غسل کرنے کا مسنون طریقہ (۱) سر پر تین مرتبہ پانی ڈالنا۔[۱] عن عائشة قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أراد أن يغتسل من الجنابة بدأ فغسل يديه قبل أن يدخلهما الإناء ثم غسل فرجه ويتوضأ وضوءه للصلاة ثم يشرب شعره الماء ثم يحثي على رأسه ثلاث …
اور پڑھو »درودِ ابراہیم
عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال لقيني كعب بن عجرة فقال ألا أهدي لك هدية سمعتها من النبي صلى الله عليه …
داڑھی کے مسئلہ میں حضرت مدنی رحمہ اللہ کی ترکِ رعایت
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمہ الله نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: حضرت مدنی رحمہ اللہ آخر عمر م…
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم زلف
قال سيدنا طلحة رضي الله عنه: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا رآني قال: (أنت) سِلْفي (عديلي) في الدن…
صبح وشام درود شریف پڑھنا
عَن ابي الدرداء رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم مَن صَلَّى عَلَيَّ حِينَ يُصْبِحُ…
حضرت عبد اللہ بن عبّاس رضی اللہ عنہما کا درود
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنهُمَا أَنَّهُ كَانَ إذَا صَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَ…
نئے مضامين
مسجد میں داخل ہونے اور مسجد سے نکلنے کے وقت درود شریف پڑھنا
عن فاطمة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا دخل المسجد صلى على محمد وسلم وقال: رب اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب رحمتك وإذا خرج صلى على محمد وسلم وقال: رب اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب فضلك (سنن الترمذي، الرقم: ٣١٤، وحسنه) حضرت …
اور پڑھو »راحت پہنچانا فرض ہے
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: ”میں نے تو ہمیشہ اس کا خیال رکھا کہ حدودِ شرع سے تجاوز نہ ہو اسی لیے میں نے اپنے بزرگوں کی جوتیاں اٹھانے کی خدمت نہیں کی محض اس خیال سے کہ وہ پسند نہ کرتے تھے …
اور پڑھو »غسل کی سنتیں اور آداب-۲
غسل کرنے کا مسنون طریقہ (۱) غسل کے شروع میں دونوں ہاتھوں کو گٹوں سمیت دھونا۔ [۱] عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا اغتسل من الجنابة بدأ فغسل يديه (صحيح البخاري، الرقم: ۲٤۸) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ …
اور پڑھو »باغِ محبّت(آٹھویں قسط)
بسم الله الرحمن الرحيم جنّت کی کنجی اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو اللہ تعالیٰ سے محبّت کا راستہ سکھاتا ہے اور جنّت تک لے جاتا ہے۔ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے س بندے کو اللہ رب العزّت کی خوشنودی اور دنیا و آخرت میں کامیابی ملتی ہے۔ اسلام …
اور پڑھو »