب
عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : من صلى علي صلاة كتب الله له قيراطا والقيراط مثل أحد أخرجه عبد الرزاق بسند ضعيف...
اور پڑھوعلامات قیامت – دسویں قسط
مہدی رضی اللہ عنہ مہدی رضی اللہ عنہ کا ظہور قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے پہلی نشانی ہے۔ متعدد احادیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت میں مہدی رضی اللہ عنہ کے آنے کی پیشن گوئی فرمائی ہے۔ علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے بیان …
اور پڑھواستاذ کی بے ادبی علم سے محرومی کا سبب
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمہ الله نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: میری بڑے اہتمام سے تم لوگوں سے درخواست ہے کہ علم حاصل کرنے میں جتنے بھی تواضع ہو سکے، زبانی نہیں؛ بلکہ دل سے اختیار کرنا۔ اگر چاہو کہ علم حاصل ہو جائے، تو استاذ کا ادب …
اور پڑھوغزوۂ تبوک کے موقع پر حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا مال خرچ کرنا
لما حضّ رسول الله صلى الله عليه وسلم الصحابة رضي الله عنهم على الإنفاق تجهيزا للجيش لغزوة تبوك، أنفق سيدنا عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه مائتي أوقية (ثمانية آلاف درهم) في سبيل الله. (من تاريخ ابن عساكر ٢/٢٨) غزوۂ تبوک کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ …
اور پڑھو
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી