فضائلِ صدقات – ۳۱

حضرت لیث ابن سعد رحمہ اللہ کی سخاوت

ہارون الرشید رحمہ اللہ نے پانچ سو دینار (اشرفیاں) ایک مرتبہ حضرت امام مالک رحمہ اللہ کی نذر کیے۔ حضرت لیث ابن سعد رحمہ اللہ کو اس کا علم ہوا، تو انہوں نے ایک ہزار دینار حضرت امام مالک رحمہ اللہ کے پاس نذرانہ میں بھیجے۔

بادشاہ کو جب اس کا علم ہوا، تو وہ ناراض ہوا کہ تم رعایا ہو کر بادشاہ سے بڑھنا چاہتے ہو (گویا میری توہین مقصود ہے)۔ لیث رحمہ اللہ نے کہا: امیر المؤمنین! یہ بات نہیں ہے؛ بلکہ آج کل میری روزانہ کی آمدنی ایک ہزار دینار ہے۔ مجھے غیرت آئی کہ اتنے بڑے جلیل القدر امام کو میں نذرانہ پیش کروں اور اپنی ایک دن سے بھی کم کی آمدنی دوں۔

حضرت لیث رحمہ اللہ کا مستقل معمول بھی تھا کہ حضرت امام مالک رحمہ اللہ کی خدمت میں سو اشرفی سالانہ نذر پیش کیا کرتے تھے۔ ان کے علاوہ بھی نذرانے آتے رہتے تھے؛ لیکن اس کے باوجود اللہ کے فضل سے حضرت امام مالک رحمہ اللہ بسا اوقات مقروض رہتے تھے اور خود یہ حضرت لیث ابن سعد رحمہ اللہ مشہور محدثین اور علماء میں ہیں، جن کی روزانہ کی اس وقت آمدنی ایک ہزار دینار (اشرفیاں) تھی؛ مگر عُمر میں بھی ان کے ذمہ زکوۃ واجب نہیں ہوئی۔

مختلف زمانوں میں ان کی آمدنی مختلف رہی تھی اور ایسا ہوا ہی کرتا ہے کہ آمدنی کم وبیش ہوتی رہا کرتی ہے؛ لیکن زکوة کسی زمانہ میں بھی واجب نہ ہوئی کہ زکوۃ تو جب واجب ہو، جب کوئی جمع کر کے رکھے بھی۔

محمد بن رُمح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت لیث رحمہ اللہ کی سالانہ آمدنی ہر سال اتنی ہزار دینار تھے؛ مگر اللہ تعالیٰ نے کبھی ان پر ایک دِرَم کی زکوۃ واجب نہیں کی۔ خود ان کے بیٹے شعیب کہتے ہیں کہ میرے والد کی آمدنی میں پچیس ہزار (اشرفیاں) سالانہ تھی؛ مگر وہ ہمیشہ مقروض ہی رہتے تھے۔

ابتدا میں بیس پچیس ہزار ہوگی جس پر قرضہ ہوتا رہتا تھا۔ اس کے باوجود وہ سب کچھ اللہ کے راستہ میں خرچ کر دیتے تھے، اس وجہ سے اس کا بڑھنا ضروری تھا؛ اس لیے کسی وقت میں ایک ہزار روزانہ بھی ہو گیا۔

ایک عورت حضرت لیث رحمہ اللہ کے پاس ایک پیالی لے کر آئی کہ مجھے تھوڑے سے شہد کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کے پاس ہو، تو مرحمت فرما دیجیے۔ انہوں نے ایک مشک شہد کی اس کے حوالہ کر دی۔

کسی نے کہا کہ وہ تو تھوڑا سا مانگتی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ یہ اس کا فعل تھا کہ اس نے اپنی حاجت کے بقدر مانگا، مجھے اُس کے موافق دینا چاہیے تھا، جتنا میرے اللہ نے مجھ پر احسان فرما رکھا ہے۔

ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے ان کے ایک باغ کا پھل خریدا۔ اس میں خریداروں کو نقصان ہوا۔ ان کو اطلاع ہوئی، انہوں نے باغ کی بیع کا معاملہ فسخ کر دیا، ان کی قیمت واپس کر دی اور ان کو اپنے پاس سے پچاس دینار (اشرفیاں) نذر کیے۔

کسی نے پوچھا کہ یہ کس چیز کا تاوان دیا؟ فرمانے لگے کہ ان لوگوں نے میرے باغ سے نفع کی امید باندھی تھی، میرا دل چاہا کہ ان کی امید پوری کر دوں۔ (فضائل صدقات، ص ۷۱۱-۷۱۳)

Check Also

فضائلِ صدقات – ۳۳

حضرت سعید بن خالد اُمَوِی رحمہ اللہ کی سخاوت حضرت سعید بن خالد اُمَوِی رحمہ …