حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے علمِ دین کی اشاعت

لما دخل سيدنا علي رضي الله عنه الكوفة وشاهد علم أهلها، قال: أصحاب عبد الله سرج هذه القرية (في نشر علم الدين وإرشاد الناس) (الطبقات الكبرى ٦/٩٠)

جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کوفہ شہر میں داخل ہوئے اور وہاں کے رہنے والوں کے علم کو دیکھا، تو انہوں نے فرمایا:

عبد اللہ (بن مسعود) کے شاگرد اِس شہر کے چراغ ہیں (علمِ دین کی اشاعت اور اہلِ کوفہ کی رہنمائی کرنے میں)۔ (الطبقات الکبری ۶/۹۰)

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کے قرآن مجید کا علم

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد حضرت شقیق بن سلَمہ رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا۔

خطبہ کے دوران انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے قرآن کریم کی ستر سے زیادہ سورتیں براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی ہیں۔ میں اللہ کے نام پر قسم کھاتا ہوں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس بات سے واقف ہیں کہ میں قرآن کریم کے بارے میں ان سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ میں اپنے آپ کو ان سے بہتر نہیں سمجھتا ہوں۔

ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا: اگر مجھے کسی ایسے آدمی کے بارے میں معلوم ہوتا، جو (قرآن کریم کے بارے میں) مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہے، تو میں تحصیلِ علم کے لیے اس کے پاس جاتا۔

حضرت شقیق بن سلمہ رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ (اس خطبہ کے بعد) میں دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم کی مجلس میں جا کر بیٹھا؛ تاکہ میں سنوں کہ وہ (حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے خطبہ کے متعلق) کیا کہتے ہیں۔ میں نے  کسی سے نہیں سنا کہ وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بات کی تردید کر رہا ہے۔ (صحیح البخاری، الرقم: ۵۰۰۰ ؛ صحیح مسلم، الرقم: ۲۴۶۲ ؛ فتح الباری ۹/۴۸)

Check Also

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت

قال سيدنا عمرو بن العاص رضي الله عنه: سأحدثك برجلين (معينين) مات رسول الله صلى …