
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
اللہ تعالیٰ ان سے (صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے) راضی ہیں اور وہ (صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم) ان سے (اللہ تعالیٰ سے) راضی ہیں۔ (سورۂ توبہ، ۱۰۰)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی محبّت
صلح حدیبیہ کے موقع پر جب کفار نے مسلمانوں کو عمرہ کرنے کے لیے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روک دیا، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی الله عنہ کو مکہ مکرمہ بھیجا؛ تاکہ وہ مکہ مکرمہ میں قریش سے بات چیت کریں۔
جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں تھے، تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ جو مکہ مکرمہ سے باہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، کہنے لگے کہ عثمان کتنے خوش نصیب ہیں! وہ مکہ مکرمہ میں کعبہ شریف کا طواف کر رہے ہوں گے۔
جب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے یہ خبر سنی، تو آپ نے فرمایا کہ نہیں، عثمان اللہ کے نبی سے پہلے طواف نہیں کریں گے۔ اگر وہ مکہ مکرمہ میں کئی سال بھی رہے، تب بھی وہ مجھ سے پہلے طواف نہیں کریں گے۔
جب حضرت عثمان رضی الله عنہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، تو ان کے چچا زاد بھائی، ابان بن سعید نے ان کو اپنی پناہ میں لے لیا اور ان سے کہا: تم جہاں چاہو، آزادی سے گھومو۔ کوئی تمہیں ہاتھ نہیں لگا سکتا۔
حضرت عثمان رضی الله عنہ ابو سفیان اور مکہ مکرمہ کے دوسرے سرداروں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے گفتگو کی۔
جب حضرت عثمان لوٹنے والے تھے، تو قریش نے خود ہی یہ پیش کش کی کہ جب تم مکہ مکرمہ میں آئے ہو، تو لوٹنے سے پہلے خانۂ کعبہ کا طواف کر لو۔
حضرت عثمان رضی الله عنہ نے جواب دیا کہ میرے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے طواف کروں؟
قریش کو یہ جواب بہت ناگوار لگا اور انہوں نے حضرت عثمان رضی الله عنہ کو مکہ مکرمہ میں اپنے پاس روک لیا۔
اُدھر مسلمانوں کو کسی نے خبر دے دی کہ حضرت عثمان رضی الله عنہ شہید کر دیئے گئے۔
جوں ہی آپ صلی الله علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی، تو آپ نے فوراً تمام صحابۂ کرام رضی الله عنہم سے اس بات پر بیعت لی کہ جب تک جان میں جان ہے، وہ قریش سے قتال کریں گے۔
جب قریش کو یہ معلوم ہوا، تو ان کے اوپر خوف طاری ہو گیا اور انہوں نے فوراً حضرت عثمان رضی الله عنہ کو چھوڑ دیا۔ (کنز العمال، الرقم: ۳۰۱۵۲ ؛ مسند احمد ،الرقم:۱۸۹۱۰ ؛ مصنف لابن ابی شیبہ، الرقم: ۳۸۰۰۷)
اس واقعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان رضی الله عنہ کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے کتنی زیادہ محبت تھی کہ وہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے بغیر طواف کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી