عن سيدنا الزبير رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من يأت بني قريظة فيأتيني بخبرهم. فانطلقتُ، فلما رجعت، جمع لي رسول الله صلى الله عليه وسلم أبويه فقال: فداك أبي وأمي (صحيح البخاري، الرقم: ٣٧٢٠) حضرت زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک …
اور پڑھو »صبح وشام درود شریف پڑھنا
عَن ابي الدرداء رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم مَن صَلَّى عَلَيَّ حِينَ يُصْبِحُ…
حضرت عبد اللہ بن عبّاس رضی اللہ عنہما کا درود
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنهُمَا أَنَّهُ كَانَ إذَا صَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَ…
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاداں وفرحاں ہونے کا سبب
عن أبي طلحة الأنصاري رضي الله عنه قال أصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما طيب النفس يرى في وجهه ا…
دس گنا ثواب
عَنْ أَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ …
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے لیے جنت کی بشارت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: طلحة في الجنة (أي: هو ممن بشّر بالجنة في الدنيا) (سنن …
نئے مضامين
فضائلِ صدقات – ۸
علمائے آخرت کی بارہ علامات تیسری علامت: تیسری علامت یہ ہے کہ ایسے علوم میں مشغول ہو، جو آخرت میں کام آنے والے ہوں، نیک کاموں میں رغبت پیدا کرنے والے ہوں۔ ایسے علوم سے احتراز کرے، جن کا آخرت میں کوئی نفع نہیں ہے یا نفع کم ہے۔ ہم …
اور پڑھو »رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب
ذات مرة، قال سيدنا عثمان بن عفان رضي الله عنه عن سيدنا الزبير رضي الله عنه: أما والذي نفسي بيده إنه لخيرهم ما علمت (من الصحابة الأحياء)، وإن كان لأحبهم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم (صحيح البخاري، الرقم: ٣٧١٧) ایک مرتبہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت …
اور پڑھو »علمِ دین اور ذکر اللہ کا پورا اہتمام
ایک دن بعد نمازِ فجر، جب کہ اس تحریک میں عملی حصہ لینے والوں کا نظام الدین کی مسجد میں بڑا مجمع تھا اور حضرت مولانا رحمہ اللہ کی طبیعت اس قدر کمزور تھی کہ بستر پر لیٹے لیٹے بھی دو چار لفظ بآواز نہیں فرما سکتے تھے، تو اہتمام …
اور پڑھو »علامات قیامت – ساتویں قسط
دجال کے تین اہم آلات: دولت، عورت اور تفریح (لھو ولعب) جب دجال دنیا میں ظاہر ہوگا، تو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے تین اہم آلات کو استعمال کرےگا اور وہ تین آلات دولت، عورت اور تفریح ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسے بعض ایسے کاموں کو انجام دینے کی طاقت …
اور پڑھو »