عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ما من عبدين متحابين في الله يستقبل أحدهما صاحبه فيصافحه ويصليان على النبي صلى الله عليه وسلم إلا لم يفترقا حتى تغفر ذنوبهما ما تقدم منهما وما تأخر (مسند أبي يعلى الموصلي، الرقم: ۲۹٦٠، وفيه درست بن حمزة وهو ضعيف كما في مجمع الزوائد، الرقم: ۱۷۹۸۷)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دو ایسے مسلمان بندے جو صرف اللہ تعالیٰ کے واسطے آپس میں محبّت کرتے ہیں، جب وہ ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں تو وہ مصافحہ کرتے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں، تو وہ دونوں علیحدہ بھی نہیں ہوتے ہیں کہ ان کے اگلے پچھلے (صغیرہ) گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
جنّت کے لباس سے عزّت افزائی
حضرت سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ حضرت خلف رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ میرا ایک دوست تھا جو میرے ساتھ حدیث پڑھا کرتا تھا۔ اس کا انتقال ہو گیا۔
میں نے اس کو خواب میں دیکھا کہ وہ نئے سبز کپڑوں میں دوڑتا پِھر رہا ہے۔
میں نے اس سے کہا کہ تو حدیث پڑھنے میں تو ہمارے ساتھ تھا، پھر یہ اعزاز واکرام تیرا کس بات پر ہو رہا ہے؟
اس نے کہا:
حدیثیں تو میں تمارے ساتھ ہی لکھا کرتا تھا؛ لیکن جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک نام حدیث میں آتا، میں اس کے نیچے ”صلی اللہ علیہ وسلم“ لکھ دیتا تھا۔ اللہ جل شانہ نے اس کے بدلے میں میرا یہ اکرام فرمایا، جو تم دیکھ رہے ہو۔ (القربة لابن بشكوال صـ ۱۲۱، القول البديع صـ ٤۸٦)
يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّم دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ