
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أحب أن ينظر إلى المسيح عيسى ابن مريم إلى بره وصدقه وجده (اجتهاده في العبادة) فلينظر إلى أبي ذر (لأنه يملك من الصفات ما يجعله مشابها لسيدنا عيسى عليه السلام) (مجمع الزوائد، الرقم: ١٥٨١٧)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جو آدمی چاہتا ہے کہ وہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو دیکھے اپنی نیکیوں میں، اپنی سچائی میں اور اپنی عبادت کے مجاہدہ میں، تو اس کو چاہیئے کہ وہ ابو ذر کو دیکھے؛ (کیوں کہ ابو ذر کے اندر ایسی صفات ہیں، جو نبی عیسی علیہ السلام کی صفات کے مشابہ ہیں)۔
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا زہد
حضرت ابو ذر غفاری رضی الله تعالیٰ عنہ ایک ایسے صحابی تھے، جو اپنی ظاہری شکل وصورت اور صفاتِ حسنہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مشابہت رکھتے تھے۔
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی چاہتا ہے کہ وہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو دیکھے اپنی نیکیوں میں، اپنی سچائی میں اور اپنی عبادت کے مجاہدہ میں، تو اس کو چاہیے کہ وہ ابو ذر کو دیکھے۔ (مجمع الزوائد، الرقم: ۱۵۸۱۷)
اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی ایسے شخص کو دیکھنا چاہے، جو جسمانی شکل وصورت اور صفات میں عیسیٰ علیہ السلام سے مشابہت رکھتا ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ ابو ذر کو دیکھے۔ (مجمع الزوائد، الرقم: ۱۵۸۲۰)
حضرت ابو ذر رضی الله عنہ کی اچھی صفات اور خوبیوں میں سے ایک نمایاں صفت یہ تھی کہ وہ پرہیزگاری اور دنیا سے بے رغبتی کے اعلی مقام پر فائز تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد، انہوں نے اپنی زندگی اس طرح گزاری کہ وہ دنیا سے بے رغبتی اور زہد میں انبیاء علیہم السلام کے مشابہ تھے۔ آپ کی پوری توجہ آخرت اور الله تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے تھی۔
حضرت ابو ذر رضی الله عنہ کے اندر یہ ساری خوبیاں آپ صلی الله علیہ وسلم کی مبارک صحبت میں رہنے کی وجہ سے پیدا ہوئیں؛ جب کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے ان کے اندر مال ودولت کی اس قدر محبت تھی کہ وہ دولت کے حصول کے لیے قافلوں کو لوٹتے تھے۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو ذر رضی الله عنہ کے دل سے مال کی محبت اس وجہ سے نکل گئی کہ انہوں نے ان لوگوں کے متعلق رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی سخت وعیدوں کو سنا، جو الله تعالیٰ کے عطا کردہ مال کے حقوق ادا نہیں کرتے اور زکوٰۃ نہیں دیتے۔ اسی طرح انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی زہد والی زندگی کو دیکھا، تو انہوں نے زہد والی زندگی کو ترجیح دی۔
ایک مرتبہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کعبہ شریف کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت ابو ذر رضی الله عنہ مسجد میں داخل ہوئے۔ اس وقت انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رب کعبہ کی قسم! وہ لوگ بڑے خسارے میں ہیں (اور ان کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے)۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس وعید کو دو بار فرمایا۔
حضرت ابو ذر رضی الله عنہ بہت پریشان ہوئے اور اپنے آپ سے کہا کہ کیا میرے بارے میں کوئی آیت نازل ہوئی ہے (جس کی وجہ سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے)؟ چناں چہ وہ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے؛ جب کہ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: رب کعبہ کی قسم! وہ لوگ بڑے خسارے میں ہیں (اور ان کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے)۔
حضرت ابو ذر رضی الله عنہ نے عرض کیا: یا رسول الله! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! یہ وعید کس کے لیے ہے؟ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وعید ان لوگوں کے لیے ہے، جو مال جمع کرتے ہیں۔ وہ لوگ خسارے میں ہیں (اور ان کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے) سوائے ان لوگوں کے، جو اپنے دائیں، بائیں، آگے اور پیچھے (مال کا حق ادا کرتے ہوئے) صدقہ کرتے ہیں۔
دوسرے لفظوں میں: وہ لوگ جو مال کا حق ادا کرتے ہیں، غریبوں کو زکوٰۃ دیتے ہیں اور مال سے متعلق اپنی دوسری ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہیں (مثلاً: اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنا، قرض ادا کرنا وغیرہ)، تو ایسے لوگوں کے لیے مال جہنم کی آگ میں داخل ہونے کا ذریعہ نہیں بنےگا اور اس کی وجہ سے ان کو عذاب نہیں دیا جائےگا۔
اسی طرح ایک اور موقع پر حضرت ابو ذر رضی الله عنہ مدینہ منورہ میں اُحد پہاڑ کے قریب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے۔ مغرب کا وقت تھا اور سورج غروب ہونے والے تھا۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حضرت ابو ذر رضی الله عنہ سے مخاطب ہو کر فرمایا: اے ابو ذر! اُحد کا پہاڑ جو ہمارے سامنے ہے، اگر الله تعالیٰ اس پہاڑ کو میرے لیے سونے میں بدل دے، تو بھی میں اس سونے کو تین راتوں تک اپنے پاس نہیں رکھوں گا؛ یہاں تک کہ میں اس کو غریبوں پر خرچ کر دوں، سوائے ایک دینار کے، جس سے میں قرض دار کا قرض ادا کر دوں۔ (صحیح بخاری، الرقم: ۶۴۴۴)
کیوں کہ حضرت ابو ذر رضی الله عنہ نے رسولِ اکرم صلی الله علیہ وسلم کی زندگی کو دیکھا، جو زہد اور دنیا سے بے رغبتی سے بھری ہوئی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے اُن لوگوں کے بارے میں سخت وعیدیں سنیں، جو مال جمع کرتے ہیں؛ مگر وہ مال کے حقوق اور مال میں دوسروں کے حقوق کو ادا نہیں کرتے ہیں، اس لیے اُن کے دل میں مال سے شدید نفرت پیدا ہو گئی؛ یہاں تک کہ وہ مال جمع کرنے کو ناپسند کرتے تھے اور ان کو یہ بھی ناگوار تھا کہ وہ لوگوں کو دیکھے کہ لوگ اپنی ضرورت سے زیادہ مال جمع کریں۔
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી