قال سيدنا علي رضي الله عنه عن سيدنا أبي ذر رضي الله عنه: وعى علما عجز فيه (عجز الناس عنه) (طبقات ابن سعد ٢/٣٥٤)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا:
انہوں نے ایسا علم حاصل کیا، جسے دوسرے لوگ حاصل نہیں کر سکتے تھے۔
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی اپنے خادم کو تنبیہ
ایک مرتبہ قبیلہ بنو سلیم کا ایک شخص حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے درخواست کی کہ میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں تاکہ آپ کے علم ( احکام الٰہی اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کامل واقفیت ) سے استفادہ کر سکوں ، نیز میں آپ کے اونٹوں کی دیکھ بھال میں آپ کے خادم کا تعاون کروں گا۔
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں ایسے شخص کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا جو میری اطاعت نہ کرے ، لیکن اگر تم ہمیشہ وہی کرو گے جو میں تمہیں ہدایت دوں گا ، تو تم میرے ساتھ رہ سکتے ہو ورنہ تم میرے ساتھ نہیں رہ سکتے۔
اس شخص نے پوچھا، “آپ کن امور میں اپنی اطاعت پسند کریں گے؟”
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ جب میں تم کو اپنے مال میں سے خرچ کرنے کا حکم دوں ، تو تم اس میں سے بہترین مال خرچ کرنا ۔
اس شخص کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی شرط قبول کی اور ان کے ساتھ رہنے لگا ۔
ایک دن ایک شخص نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کچھ غریب لوگ چشمے کے قریب پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں جنہیں کھانا چاہیے ۔ تو انہوں نے (ابو ذر رضی اللہ عنہ نے ) مجھ سے اونٹ لانے کو کہا۔ میں گیا اور اونٹ کے ریوڑ میں سے بہترین اونٹ منتخب کرنا چاہا ، جیسا کہ میں نے وعدہ کیا تھا۔ وہ اونٹ بہت ہی اچھا ، فرمانبردار اور سواری کے لیے شاندار جانور تھا، اس لیے میں نے اس کو چھوڑ دیا اور دوسرے بہترین جانور کا انتخاب کیا۔ کیوں کہ اس کو ذبح کر کے کھانا ہی تھا اور اس مقصد کے لیے یہ جانور بھی اتنا ہی اچھا تھا جتنا پہلا جانور ۔ جہاں تک سواری کی بات تھی تو پہلا جانور سواری کے لیے بہت اچھا تھا اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والوں کے لیے بہت زیادہ مفید تھا ، چناں چہ میں دوسرا اونٹ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گیا۔
انہوں نے مجھے چیختے ہوئے کہا، “تم نے اپنا وعدہ توڑا ہے!” میں اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ گیا لہذا میں واپس گیا اور اس کی جگہ بہترین اونٹ لے آیا۔
اس کے بعد آپ (ابو ذر رضی اللہ عنہ) نے اپنے اردگرد بیٹھے ہوئے لوگوں سے کہا کہ مجھے دو آدمیوں کی ضرورت ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے ایک کام کریں ۔
چناں چہ دو آدمی آگے آئے۔ انہوں نے ان سے کہا کہ جاؤ، اونٹ ذبح کرو اور اس کا گوشت چشمے کے قریب پڑاؤ ڈالنے والے لوگوں اور میرے خاندان میں تقسیم کر دو۔ تاکہ میرے خاندان کے لوگ بھی اس تقسیم میں باقی لوگوں کے ساتھ برابر کے حصہ دار ہوجائیں ۔ ان دونوں آدمیوں نے ان کے حکم پر عمل کیا۔
گوشت کی تقسیم کے بعد، انہوں نے مجھے بلایا اور مجھ سے کہا، “کیا تم نے جان بوجھ کر میری ہدایت ( بہترین مال خرچ کرنے کے حکم ) کو نظر انداز کیا یا تم میری ہدایت کو بھول گئے؟ اس صورت میں، میں تمہاری غلطی کی معاف کردوں گا۔”
میں نے جواب دیا : “میں آپ کی ہدایات کو نہیں بھولا، لیکن میں نے سوچا کہ آپ کے لیے بہترین اونٹ کو سواری کے لیے چھوڑ دینا بہتر ہے، جب کہ دوسرا اونٹ کھانے کے لیے اتنا ہی اچھا تھا۔”
ابو ذر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا تم نے صرف میری ذاتی ضرورت کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا؟ میں نے جواب دیا : ہاں۔
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے پھر مجھے نصیحت کی کہ آؤ میں تمہیں اپنی ضرورت کا موقع بتاؤں، میں اس دن ضرورت مند ہوں گا جب میں قبر کے اندھیرے میں تنہا رہ جاؤں گا۔ یاد رکھو تمہارے مال میں تین شرکاء ہیں:
سب سے پہلے، تمہارا مقدر جو اپنا حصہ لینے کا انتظار نہیں کرتا، اس کو جو کچھ لینا ہے ، وہ لے کر جائے گا چاہے وہ مال اچھا ہو یا خراب۔
دوسرے، آپ کے وارث ، جو آپ کی موت کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں، تاکہ وہ اپنا حصہ لے سکیں۔
تیسرے، آپ خود ، اگر ممکن ہو ، تو آپ ان تین شراکت داروں میں سب سے زیادہ بے بس اور عاجز نہ بنیں ۔ جہاں تک ہوسکے ، اپنا پورا حصہ وصول کریں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ
’’تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پہنچ سکتے ، جب تک کہ تم اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے خرچ نہ کرو۔‘‘ (سورہ آل عمران آیت 92)
اس لیے میں بہتر سمجھتا ہوں کہ جو چیزیں مجھے پسند ہیں وہ پہلے ہی (آخرت میں) بھیج دوں، تاکہ وہ میرے لیے وہاں محفوظ رہیں۔
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી