روزہ کی سنتیں اور آداب – ‏ ۷

روزہ کے چند اہم مسائل

(۱) روزہ یہ ہے کہ مسلمان مرد یا عورت (جو پاکی کی حالت میں ہو) روزہ کی نیت سے صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے، پینے اور جماع سے پرہیز کرے؛ لہذا اگر کوئی آدمی صبح صادق کے بعد یا غروب آفتاب سے پہلے کھا لے، تو اس کا روزہ صحیح نہیں ہوگا۔

(۲) روزہ کے لیے زبان سے نیّت کرنا ضروری نہیں ہے؛ بلکہ روزہ کے لیے دل میں نیّت کرنا کافی ہے۔

(۳) رمضان المبارک میں روزہ رکھنا ہر عاقل، بالغ مسلمان پر فرض ہے۔ جب تک کوئی صحیح عذر نہیں ہے، تو آدمی کے لیے رمضان کا روزہ چھوڑنا جائز نہیں ہے۔

البتہ اگر کوئی آدمی بیمار ہو یا وہ مسافر ہو، تو اس کے لیے روزہ نہ رکھنا اور رمضان کے بعد اس کی قضا کرنا جائز ہے۔

(۴) اگر کسی پر رات میں غسل فرض ہو جائے اور وہ جنابت کی حالت میں روزہ شروع کرے یعنی وہ صبح صادق کے بعد غسل کرے، تو اس کا روزہ صحیح ہوگا۔

(۵) اگر روزہ دار کو دن میں احتلام ہو جائے، تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹےگا؛ لیکن اس پر غسل فرض ہوگا۔

(۶) اگر کوئی آدمی روزہ کی حالت میں بیمار ہو جائے اور اس کے اندر روزہ پورا کرنے کی طاقت نہ رہے، تو اس کے لیے روزہ توڑنا جائز ہوگا اور اس پر صرف قضا واجب ہوگی۔

(۷) اگر کوئی آدمی نذر مانے کہ اگر اس کا فلاں کام پورا ہو جائے یا اس کو فلاں چیز حاصل ہو جائے، تو وہ روزہ رکھےگا۔ ایسی صورت میں اگر اس کا متعین کام پورا ہو جائے یا اس کو مطلوبہ چیز حاصل ہو جائے، تو اس پر روزہ رکھنا واجب ہوگا۔

مثال کے طور پر کوئی آدمی یہ کہے کہ اگر میری والدہ بیماری سے صحت یاب ہو جائے، تو میں روزہ رکھوں گا یا کوئی کہے: اگر میں امتحان میں کامیاب ہو گیا، تو میں روزہ رکھوں گا؛ لہذا اگر اس کی والدہ بیماری سے صحت یاب ہو جائے یا وہ امتحان میں کامیاب ہو جائے، تو اس پر روزہ رکھنا واجب ہوگا۔

(۸) اگر کوئی آدمی نفل روزہ توڑ دے، تو اس پر توڑے ہوئے نفل روزہ کی قضا واجب ہوگی۔

(۹) اگر ماہ رمضان میں کسی آدمی کا روزہ ٹوٹ جائے، تو اس کے لیے دن کے بقیہ حصہ میں کھانا، پینا جائز نہیں ہے؛ بل کہ اس پر واجب ہے کہ وہ روزہ دار کی طرح دن کے بقیہ حصہ میں کھانے، پینے سے اجتناب کرے۔

یہ حکم اس عورت کے لیے بھی ہے، جس کی حیض دن میں ختم ہو جائے یعنی اس کے لیے دن کے بقیہ حصہ میں کھانا، پینا جائز نہیں ہے اور وہ روزہ دار کی طرح دن کے بقیہ حصہ میں کھانے، پینے سے اجتناب کرے۔

(۱۰) اگر کسی شخص نے ماہ رمضان میں کسی دن روزہ رکھنے کی نیت نہیں کی اور اس نے دن میں کچھ کھا لیا یا پی لیا، تو اس پر صرف اس دن کی قضا واجب ہوگی۔ اس پر کفارہ واجب نہیں ہوگا؛ کیوں کہ اس نے اس دن کا روزہ نہیں توڑا ہے (یعنی روزہ شروع کرنے کے بعد روزہ کو نہیں توڑا ہے)؛ بل کہ اس نے اس دن کا روزہ ہی نہیں رکھا ہے۔

Check Also

روزہ کی سنتیں اور آداب – ‏ ۶

رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ اگر کوئی آدمی عذر کے بغیر رمضان المبارک کا …