بندوں پر اللہ تعالٰی کا حق

ذات مرة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لسيدنا معاذ رضي الله عنه: هل تدري ما حق الله على عباده؟

فقال سيدنا معاذ رضي الله عنه: الله ورسوله أعلم

فقال صلى الله عليه وسلم: حق الله على عباده أن يعبدوه ولا يشركوا به شيئا (أي: أن يؤدّوا جميع العبادات خالصةً لوجهه الكريم، وأن يظلّوا مطيعين له في جميع الأوقات، مع اجتناب معصيته) (من صحيح البخاري، الرقم: ٦٥٠٠)

ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ تعالٰی کا کیا حق ہے؟

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: بندوں پر اللہ تعالٰی کا حق یہ ہے کہ وہ اللہ تعالٰی کی عبادت کریں اور اللہ تعالٰی کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں (یعنی بندے تمام عبادتیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کریں، ہر وقت اس کی اطاعت کریں اور ہر وقت اس کی نافرمانی سے بچیں)۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا قریبی تعلق

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صرف کجاوا کی لکڑی حائل تھی (جو آگے بیٹھنے والے سوار اور پیچھے بیٹھنے والے سوار کے درمیان حائل ہوتی ہے)۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ اے معاذ! میں نے عرض کیا: لبّیک یا رسول اللہ! میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر کے لیے خاموش رہے اور سواری پر چلتے رہے۔ کچھ دیر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ مجھے مخاطب کر کے فرمایا: اے معاذ! میں نے عرض کیا: لبّیک یا رسول اللہ! میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔

تھوڑی دیر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تیسری مرتبہ مخاطب کر کے فرمایا کہ اے معاذ! میں نے عرض کیا: لبّیک یا رسول اللہ! میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ تعالٰی کا کیا حق ہے؟

میں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں (یعنی میں نہیں جانتا ہوں)۔

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: بندوں پر اللہ تعالٰی کا حق یہ ہے کہ وہ اللہ تعالٰی کی عبادت کریں اور اللہ تعالٰی کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں (یعنی اللہ تعالٰی کے بندے تمام عبادتیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کریں، ہر وقت اس کی اطاعت کریں اور ہر وقت اس کی نافرمانی سے بچیں)۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر کے لیے خاموش رہے اور سواری پر چلتے رہے۔ کچھ دیر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا: اے معاذ! میں نے عرض کیا: لبّیک یا رسول اللہ! میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اگر بندے اللہ کے احکام کو پورا کریں، تو اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے (یعنی اگر اللہ تعالٰی کے بندے تمام عبادتیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کریں، ہر وقت اس کی اطاعت کریں اور ہر وقت اس کی نافرمانی سے بچیں، تو اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟)۔

میں نے جواب دیا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں (یعنی میں نہیں جانتا ہوں)۔

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ اللہ تعالٰی انہیں عذاب نہ دیں اور اللہ تعالٰی انہیں جنت میں داخل کریں (یعنی اگر بندے ہر وقت اللہ تعالٰی کی اطاعت کریں اور اس کی نافرمانی سے بچیں، تو اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو عذاب نہیں دیں گے؛ بل کہ وہ انہیں اپنی خصوصی رحمت سے نوازیں گے اور انہیں جنت میں داخل کریں گے)۔

اس واقعہ سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انتہائی قریبی تعلق تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو مخاطب کیا، پھر خاموش رہے اور تھوڑی دیر کے بعد بات کی، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ ان کے اندر اس بات کو سننے کا شوق پیدا ہو جائے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے عرض کرنے والے تھے۔

چوں کہ جن باتوں کی تعلیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو دینا چاہتے تھے، وہ بہت ہی اہم اور ضروری باتیں تھیں؛ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے گفتگو کرنے میں یہ انداز اختیار فرمایا۔

اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی، تو انہوں نے انتہائی ادب واحترام کا لحاظ رکھا تھا۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو مخاطب فرمایا، تو انہوں نے ہر مرتبہ اسی درجے کا شوق ظاہر کر کے جواب دیا۔

(صحیح البخاری، الرقم: ۶۵۰۰ ؛ صحیح مسلم، الرقم: ۳۰ ؛ فتح الباری ۱۱/۳۳۹)

Check Also

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا نام رکھنا اور ان کی تحنیک کرنا

جب حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی ولادت ہوئی، تو ان کی …