باغِ محبت (قسط چوراسی)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانیاں

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مختلف آزمائشوں اور فتنوں سے آزمایا تھا اور آپ ہمیشہ ہر امتحان اور آزمائش میں اسلام کے اعلی ترین درجے ( مکمل اطاعت اور فرماں برداری ) کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرخ رو اور کامیاب رہے ۔

خلاصہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کی رضا کے لیے جو عظیم قربانیاں دیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ  اپنے دل، دماغ، جسم اور ساری زندگی کو اللہ رب العزت کے حکم کے آگے  جھکا کر اسلام کی اصل روح کا مجسم نمونہ تھے ، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ہر موقع پر اللہ تعالٰی کے حکم کو اس طرح بجالایا جس طرح ان سے مطالبہ کیا گیا تھا ۔

اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر اس راستے کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا راستہ بتایا ہے۔

 گھر چھوڑنے کی آزمائش

سب سے پہلی قربانی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کی رضا کے لیے دی تھی ،  وہ  اپنا گھر اور شہر چھوڑنے کی قربانی تھی۔

ان کے والد اور ان کے قبیلے کے افراد شرک اور کفر میں مبتلا بت پرست لوگ تھے ۔ درحقیقت، ان کے والد ایک بت ساز تھے، اور ان کا گھر بت سازی کا کارخانہ تھا جس کے ذریعے بت سازی کی صنعت کو ترقی حاصل ہوئی ۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے والد کے پاس گئے اور محبت اور احترام کے ساتھ اپنے والد کو بت پرستی سے توبہ کرنے اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دی ۔

دعوت (ایمان کی دعوت) کے الہامی الفاظ جو اس موقع پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہے ، وہ قرآن مجید میں نقل کیے گئے  ہیں۔ انہوں نے اپنے والد سے جو الفاظ کہے ان میں درج ذیل الفاظ تھے: ‏

یٰۤأَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا

اے میرے پیارے والد ! آپ اس (بت) کو کیوں پوجتے ہیں ، جو نہ سن سکتا ہے، نہ دیکھ سکتا ہے اور نہ آپ کو کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے؟

مگر  ان کے والد نے عقل و خرد  کی آواز سننے کے بجائے غصے میں  جواب دیا:

أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ ۖ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ ۖ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا

اے ابراہیم ! کیا تو میرے معبودوں سے اعراض کررہا ہے؟ اگر تو ( اپنی حرکت سے ) باز نہ آیا ( اور میرے بتوں کے خلاف بولتا رہا) تو میں تجھے ضرور سنگسار کروں گا اور تم مجھ سے لمبی مدت تک دور رہو ۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد اور ان کے خاندان کے افراد   اسلام کے مخالف تھے۔ اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری کوشش  اور محنت کے باوجود وہ لوگ اپنی غلطیوں سے باز آنے ، اپنی حالت کی اصلاح  اور دین اسلام قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے ۔

اسی وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے خاندان اور گھر بار کو چھوڑ کر نکل گئے ، کیوں کہ وہاں  کفر و شرک کا ماحول تھا۔

 آبائی وطن کو  چھوڑنے کی آزمائش

اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا۔ انہوں نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا:

مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ

یہ کیا بت ہیں جن کے آگے  تم دھرنا دیئے بیٹھے ہو؟

ان کی قوم نے بتوں کی پوجا کو یہ کہتے ہوئے جائز قرار دینے کی کوشش کی، “ہم نے اپنے آباؤ و اجداد کو ان کی پوجا کرتے ہوئے پایا۔” حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں بتایا کہ ان کے آباء و اجداد گمراہ تھے اور آپ نے انہیں اللہ کی طرف بلایا اور

فرمایا:

بَل رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ وَأَنَا عَلَىٰ ذَٰلِكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ

(نہیں!) بل کہ تمہارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے، جس نے انہیں پیدا کیا ہے، اور میں اس کی گواہی دینے والوں میں سے ہوں!

مگر ان کی قوم  اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہی اور اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا. اس لیے بعد میں جب ان کی قوم اپنے تہوار میں مشغول ہو گئی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے بتوں کے پاس گئے اور انہیں توڑنا شروع کر دیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صرف سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا اور اس کے گلے میں کلہاڑی لٹکا دی۔

جب لوگ اپنے تہوار سے واپس آئے اور اپنے  بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے ہوتے دیکھا تو وہ غصے میں آگئے۔ انہیں شبہ تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی نے  ان کے بتوں کو توڑا ہے ، لہذا  انہوں نے انہیں بلوایا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف لائے اور تمام لوگوں کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا کہ اے ابراہیم کیا تم نے ہمارے معبودوں کے ساتھ ایسا کیا؟

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دیکھ کر کہ تمام لوگ موجود ہیں،  فوراً موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں اسلام کی دعوت دی اور ثابت کیا کہ ان کے بت بے کار اور بے بس  ہیں جو نہ کچھ کر سکتے ہیں اور نہ کسی کی مدد کر سکتے ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بات کو مضبوطی سے پیش کرتے ہوئے  سب سے بڑے بت کی طرف اشارہ کیا، جس کی گردن میں کلہاڑی تھی، اور کہا : نہیں، بل کہ اس نے جو ان میں سے سب سے بڑا ہے، ایسا کیا ہے ، تم ان سے پوچھو، اگر وہ بول سکتے ہیں۔”

ناقابل تردید حقیقت کا سامنا کرتے ہوئے لوگ یہ تسلیم کرنے  پر مجبور ہوگئے  کہ ان کے بت بے کار اور بے جان ہیں اور انہیں شکست تسلیم کرتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ بت بولنے سے قاصر ہیں! اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی دلیل کو ختم کرتے ہوئے فرمایا:

أَفَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكُمْ شَيْئًا وَلَا يَضُرُّكُمْ أُفٍّ لَّكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

تو کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں؟ اف ہے تم پر اور ان پر جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو! کیا تم نہیں سمجھتے؟

ان لوگوں کے سامنے ان کی غلطی ظاہر ہوگئی ، اس کے باوجود ان کی قوم نے اللہ پر ایمان لانے سے انکار کردیا۔

اس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے آبائی شہر اور ایسے لوگوں سے دور ہو گئے جو اللہ تعالی کی وحدانیت پر ایمان پر لانے کے  لیے تیار نہیں تھے۔

Check Also

باغِ محبت (قسط تراسی)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا راستہ – عقل مندی کا راستہ قرآن مجید میں اللہ …