حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرمایا: سمعت أذني مِن فِيْ رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يقول: طلحة والزبير جاراي في الجنة. (جامع الترمذي، الرقم: ٣٧٤١) میرے کان نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم …
اور پڑھو »صبح وشام درود شریف پڑھنا
عَن ابي الدرداء رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم مَن صَلَّى عَلَيَّ حِينَ يُصْبِحُ…
حضرت عبد اللہ بن عبّاس رضی اللہ عنہما کا درود
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنهُمَا أَنَّهُ كَانَ إذَا صَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَ…
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاداں وفرحاں ہونے کا سبب
عن أبي طلحة الأنصاري رضي الله عنه قال أصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما طيب النفس يرى في وجهه ا…
دس گنا ثواب
عَنْ أَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ …
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے لیے جنت کی بشارت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: طلحة في الجنة (أي: هو ممن بشّر بالجنة في الدنيا) (سنن …
نئے مضامين
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری – آٹھویں قسط
رسولِ کریم صلی الله علیہ وسلم کی چار بنیادی ذمہ داریاں رسولِ کریم صلی الله علیہ وسلم اس دنیا میں لوگوں میں دین قائم کرنے کے لیے مبعوث کیے گئے اور اس عظیم الشان مقصد کی تکمیل کے لیے آپ کو چار ذمہ داریاں دی گئیں۔ ان چاروں ذمہ داریوں …
اور پڑھو »فضائلِ صدقات – ٤
صلہ رحمی حضرت عبد الله بن ابی اوفی رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ ہم عرفہ کی شام کو حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حلقہ کے طور پر چاروں طرف بیٹھے تھے۔ حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجمع میں کوئی شخص قطع رحمی …
اور پڑھو »عمل اور محنت کے بغیر چارہ کار نہیں
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمہ الله نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: میرے پیارو! کچھ کر لو۔ مَنْ طَلَبَ الْعُلى سَهِرَ الَّیَالِيَ جو شخص کچھ بننا چاہے، تو اس کو راتوں میں جاگنا پڑتا ہے۔ فرمایا: ایک شخص تھے، جو کچھ روز حضرت رائپوری رحمہ الله کی خدمت میں …
اور پڑھو »فضائلِ صدقات – ۳
کردی کا قصہ کُرد ایک قبیلہ کا نام ہے۔ اُس میں ایک شخص مشہور ڈاکو تھا۔ وہ اپنا قصہ بیان کرتا ہے کہ میں اپنے ساتھیوں کی ایک جماعت کے ساتھ ڈاکہ کے لیے جا رہا تھا۔ راستہ میں ہم ایک جگہ بیٹھے تھے، وہاں ہم نے دیکھا کہ کھجور …
اور پڑھو »