
ابو مرثد کی سخاوت
ابو مرثد ایک مشہور سخی ہیں۔ ان کے پاس ایک شخص آیا اور کچھ اشعار ان کی تعریف میں پڑھے۔ (کریم کی مدح ہمیشہ صورتِ سوال ہوتی ہی ہے) انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس اس وقت تیرے دینے کے لیے بالکل کچھ نہیں ہے۔ ایک صورت ہو سکتی ہے کہ تُو قاضی کے یہاں جا کر مجھ پر دس ہزار کا دعویٰ کر دے۔ میں قاضی کے سامنے اس کا اقرار کر لوں گا (اور آدمی کا کسی سے وعدہ کر لینا بھی قرض ہی جیسا ہے۔ حضور صلی الله علیہ وسلم کا پاک ارشاد ہے: الْعِدَةُ دَيْنٌ: وعدہ قرض ہے)۔
قاضی تیرے قرضہ میں مجھے قید کر دےگا، تو پھر میرے گھر والے مجھے قید میں تو رہنے نہیں دیں گے، اتنی مقدار جمع کر دیں گے۔
اس نے ایسا ہی کیا۔ یہ قید ہو گئے اور شام تک دس ہزار قاضی صاحب کے حوالہ ہو کر یہ قید سے چھوٹ آئے اور وہ رقم اس شخص کو مل گئی۔ (فضائل صدقات، ص ٧٠٩-٧١٠)
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી