عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: صلوا علي فإنها زكاة لكم واسألوا الله لي الوسيلة فإنها درجة في أعلى الجنة لا ينالها إلا رجل وأرجو أن أكون أنا هو (مسند أحمد، الرقم: 8770، وفي مجمع الزوائد (الرقم: 1877): رواه البزار وفيه داود بن علبة ضعفه ابن معين والنسائي وغيرهما ووثقه ابن نمير وقال موسى بن داود الضبي: حدثنا داود بن علبة وأثنى عليه خيرا وقال ابن عدي: هو في جملة الضعفاء ممن يكتب حديثه)
حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھ پر درود بھیجا کرو؛ کیونکہ یہ تمہارے لیے تزکیہ (دل کی صفائی) کا ذریعہ ہے اور میرے لیے الله تعالیٰ سے مقامِ “وسیلہ” کی دعا کیا کرو۔ بے شک یہ (وسیلہ) جنت کے بلند ترین درجات میں ایک درجہ ہے، جو صرف ایک شخص کو ملےگا اور مجھے امید ہے کہ یہ شرف واعزاز مجھے ملےگا۔
حضرت ابو عبیدہ بن الجرّ اح رضی الله عنہ کے دانتوں کا ٹوٹنا
غزوۂ احد میں کافروں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر سخت وار کیا، جس کی وجہ سے آپ صلی الله علیہ وسلم کے خود کی دو کڑیاں آپ کے چہرۂ مبارک میں چبھ گئیں۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ اور حضرت ابو عبیدہ بن الجرّ اح رضی الله عنہ انتہائی سرعت سے آپ صلی الله علیہ وسلم کی مدد کے لئے آگے بڑھے۔
حضرت ابو عبیدہ رضی الله عنہ خود کی کڑیوں کو اپنے دانت سے نکالنے لگے۔ کچھ دیر میں ایک کڑی نکالنے میں کامیاب ہو گئے؛ لیکن ان کا ایک دانت ٹوٹ گیا۔
حضرت ابو عبیدہ رضی الله عنہ نے اپنے دانت کے ٹوٹنے کی کوئی پرواہ نہیں کی؛ بلکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک سے دوسری کڑی نکالنے لگے اور اس کو بھی نکال دیا؛ اگرچہ دوسری کڑی نکالنے میں ان کا ایک اور دانت بھی ٹوٹ گیا؛ لیکن رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی محبت میں انہوں نے اس کی ذرّہ برابر پرواہ نہیں کی۔
کڑیوں کے نکلنے کے بعد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے جسم مبارک سے خون بہنے لگا۔ حضرت مالک بن سنان رضی الله عنہ (حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کے والد) نے اس خون کو اپنے ہونٹوں سے چاٹ لیا۔
آپ صلی الله علیہ وسلم نے جب یہ دیکھا، تو ارشاد فرمایا: جس کے خون میں میرا خون مل گیا، اس کو آتشِ دوزخ نہیں چھو سکتی. (فضائلِ اعمال، حکایتِ صحابہ، ص ۱۶۸)
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک بال کی تعظیم وتکریم
ابو حفص سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب رونق المجالس میں لکھتے ہیں کہ بلخ میں ایک تاجر تھا، جو بہت زیادہ مالدار تھا۔ اس کا انتقال ہوا۔ اس کے دو بیٹے تھے۔ میراث میں اس کا مال آدھا آدھا تقسیم ہو گیا۔
لیکن تَرکہ میں تین بال بھی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے موجود تھے۔ ایک ایک دونوں نے لے لیا۔ تیسرے بال کے متعلق بڑے بھائی نے کہا کہ اس کو آدھا آدھا کر لیں۔ چھوٹے بھائی نے کہا: ہرگز نہیں، خدا کی قسم! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا موئے مبارک نہیں کاٹا جا سکتا۔
بڑے بھائی نے کہا: کیا تُو اس پر راضی ہے کہ یہ تینوں بال تُو لے لے اور یہ مال سارا میرے حصے میں لگا دے۔چھوٹا بھائی خوشی سے راضی ہو گیا۔
بڑے بھائی نے سارا مال لے لیا اور چھوٹے بھائی نے تینوں موئے مبارک لے لیے۔
وہ ان کو اپنی جیب میں ہر وقت رکھتا اور بار بار نکالتا، ان کی زیارت کرتا اور درود شریف پڑھتا۔
تھوڑا ہی زمانہ گزرا تھا کہ بڑے بھائی کا سارا مال ختم ہو گیا اور چھوٹا بھائی بہت زیادہ مالدار ہو گیا۔
جب اس چھوٹے بھائی کی وفات ہوئی، تو صلحاء میں سے بعض نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو کوئی ضرورت ہو، اس کی قبر کے پاس بیٹھ کر اللہ تعالیٰ شانہ سے دعا کیا کرے۔ (فضائل درود شریف، ص ۱۶۹)
اس کے بعد لوگ دعا کرنے کے لیے اس بھائی کی قبر کے پاس آتے؛ یہاں تک کہ جو لوگ اپنی سواریوں پر اس کی قبر کے پاس سے گزرتے، وہ سواریوں سے اُتر جاتے اور ادب واحترام کی وجہ سے پیدل قبر تک جاتے۔ (رونق المجالس کما فی القول البدیع ص ۲۷۶)
يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّم دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ
Source: http://ihyaauddeen.co.za/?p=6162 & http://ihyaauddeen.co.za/?p=4047