حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت

قال سيدنا عمرو بن العاص رضي الله عنه: سأحدثك برجلين (معينين) مات رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يحبهما عبد الله بن مسعود وعمار بن ياسر (مسند أحمد، الرقم: ١٧٨٠٧)

ایک موقع پر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے فرمایا کہ میں آپ کو دو مخصوص لوگوں کے بارے میں بتاتا ہوں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصی محبت تھی ، یہاں تک کہ آپ اس دنیا سے تشریف لے گئے۔  وہ دونوں : عمار بن یاسر اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں ۔ (مسند احمد 17807)

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے قرآن سنانے کی فرمائش

ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ بنی ظفر (انصار کا ایک قبیلہ) کے پاس تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے منبر پر بیٹھ کر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے  حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نہایت عاجزی کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول !  کیا میں آپ کے سامنے تلاوت کروں ، جب کہ آپ پر قرآن مجید نازل ہوا ہے ؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ مجھے کوئی اور شخص قرآن پڑھ کر سنائے ۔

اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے  سورہ نسا کی تلاوت شروع کی ۔ حضرت  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تلاوت  غور سے سنتے رہے ، یہاں تک کہ جب وہ سورہ نسا کی اکتالیسویں آیت پر پہنچے:

فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍۭ بِشَهِيدٍۢ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰٓؤُلَآءِ شَهِيدًۭا

“پھر کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ حاضر کریں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر پیش کریں گے؟”

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم اب تلاوت کرنا چھوڑ دو۔

جب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی طرف نگاہ اٹھائی تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک آنکھوں  آنسو جاری ہے ( اس عزت اور رفعت شان کو یاد کرکے جو اللہ تعالی آپ کو قیامت کے دن عطا فرمائیں گے ، جیسا کہ مذکورہ بالا آیت میں بیان کیا گیا یے ۔

Check Also

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبان سے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے عظیم علم کی ‏تعریف‎

في إحدى المرّات، سُئل سيّدنا عمر رضي الله عنه عن مسألة، وكان سيّدنا عبد الله …