باغِ محبت (قسط تراسی)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا راستہ – عقل مندی کا راستہ

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بیان کردیا ہے کہ جو شخص حضرت ابراہیم علیہ السلام کے راستے سے منہ موڑ کر کسی اور راستے پر چلے گا ، وہ درحقیقت احمق ہے جو جہالت کے راستے پر چل رہا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ‏

وَ مَنۡ یَّرۡغَبُ عَنۡ مِّلَّۃِ  اِبۡرٰہٖمَ  اِلَّا مَنۡ سَفِہَ نَفۡسَہٗ ؕ وَ لَقَدِ اصۡطَفَیۡنٰہُ فِی الدُّنۡیَا ۚ وَ اِنَّہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ  لَمِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۳۰﴾ ‏

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے راستے سے کون اعراض کرسکتا ہے سوائے اس کے جس نے اپنے آپ کو بیوقوفی میں ڈالا ہو۔ بے شک ہم نے اسے دنیا میں  چنا ہے اور وہ آخرت میں  یقیناً نیک لوگوں میں سے ہو ں گے ۔ (سورہ بقرہ:آیت 130)

اس آیت سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے راستے سے روگردانی کرنے والے کو احمق قرار دیا گیا ہے تو وہ شخص جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے راستے پر چلتا ہے ، وہ عقلمند ہے جو ہدایت کے راستے پر چل رہا ہے۔

کسی کے ذہن میں یہ آسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ کیوں اعلان فرما رہے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا راستہ عقل کا راستہ ہے اور جو راستہ ان کے راستے کے مخالف ہے وہ حماقت اور جہالت کا راستہ ہے۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا راستہ اسلام کا راستہ ہے۔ اسلام کا راستہ اللہ کی اطاعت اور ہر وقت اس کی وفاداری  کا درس دیتا ہے، جب کہ اس راستے کی مخالفت کرنے والا راستہ کفر کا راستہ ہے یعنی شیطان کا راستہ ہے  جو انسان کو اللہ کی نافرمانی کی تعلیم دیتا ہے۔

زندگی میں دو راستے

اس دنیا میں آنے والے ہر انسان کے سامنے دو راستے ہیں۔ پہلا راستہ اطاعت کا راستہ ہے اور دوسرا راستہ نافرمانی کا ہے۔

انبیاء علیہم السلام کو انسانوں کی طرف اس لیے بھیجا گیا تھا کہ وہ انہیں بتائیں کہ اطاعت کے راستے پر کیسے چلنا ہے اور معصیت کے راستے سے کیسے بچنا ہے۔

لہٰذا اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں یعنی انبیاء کا راستہ اطاعت کا راستہ ہے۔

اس راستے کو عقل کا راستہ اس لیے سمجھا جاتا ہے کہ یہ انسان کو اپنے خالق کی معرفت ، اسے ہر وقت راضی کرنا، اس کی تمام نعمتوں پر اس کا شکر گزار ہونا اور اس کے حقوق کے ساتھ ساتھ اس کی تمام مخلوقات کے حقوق کی ادائیگی کا درس دیتا ہے۔

جو شخص  پاکیزہ اور بامقصد زندگی گزارتا ہے اور اسلام کے حقیقی اخلاق و اقدار کو اپناتا ہے، تو یقیناً اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو ں گے اور وہ پوری انسانیت کے لیے خیر اور رحمت کا باعث بنے گا۔

لہٰذا، اللہ تعالیٰ نے دلیل کے ذریعے اسلام کے  راستے کو یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے راستے کو عقل مندی کا راستہ کہا ہے ، کیوں کہ یہ جنت اور ابدی کامیابی کی طرف لے جائے گا۔

اس کے برعکس جو شخص اس راستے کو چھوڑ کر معصیت کے راستہ پر چلتا ہے تو ایسا شخص گناہ اور سرکشی کی زندگی گزارنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے غضب کا مستحق بنتا ہے ۔

ایسا شخص نہ اللہ کے حقوق کی پاسداری کرے گا اور نہ ہی مخلوق کے حقوق کو ادا کرے گا ۔ اس  زندگی بہت تباہ کن اور نقصان دہ ہو گی اس کے  لیے اور دوسروں کے لیے بھی ۔

اس لیے اللہ تعالیٰ اس قسم کی زندگی کو حماقت اور جہالت کی زندگی قرار دیتا ہے ، کیوں کہ یہ جہنم اور ابدی مصیبت کی طرف لے جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ اس راستے کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا راستہ کیوں کہتے ہیں؟

اب تک ہم یہ سمجھ چکے ہیں کہ انسان کی زندگی میں دو راستے ہیں جن پر وہ چل سکتا ہے۔

پہلا راستہ نبی ابراہیم کا راستہ ہے – اسلام کا راستہ (یعنی مکمل اطاعت، فرماں برداری اور اللہ کے حکم کی مکمل تعمیل کا راستہ) اور دوسرا راستہ حماقت اور جہالت کا راستہ ہے  وہ راستہ جو نبی ابراہیم کے راستے کے مخالف ہے۔

تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے اس راستے کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا راستہ کیوں کہا ہے، جب کہ یہ وہ راستہ ہے  جو دنیا میں آنے والے تمام انبیاء علیہم السلام نے اختیار کیا تھا۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ تمام انبیاء میں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سب سے منفرد اور خوبصورت انداز میں اسلام کو پیش کیا۔

اس فانی دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے بھی انہوں نے اپنے بچوں کو نصیحت کی کہ وہ آخری سانس تک اس راستے یعنی اسلام کے راستے کو مضبوطی سے تھامے رہیں گے ۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ کو نقل کیا ہے جن کے ذریعے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بچوں کو مخاطب کیا:

یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰی لَکُمُ الدِّیۡنَ فَلَا تَمُوۡتُنَّ  اِلَّا وَ اَنۡتُمۡ  مُّسۡلِمُوۡنَ

اے میرے بچو! بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے دین (اسلام کا) انتخاب کیا ہے، لہٰذا اس بات کو  یقینی بناؤ کہ تم مسلمان ہونے کی حالت ہی میں مروگے ۔ (سورہ بقرہ:آیت 132)

Check Also

باغِ محبت (قسط بیاسی)

“خلیل اللہ” کے لقب سے شرف یاب ہونا تمام انبیائے کرام علیہم السلام میں سے …