حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی محبت

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للصحابة رضي الله عنهم: إن الله أمرني بحب أربعة وأخبرني أنه يحبهم، قيل: يا رسول الله سمّهم لنا

فقال صلى الله عليه وسلم: علي منهم يقول ذلك ثلاثا وأبو ذر والمقداد وسلمان أمرني بحبهم وأخبرني أنه يحبهم (سنن الترمذي، الرقم: ٣٧١٨)

ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے چار لوگوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے اور اللہ تعالی نے مجھے بتایا ہے کہ وہ ان سے محبت کرتے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ وہ چار لوگ کون ہیں؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: علی ان میں سے ہے۔ پھر آپ نے باقی تین کے بارے میں فرمایا کہ ابو ذر، مقداد (بن عمرو) اور سلمان (الفارسی) ان میں سے ہیں۔

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر پابندی سے عمل

معرور بن سُوید رحمہ الله بیان کرتے ہیں:

ہم ایک مرتبہ ربذہ میں حضرت ابو ذر رضی الله عنہ کے پاس سے گزرے، تو ہم نے دیکھا کہ وہ دو کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ ایک کپڑا پرانا تھا؛ جب کہ دوسرا کپڑا نیا تھا اور ان کے غلام بھی اسی قسم کے دو کپڑے پہنے ہوئے تھے، جن میں سے ایک کپڑا نیا تھا اور دوسرا کپڑا پرانا تھا۔

چناں چہ ہم نے حضرت ابو ذر رضی الله عنہ سے کہا کہ اے ابو ذر! اگر آپ یہ دونوں نئے کپڑے پہن لیں (یعنی اگر آپ اپنے غلام کو وہ پرانا کپڑا دے دیں، جو آپ پہن رہے ہیں اور اس سے وہ نیا کپڑا لے لیں)، تو یہ دونوں ایک مکمل جوڑا ہو جائےگا۔

اس کے جواب میں حضرت ابو ذر رضی الله عنہ نے (ہماری رای قبول نہیں کی اور) اپنے غلام کے ساتھ اس طرح برتاؤ کرنے کی وجہ ہمیں بتایا۔ انہوں نے فرمایا:

ایک دفعہ میرے اور بلال رضی الله عنہ کے درمیان ایک جھگڑا ہوا۔ جھگڑے کے دوران میں نے ان کو ان کی ماں کے بارے میں عار دلائی۔ میں نے ان سے کہا: تم ایک سیاہ عورت کے بیٹے ہو۔ اس پر حضرت بلال رضی الله عنہ کو تکلیف ہوئی اور انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے اس بات کی شکایت کی، جو میں نے ان سے کہی تھی۔

بعد میں جب میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ملاقات کی، تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو ذر! تم ایسے آدمی ہو، جس کے اندر جاہلیت کی خصلت (یعنی تکبّر) موجود ہے۔ میں حیران ہوا اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا: کیا واقعی میرے اندر جاہلیت کی خصلت (یعنی تکبّر) اب بھی موجود ہے؟

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تمہارے اندر اب بھی جاہلیت کی خصلت (یعنی تکبّر) موجود ہے (اس لیے تم نے اپنے آپ کو بلال رضی الله عنہ سے بہتر سمجھا)۔

جب حضرت ابو ذر رضی الله عنہ نے یہ بات رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنی، تو وہ اس قدر متاثر ہوئے کہ وہ فوراً زمین پر لیٹ گئے اور فرمایا کہ میں اس وقت تک اپنا گال زمین سے نہیں اٹھاؤں گا؛ جب تک کہ بلال میرے گال پر ان کا پاؤں نہ رکھیں اس بات کی سزا کے طور پر جو میں نے ان سے کہی تھی۔ جب حضرت بلال رضی الله عنہ نے اپنا پاؤں حضرت ابو ذر رضی الله عنہ کے گال پر رکھا، تب وہ مطمئن ہوئے اور پھر وہ زمین سے اٹھ کر کھڑے ہوئے۔

پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حضرت ابو ذر رضی الله عنہ کو محبت بھرے انداز میں نصیحت فرمائی کہ کس طرح سے ان کو اپنے غلاموں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیئے۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے بھائی اور غلام ہیں، جن کو الله تعالیٰ نے تمہارے قبضے میں دے دیا ہے؛ لہٰذا تم انہیں وہی کھانا کھلاؤ، جو تم کھاتے ہو اور ان کو وہی لباس پہناؤ، جو تم پہنتے ہو اور ان پر (کام کے اندر) اتنا بوجھ نہ ڈالو، جس کو وہ برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر تم ان پر (کام میں) بہت زیادہ بوجھ ڈالو، تو ( پھر کام کے پورا کرنے میں) ان کی مدد کرو۔

حضرت ابو ذر رضی الله عنہ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی اس نصیحت کو دل سے قبول کیا اور زندگی بھر انہوں نے اپنے غلاموں کے ساتھ ایسا سلوک کیا۔ (صحیح مسلم، الرقم: ۱۶۶۱ ؛ صحیح البخاری، الرقم: ۳۰ ؛ فتح الباری ۱/۱۰۶ ؛ ابن سعد ۴/۱۷۹)

Check Also

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا علم‎

قال سيدنا علي رضي الله عنه عن سيدنا أبي ذر رضي الله عنه: وعى علما …