رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرا ئت کی ‏تعریف‎ ‎

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من سره أن يقرأ القرآن رطبا كما أنزل فليقرأه على قراءة ابن أم عبد (عبد الله بن مسعود) (مسند أبي يعلى، الرقم: ١٩٤)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جو شخص قرآن مجید کو اس طرح پڑھنا چاہے، جس طرح وہ (اللہ تعالٰی کی طرف سے) نازل ہوا ہے، تو اسے چاہیئے کہ وہ قرآن مجید کو اس طرح پڑھے، جس طرح عبد اللہ بن مسعود پڑھتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تلاوت کی تعریف

ایک مرتبہ حضرت عمر رضی الله عنہ نے مندرجہ ذیل واقعہ سنایا:

عشاء کی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر رضی الله عنہ کے ساتھ مسلمانوں کے معاملات کے بارے میں گفتگو فرماتے تھے اور مشورہ کرتے تھے۔

ایک دفعہ عشاء کی نماز کے بعد جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم حضرت ابو بکر رضی الله عنہ کے ساتھ مشورہ کر رہے تھے (مسلمانوں کے معاملات کے بارے میں)، تو میں اس وقت ان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ جب مشورہ پورا ہوا، تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور حضرت ابو بکر رضی الله عنہ کے گھر سے نکلے اور ہم بھی آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ چلے۔

چلتے ہوئے ہم مسجد کے پاس سے گزرے، تو ہم نے مسجد سے ایک صحابی کی آواز سنی، جو نماز میں قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اس صحابی کی تلاوت سننے کے لیے رک گئے۔ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ وہ صحابی کون تھا، جو تلاوت کر رہے تھے؛ یہاں تک کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا:

من سره أن يقرأ القرآن رطبا كما أنزل فليقرأه على قراءة ابن أم عبد

جو شخص قرآن مجید کو اس طرح پڑھنا چاہے، جس طرح وہ (الله تعالٰی کی طرف سے) نازل ہوا ہے، تو اسے چاہیئے کہ وہ قرآن مجید کو اس طرح پڑھے، جس طرح عبد اللہ بن مسعود پڑھتے ہیں۔

اس کے بعد حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنہ نماز کو پورا کیا اور بیٹھ گئے۔ اس کے بعد وہ دعا میں مشغول ہو گئے۔ جب انہوں نے دعا شروع کی، تو انہوں نے پہلے الله تعالیٰ کی حمد وثنا کی، پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھا اور پھر الله تعالیٰ سے اپنی حاجتیں مانگنے لگے۔ انہوں نے جس انداز میں دعا کی (یعنی پہلے الله تعالی کی حمد وثنا کرنا، پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنا اور پھر الله تعالیٰ سے اپنی حاجتیں مانگنا)، اس کو سن کر آپ صلی الله علیہ وسلم خوش ہوئے اور دو بار فرمایا کہ تم جو چاہو، مانگو! جو بھی مانگو، تم کو ضرور ملےگا۔

حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنہ نے نبی صلی الله علیہ وسلم کا وہ کلام نہیں سنا، جو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کی تلاوت کی تعریف کی اور الله تعالیٰ کی طرف سے ان کی دعا کے قبول ہونے کی بشارت دی۔

لہذا حضرت عمر رضی الله عنہ نے اپنے دل میں سوچا کہ کل صبح میں ضرور ان کے پاس جاؤں گا اور ان کو اس چیز کی بشارت دوں گا، جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا۔

اگلی صبح حضرت عمر رضی الله عنہ ان کو خوش خبری دینے کے لیے ان کے پاس گئے؛ لیکن جب حضرت عمر رضی الله عنہ ان کے گھر پہنچے، تو انہوں نے دیکھا کہ حضرت ابو بکر رضی الله عنہ حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنہ کے گھر سے نکل رہے تھے۔ حضرت ابو بکر کے چلے جانے کے بعد حضرت عمر رضی الله عنہ حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنہ کے گھر میں داخل ہوئے اور انہیں وہ خوش خبری سنائی، تو حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنہ نے ان سے کہا کہ حضرت ابو بکر رضی الله عنہ نے مجھے ابھی ابھی اطلاع دی ہے (یعنی آپ کے آنے سے پہلے)۔

یہ سن کر حضرت عمر رضی الله عنہ نے فرمایا کہ الله تعالی ابو بکر پر اپنی خاص رحمت نازل فرمائے! نیک کاموں میں جب بھی میں ان سے مقابلہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں، تو وہ ہمیشہ مجھ سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔

بعض روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابو بکر رضی الله عنہ نے حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنہ سے یہ سوال بھی کیا کہ وہ رات میں کیا دعا کر رہے تھے؟

حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنہ نے ان سے کہا کہ میں نے رات میں یہ دعا کی تھی:

اللهم إني أسألك إيمانًا لا يرتد، ونعيمًا لا ينفد، ومرافقة محمد في أعلى جنة الخلد

اے الله! میں آپ سے دعا کرتا ہوں کہ آپ مجھے ایسا ایمان عطا فرمائیں، جس کے بعد لوٹنا نہ ہو اور مجھے ایسی نعمتوں سے نوازیں، جو کبھی ختم نہ ہوں اور مجھے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی معیت عطا فرمائیں ہمیشہ رہنے والی جنت کے اعلیٰ درجہ میں۔

حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنہ نے اس رات میں یہ دعا بھی کی تھی:

اللهم لا إله إلا أنت، وعدك حق، ولقاؤك حق، وكتابك حق، والنبيون حق، ومحمد – صلى الله عليه وسلم – حق، والجنة حق، والنار حق، ورسلك حق

اے الله! تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ تیرا وعدہ سچا ہے۔ (آخرت میں) تجھ سے ہماری ملاقات حق ہے۔ تیری کتاب (یعنی قرآن مجید) حق ہے۔ تمام انبیاء علیہم السلام حق ہیں۔ محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم حق ہیں۔ جنت حق ہے۔ جہنم حق ہے اور تیرے تمام انبیاء اور رسل حق ہیں۔

(مسند ابی یعلی، الرقم: ۱۹۴ ؛ مسند احمد، الرقم: ۴۳۳۸ ؛ سنن الترمذی، الرقم: ۵۹۳ ؛ مجمع الزوائد،الرقم: ۱۵۵۵۱، ۱۵۵۵۷)

Check Also

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعتماد

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو كنت مؤمرا أحدا (على جيش) من غير …