باغِ محبت (قسط اٹھاسی)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی میراث

مشرکین اور کفار کے طریقوں کی مخالفت

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نمایاں خصوصیات میں سے مشرکین اور کفار کے طریقوں کی اس طرح مخالفت تھی کہ آپ ذرہ برابر بھی ان کے طریقوں کی طرف مائل نہیں ہوئے۔

اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان کی زندگی کے اس پہلو کی پیروی کریں اور اسلام کی اصلی پاکیزگی کو برقرار رکھنے کے لیے ان کی تقلید کریں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی مشرک قوم کو واضح اور دو ٹوک الفاظ میں فرمایا:
اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡکُمۡ وَ مِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ۫ کَفَرۡنَا بِکُمۡ وَ بَدَا بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃُ وَ الۡبَغۡضَآءُ اَبَدًا حَتّٰی تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَحۡدَہٗۤ .

ہم تجھ سے اور جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو اس سے بری ہیں۔ ہم نے تمہیں ٹھکرا دیا ہے۔ ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور عداوت پیدا ہو گئی ہے، یہاں تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان لے آؤ۔ (سورہ ممتحنہ آیت 4)

اسی طرح انہوں نے اپنے والد اور لوگوں سے رخصت ہوتے وقت صاف صاف فرمایا:

وَ اَعۡتَزِلُکُمۡ وَ مَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ

میں تم کو چھوڑ رہا ہوں اور ان کو بھی جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔ (سورہ مریم آیت 48)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ظلم سے بیزاری اور نفرت کا اظہار، نیز اہل کفر و شرک سے کلی علیحدگی، ان کے طریقوں کی مخالفت اور توحید کے اصولوں پر قائم رہنے کا یہ طریقہ اللہ تعالیٰ کو اس قدر محبوب تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے شریعت کا حصہ بنا دیا۔

2. حضرت نبی ابراہیم علیہ السلام کا قبلہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ وہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں۔
جہاں تک یہود و نصاریٰ کا معاملہ ہے تو انہیں نماز کے وقت بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ، نیز یہود و نصاری کے جد امجد حضرت ابراہیم ؑ کے قبلہ کو اس امت کا قبلہ بنایا۔

احادیث میں وارد ہے کہ یہود و نصاریٰ امت محمدیہ پر اللہ تعالیٰ کے بعض مخصوص احسانات و انعامات کی وجہ سے حسد کرتے ہیں۔ ان مخصوص انعامات میں اسلام کا قبلہ کعبہ شریف بھی ہے۔ (مسند احمد )

خانہ کعبہ کو دنیا میں اللہ کا پہلا گھر ہونے کا اعزاز حاصل ہے، جس کو حضرت آدم علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا، اس لیے یہ یہودیوں اور عیسائیوں کے قبلے سے بھی بڑا ہے۔

حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں سخت سیلاب آیا ۔ اس دوران خانہ کعبہ کا پورا ڈھانچہ آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کعبہ شریف کی تعمیر نو کے عظیم شرف سے نوازا۔

اس کے علاوہ جب خانہ کعبہ کو قبلہ بیت المقدس کے مخالف سمت میں دیکھا جاتا ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے سب سے بڑی فضیلت اور عظمت عطا کی ہے۔

خانہ کعبہ( پورے حرم) کے قرب و جوار میں ایک نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد میں ایک لاکھ نماز پڑھنے کے برابر ہے، جب کہ مسجد نبوی یا بیت المقدس ( یہودیوں اور عیسائیوں کا قبلہ ) میں ایک نماز پڑھنے کا ثواب ، دوسری مساجد میں پچاس ہزار نماز کے برابر ہے ۔ (سنن ابن ماجہ)

3. حج کے مناسک

جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو نماز میں نبی ابراہیم علیہ السلام کے قبلہ کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے ، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ حج کے مناسک کی ادائیگی میں نبی ابراہیم علیہ السلام اور ان کے اہل بیت کی پیروی کریں۔

حدیث شریف میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ تشریف لائے ، کعبہ کا طواف کیا اور پھر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی۔

ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کو منیٰ لے گئے جہاں آپ نے ظہر، عصر، مغرب، عشا اور اگلی صبح کی نماز فجر ادا کی۔

اس کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کو عرفہ لے گئے جہاں آپ نے ظہر اور عصر کی نمازیں ادا کیں اور غروب آفتاب تک وقوف (دعا، ذکر وغیرہ میں مشغولیت) کیا۔ غروب آفتاب کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ مزدلفہ کی طرف روانہ ہوئے جہاں انہوں نے رات گزاری۔

اگلی صبح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فجر کی نماز مختصر طور پر ( لمبی کیے بغیر) ادا کی، پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ منیٰ کی طرف روانہ ہوئے، جہاں انہوں نے جمرات کی رمی کی ، قربانی کا جانور ذبح کیا اور سر منڈوایا۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ’’حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملت کی پیروی کرو‘‘۔ (مصنف ابن ابی شیبہ )

اس لیے حاجی کا سفر مکہ مکرمہ ، بیت اللہ کا طواف ، سعی، منیٰ میں قیام، عرفہ اور مزدلفہ میں وقوف ، جمرات کی رمی، قربانی اور حلق یہ سارے اعمال حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تقلید میں ادا کیے جاتے ہیں۔

4. قربانی : حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تقلید

جس طرح حج کے مناسک حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تقلید میں ادا کیے جاتے ہیں، اسی طرح عید الاضحی کے موقع پر جو قربانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پیش کرتی ہے وہ بھی اللہ کے اس عظیم نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تقلید میں پیش کی جاتی ہے۔

حدیث شریف میں ہے کہ ایک موقع پر صحابہ کرام نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان قربانیوں ( عید کے موقع پر ان جانوروں کو ذبح کرنے) کی کیا اہمیت ہے؟ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ (سنن ابن ماجہ )

5. ختنہ کی سنت

ہمیں دین میں ختنہ کی سنت پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ دنیا میں سب سے پہلے جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے ختنہ کا حکم دیا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔ (موطا مالک)

اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اسّی سال کی عمر میں ختنہ کا حکم دیا تھا ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل میں اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی اتنی تڑپ تھی کہ انہوں نے فورا اللہ کے حکم پر عمل کیا۔ (صحیح بخاری)

Check Also

باغِ محبت (قسط نواسی)

حضرت ابراہیم علیہ السلام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فوقیت قرآن مجید …