حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعتماد

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو كنت مؤمرا أحدا (على جيش) من غير مشورة (الصحابة، عند صعوبة جمعهم للمشاورة) لأمرت عليهم ابن أم عبد (عبد الله بن مسعود رضي الله عنه وذلك لأن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان على ثقة تامّة بكفاءة سيدنا عبد الله بن مسعود رضي الله عنه وأهليّته للقيادة). (سنن الترمذي، الرقم: 3808)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میرے لیے صحابہ کو جمع کرنا اور ان سے مشورہ کرنا دشوار ہو ، اور مجھے (صحابہ کرام سے ) مشورہ کیے بغیر کسی شخص کو (فوج کا) سربراہ مقرر کرنا پڑے ، تو میں ابن امّ عبد (عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کو فوج کا سربراہ مقرر کروں گا۔ یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سربراہ بننے کی صلاحیت کا پختہ یقین تھا ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بہادری

جنگ حنین میں مسلمانوں کو عارضی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مشکل گھڑی میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں شامل تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت قدم رہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

میں غزوہ حنین کے دن اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا جب مسلمان میدان جنگ سے بھاگنے لگے۔ تاہم مہاجرین اور انصار میں سے اسّی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت قدم رہے، ہم تھوڑا ( تقریبا اسی قدم ) پیچھے ہٹے، لیکن دشمن کی طرف پیٹھ نہیں پھیری ۔ یہ وہ مومنین تھے جن پر اللہ تعالیٰ نے سکینہ (میدان جنگ میں سکون) نازل کیا۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مزید بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر بیٹھے ہوئے تھے اور اس کو دشمن کی طرف بڑھا رہے تھے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خچر پریشان ہو کر دوسری طرف مڑ گیا، جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑا سا زین کے ایک طرف جھک گئے۔ یہ دیکھ کر مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سواری سے گرنے کا اندیشہ ہوا ، لہذا میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) اپنے آپ کو مضبوطی سے (زین پر) تھامیے ۔ اللہ آپ کو بلند رکھے!

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مجھے ایک مٹھی مٹی دو، میں نے مٹی دی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان کے چہروں (دشمن کے چہروں) کی طرف پھینکی۔اللہ تعالیٰ نے دشمن کی آنکھیں اس مٹی سے بھر دیں۔
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: مہاجرین اور انصار کہاں ہیں؟میں نے جواب دیا: وہ وہاں (میدان جنگ میں) موجود ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو پکارو ۔
چناں چہ میں نے انہیں پکارا، اور وہ اپنے دائیں ہاتھ میں ستاروں کی طرح چمکتی ہوئی تلواریں اٹھائے ہوئے آئے۔ یہ دیکھ کر مشرکین نے پیٹھ پھیر لی اور (میدان جنگ سے) بھاگ گئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو فتح نصیب فرمائی۔

Check Also

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قرب‎ ‎

عن سيدنا أبي موسى الأشعري رضي الله عنه أنه قال: قدمت أنا وأخي من اليمن …