
رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ
اگر کوئی آدمی عذر کے بغیر رمضان المبارک کا روزہ توڑ دے، تو وہ گنہگار ہوگا؛ کیوں کہ وہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب کر رہا ہے۔
لہذا اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس گناہ کبیرہ سے توبہ کرے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سچی توبہ کرے اور اس بات کا پختہ عزم کرے کہ وہ آئندہ کبھی اس گناہ کا ارتکاب نہیں کرےگا۔
مزید یہ کہ اس کے ذمہ توڑے ہوئے روزہ کی قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔
رمضان المبارک کے توڑے ہوئے روزہ کا کفارہ یہ ہے کہ وہ دو مہینے مسلسل روزہ رکھے۔
اگر کسی نے قمری مہینے کی پہلی تاریخ کو کفارہ شروع کیا، تو دو قمری مہینے مکمل ہونے پر کفارہ پورا ہو جائےگا (چاہے قمری مہینہ ۲۹ دن کا ہو یا ۳۰ دن کا ہو)۔
اگر کسی نے قمری مہینے کی دوسری تاریخ کو کفارہ شروع کیا یا دوسری تاریخ کے بعد مہینے کے کسی بھی تاریخ کو کفارہ شروع کیا، تو اس کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ مسلسل ساٹھ دن روزہ رکھے۔
اگر کفارہ رکھنے والا ساٹھ دنوں میں سے کسی ایک دن بھی روزہ نہ رکھے (اگرچہ وہ کسی عذر کی وجہ سے ہو، مثلًا بیماری کی وجہ سے)، تو اس کے لیے از سر نو پورے ساٹھ دن روزہ رکھنا ضروری ہوگا۔
البتہ اگر کسی عورت کو ساٹھ دنوں میں حیض آ جائے، تو اس کو پاک ہونے کے بعد از سر نو ساٹھ روزہ رکھنے کی ضرورت نہیں ہے؛ بل کہ وہ حیض ختم ہونے کے بعد باقی روزہ رکھے۔
متعدد رمضانوں کے توڑے ہوئے روزوں کا کفارہ
اگر کسی نے رمضان کے مہینے میں جماع کرنے سے اپنا روزہ توڑ دیا، تو اس پر کفارہ واجب ہوگا۔
البتہ اگر اس نے کفارہ ادا نہیں کیا اور اس نے دو یا دو سے زیادہ رمضانوں میں یہی غلطی کی (یعنی اس نے جماع کرنے سے اپنا روزہ توڑ دیا)، تو اس پر ہر رمضان کے بدلے الگ الگ کفارہ واجب ہوگا۔
اگر کسی نے رمضان کے مہینے میں کھانے یا پینے سے اپنا روزہ توڑ دیا، تو اس پر کفارہ واجب ہوگا۔
البتہ اگر اس نے کفارہ ادا نہیں کیا اور اس نے دو یا دو سے زیادہ رمضانوں میں یہی غلطی کی (یعنی اس نے کھانے یا پینے سے اپنا روزہ توڑ دیا)، تو اس پر ہر رمضان کے بدلے الگ الگ کفارہ واجب نہیں ہوگا؛ بل کہ متعدد رمضانوں کے ٹوٹے ہوئے روزوں کے بدلے ایک کفارہ کافی ہوگا۔
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી