حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اللہ عنہما) کا انتقال طائف میں ہوا۔ جب ہم ان کے جنازے میں شریک تھے تو ہم نے ایک عجیب و غریب پرندہ دیکھا—اس جیسا پرندہ پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا— وہ پرندہ آیا اور ان کے جنازے (کے تابوت) میں داخل ہو گیا، مگر کسی نے اس کو اس سے باہر نکلتے ہوئے نہیں دیکھا۔
ان کی تدفین کے بعد، قبر کے آس پاس ایک آواز سنائی دی جس سے درج ذیل آیات کی تلاوت کی آواز آرہی تھی:
(ترجمہ )
”اے ( اپنے رب سے ) مطمئن جان! اپنے رب کی طرف لوٹ آ، اس حال میں کہ تو اس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے! پس میرے بندوں میں شامل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا!“
یہ معلوم نہ ہو سکا کہ یہ آیات کس نے پڑھی تھیں۔ (المعجم الکبیر )
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી