رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: إني وإياك وهذا النائم – يعني عليا – وهما – يعني الحسن والحسين – لفي مكان واحد يوم القيامة (أي في الجنة) (المستدرك للحاكم، الرقم: ٤٦٦٤) بے شک میں، تم، یہ شخص جو سو رہا ہے …
اور پڑھو »صبح وشام درود شریف پڑھنا
عَن ابي الدرداء رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم مَن صَلَّى عَلَيَّ حِينَ يُصْبِحُ…
حضرت عبد اللہ بن عبّاس رضی اللہ عنہما کا درود
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنهُمَا أَنَّهُ كَانَ إذَا صَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَ…
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاداں وفرحاں ہونے کا سبب
عن أبي طلحة الأنصاري رضي الله عنه قال أصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما طيب النفس يرى في وجهه ا…
دس گنا ثواب
عَنْ أَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ …
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے لیے جنت کی بشارت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: طلحة في الجنة (أي: هو ممن بشّر بالجنة في الدنيا) (سنن …
نئے مضامين
میت کی قبر
(۱) میت کو گھر میں دفن نہ کیا جائے، خواہ وہ نابالغ ہو یا بالغ، نیک ہو یا برا۔ گھر کے اندر مدفون ہونا انبیائے کرام علیہم السلام کی خصوصیت ہے۔ (۲) قبر کو مربع شکل میں بنانا مکروہ ہے۔ قبر کو اونٹ کے کوہان کی طرح تھوڑا سا اونچا …
اور پڑھو »اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والا
غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لأعطين الراية غدا رجلا يفتح على يديه، يحبّ الله ورسوله، ويحبّه الله ورسوله. في الغد، دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا وأعطاه الراية (من صحيح البخاري، الرقم: ٣٠٠٩) کل، میں جھنڈا اس شخص کو دوں …
اور پڑھو »امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری – چھتی قسط
لوگوں کو نصیحت کرتے وقت ان کو شرمندہ کرنے سے اجتناب جو شخص ایسے لوگوں کو نصیحت کرتا ہے جو دین سے دور ہیں اور ان کے پاس دین کی صحیح سمجھ نہیں ہے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کے ساتھ نرمی سے گفتگو کرے۔ نرمی …
اور پڑھو »ادب کا مدار عرف پر ہے
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ الله نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: ادب کا مدار عرف پر ہے، یہ دیکھا جائےگا کہ عرف میں یہ خلافِ ادب سمجھا جاتا ہے یا نہیں۔ اسی سلسلہ میں یاد آیا کہ ایک بار ایک خادم کو تنبیہ فرمائی، جنہوں نے ایک ہی ہاتھ …
اور پڑھو »