
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ ماضی قریب کے ایک بہت بڑے بزرگ اور اللہ کے ولی تھے۔ وہ ۱۱ رمضان ۱۳۱۵ ہجری کو پیدا ہوئے اور ۱۴۰۲ ہجری میں انتقال کر گئے۔
حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنتوں سے بہت زیادہ محبت تھی اور انہوں نے اس بات کی کوشش کی کہ ان کی زندگی کا ہر پہلو سنت مبارکہ کے مطابق ہو۔
ذیل میں ہم حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو دیکھیں گے کہ کس طرح ان کی زندگی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنتیں زندہ تھیں۔
بیمار کی عیادت
ایک حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی بیمار پُرسی صبح کے وقت کرے، تو شام تک اس کے لیے ستّر ہزار فرشتے دعا کرتے ہیں اور اگر شام کو کرے، تو صبح تک ستّر ہزار فرشتے دعا کرتے ہیں۔ (سنن الترمذی، الرقم: ۹۶۹)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عظیم سنت سے محبت کی وجہ سے اور اس سنت کے بے شمار فضائل حاصل کرنے کے لیے حضرت شیخ رحمہ اللہ ہمیشہ بیماروں کی عیادت کا خاص اہتمام فرماتے تھے؛ یہاں تک کہ جب ان کی صحت کمزور ہو گئی تھی، تب بھی جب تک وہ گاڑی میں بیٹھنے کی طاقت رکھتے تھے، وہ بیماروں کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔
عام طور پر جب کوئی بزرگ بیمار ہو جاتا ہے، تو بہت سے لوگ اس کی عیادت کے لیے جاتے ہیں؛ لیکن حضرت شیخ رحمہ اللہ کی یہ ایک خاص صفت تھی کہ وہ نہ صرف بیمار بزرگوں کی عیادت فرماتے تھے؛ بلکہ اپنے خادموں، معاونین اور عام مسلمانوں کی عیادت بھی فرماتے تھے۔
صوفی محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ مندرجہ ذیل واقعہ بیان کرتے ہیں:
ایک دفعہ احقر مدینہ طیبہ میں بیمار تھا اور احقر کا مکان کچّے راستوں میں سے ہو کر ایک بے آباد باغ کے اندر تھا۔ حضرت اپنے خادم خاص الحاج ابو الحسن صدّیقی کے ساتھ اس جگہ تشریف لے آئے اور پڑھ کر بندہ پر دم کیا، جس سے مجھے افاقہ ہو گیا اور مجھے تکلیف کی جگہ پر دیکھ کر کوئی سہولت کی جگہ ملنے کی دعا بھی فرمائی، جس کے بعد مجھے بلا کسی کوشش کے، حرم شریف کے قریب راحت کا مکان بھی مل گیا۔ (حضرت شیخ کا اتباعِ سنت، ص ۶۳)
میت کو غسل دینا
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مُردے کو غسل دے، تو گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے جیسے کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ (مجمع الزوئد، الرقم: ۴۰۶۶)
اس عظیم سنت پر عمل کرنے اور اس کے عظیم اجر کو حاصل کرنے کے لیے حضرت شیخ رحمہ اللہ کے بارے میں یہ مذکور ہے کہ انہوں نے مدرسہ مظاہر العلوم کے بہت سے طلبہ کو غسل دیا، جو وفات پا گئے تھے۔ ان طلبہ میں سے بعض ایسے بھی تھے، جو دیگر علاقوں سے آئے ہوئے تھے اور مختلف مساجد میں امامت کی ذمہ داریوں کی وجہ سے مدرسے سے کچھ فاصلے پر رہائش پذیر تھے۔ تاہم، فاصلے کے باوجود، جیسے ہی حضرت شیخ رحمہ اللہ کو کسی طالبِ علم کے انتقال کی خبر ملتی، وہ فوراً اسے غسل دینے کے لیے روانہ ہو جاتے، خواہ وہ رات کے درمیانی حصہ کا وقت تھا۔
بعض اوقات یہ طلبہ ایسی بیماری کی وجہ سے وفات پاتے تھے، جس سے ان کے جسم خون اور پیپ وغیرہ جیسی نجاست سے آلودہ ہو جاتے تھے۔ عام طور پر ایسی حالت دیکھ کر انسان طبعی طور پر گھن محسوس کرتا ہے اور میت کے قریب جانے کو پسند نہیں کرتا ہے؛ لیکن ان مواقع پر بھی حضرت شیخ رحمہ اللہ اپنے ہاتھوں سے انہیں غسل دیا کرتے تھے۔
جب حضرت مولانا عبد اللطیف رحمہ اللہ کا انتقال ہوا، اس وقت حضرت شیخ رحمہ اللہ خود علیل تھے اور کئی قسم کی معذوریاں بھی تھیں۔ اس کے باوجود وہ مولانا عبد اللطیف رحمہ اللہ کو غسل دینے کے لیے تشریف لے گئے۔
حضرت شیخ رحمہ اللہ کو اس سنت پر عمل کرنے کی ایسی محبت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت سے لوگوں کو غسل دینے کی سعادت سے نوازا؛ چناں چہ حضرت نے ایک مرتبہ تحدیث بالنعمت کے طور پر فرمایا کہ میں نے تقریباً دو سو مُردوں کو غسل دیا ہوگا اور مجھے اللہ کی ذات سے اس پر بڑے اجر کی امید ہے۔ (حضرت شیخ کا اتباعِ سنت، ص ۶۴)
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી