اللہ تعالی کی خاص مدد کا حصول

حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا:

جو کوئی اللہ کا تقویٰ اختیار کرے یعنی جذبات کو اوامرِ الہیہ کے تابع کر دے، تو پھر اللہ تعالیٰ اس کی تمام مشکلیں پردۂ غیب سے حل کرتے ہیں اور ایسے طریقوں سے اس کی مدد کرتے ہیں کہ خود اسے وہم وگمان بھی نہیں ہوتا۔

مَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ

اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نجات کی شکل نکلا دیتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق پہنچاتا ہے، جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ (از بیان القرآن)

اللہ کی خاص مدد حاصل کرنے کی یقینی اور شرطیہ تدبیر یہ ہے کہ اس کے دین کی مدد کی جائے۔

إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْ كُمْ

اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کروگے، تو وہ تمہاری مدد کرےگا۔ (از بیان القرآن)

اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو، تو ہلاک کرنے والی چیزیں تمہارے لیے زندگی اور راحت کا سامان بن جائیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جی جان سے اللہ کے دین کی مدد کی، تو اللہ نے آگ کو ان کے حق میں گُلزار بنا دیا۔

ایسے ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو اس دریا نے جس کی خاصیت ڈبونا ہے، سلامتی کے ساتھ ساحل تک پہنچا دیا۔  (ملفوظات حضرت مولانا الیاس رحمہ اللہ، ص ۹۹)

Check Also

دنیوی زندگی کا حال اور مرتبہ صرف خواب کی طرح ہے

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمہ الله نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: یہاں تو …