دنیا ودین کی بہبود اسی میں مضمر ہے یہ امرِ واقعی ہے کہ اگر مسلمان اپنی اصلاح کر لیں اور دین ان میں راسخ ہو جائے، تو دین تو وہ ہے ہی؛ لیکن دنیوی مصائب کا بھی جو کچھ آجکل ان پر ہجوم ہے، ان شاء اللہ چند روز میں کایا پلٹ ہو جائے...
اور پڑھوزندگی کے ہر پہلو میں اتباعِ سنت کی کوشش کرے
میرے چچا جان (یعنی حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمہ الله) نے بھی مجھ کو اتباعِ سنّت کی نصیحت فرمائی تھی اور یہ کہ اپنے دوستوں کو بھی اس کی تاکید ضرور کرتے رہنا...
اور پڑھواسلام میں کلمہ کی حقیقت
حقیقی اسلام یہ ہے کہ مسلمان میں لا الٰہ الا اللہ کی حقیقت پائی جائے۔ اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس کا اعتقاد کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی بندگی کا عزم وارادہ دل میں پیدا ہو...
اور پڑھوامام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ادب
صحابی نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی بڑے ہیں لیکن سن (عمر) میرا زیادہ ہے...
اور پڑھوپرہیزگاروں کی زندگیوں کا مطالعہ انسان کو سنت کی طرف لے جاتا ہے
اپنے اکابر کے حالات واقعات خوب دیکھا کرو، پڑھا کرو، صحابہ میں بھی مجھے دیکھنے سے ہر رنگ کے ملے ہیں، اسی طرح اپنے اکابر کابھی کہ ان میں بھی مختلف رنگ کے میں نے پائے ہیں...
اور پڑھودینی علم حاصل کرنے کا مقصد
”علم کا سب سے پہلا اور اہم تقاضہ یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کا احتساب کرے، اپنے فرائض اور اپنی کوتاہیوں کو سمجھے...
اور پڑھواہلِ حق سے عناد نہ ہونا غنیمت ہے
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: ”میہ بھی نفع سے خالی نہیں کہ اگر انسان کچھ بھی نہ کرے،تو کم از کم اس کو اہلِ حق سے عناد (دلی بغض اور کینہ) تو نہ ہو یہ عناد بہت ہی خطرناک چیز ہے۔“ (ملفوظاتِ حکیم …
اور پڑھوعلماء اور بڑوں کی بے ادبی اپنا ہی نقصان ہے
”علماء اور ائمہ دین کی بے ادبی یا ان کے ساتھ بدگمانی یہ تو بہت بڑی بات ہے، عام آدمی عام مسلمان کی آبرو ریزی اور بدگمانی یہ بھی کسی طرح جائز نہیں، ان بڑوں میں سے خدانحواستہ اگر کسی کی بے ادبی ہو گئی تو یاد رکھو کہ اپنا سب کچھ کھو بیٹھوگے۔۔“...
اور پڑھودین کے کام کی برکات
حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا : ”اصل تو یہی ہے کہ رضائےالہٰی اور اجر اخروی ہی کے لئے دینی کام کیا جائے، لیکن ترغیب میں حسب موقع دنیوی برکات کا بھی ذکر کرنا چاہئے۔ بعض آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ ابتداءً دنیوی برکات …
اور پڑھوراحت پہنچانا فرض ہے
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: ”میں نے تو ہمیشہ اس کا خیال رکھا کہ حدودِ شرع سے تجاوز نہ ہو اسی لیے میں نے اپنے بزرگوں کی جوتیاں اٹھانے کی خدمت نہیں کی محض اس خیال سے کہ وہ پسند نہ کرتے تھے …
اور پڑھو
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી