حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ الله نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: ”موجودہ (دور کی) ترقی کا حاصل تو حرص ہے اور شریعت نے حرص کی جڑ کاٹ دی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونہ تھے کہیں ایسے خیال کو اپنے …
اور پڑھوہمارے بڑوں کے اخلاق
”ہم نے اپنے بڑوں کے متعلق سنا کہ لوگ ا ن کے حالات دیکھ کر اور ان کی صورتوں کو دیکھ کر ہی مسلمان ہو جایا کرتے تھے، ایک ہم ہیں کہ ہمارے اخلاق دیکھ کر لوگ کہاں جائیں۔“...
اور پڑھونماز دین کا ستون ہے
نماز کو حدیث میں ”عِمَادُ الدِّيْن“ (دین کا ستون) فرمایا گیا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ نماز پر باقی دین معلق ہے، اور وہ نماز ہی سے ملتا ہے...
اور پڑھوشیطان کے وسوسوں کو نظر انداز کرنا
ایک صاحب کے جو مبتلائے وساوس تھے سوال کے جواب میں فرمایا کہ شیطان کے بھگانے کی تدبیر یہ ہے کہ ہمّت سے اس کا مقابلہ کرو اور مقابلہ یہی ہے کہ اس کی طرف التفات مت کرو...
اور پڑھومعمولات کی پابندی
میں نے اپنے والد صاحب اور حضرت مدنی دونوں کو اخیر شب میں تنہائی میں روتے اور گڑگڑاتے ہوئے دیکھا یہ دونوں بالکل ایسا روتے تھے جیسا مکتب میں بچہ پٹ رہا ہو...
اور پڑھوخوشحالی سنّت پر عمل کرنے میں ہے
پس جن لوگوں کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اتباع میں سادہ معاشرت مرغوب ہو جائے اور ان کو اسی میں لذت اور چین ملنے لگے، ان پر الله تعالیٰ کا بڑا انعام ہے کہ ان کا چین ایسی چیزوں سے وابستہ فرما دیا جو بےحد سَسْتی ہیں اور جن کا حصول ہر غریب وفقیر کے لئے بہت آسان ہے...
اور پڑھومالی امور میں احتیاط برتنا
"مالیات میں تقوی بہت کم دیکھا جاتا ہے۔ افعال اور اعمال تو آج کل بہت ہیں۔ تہجد چاشت اشراق ورد وظیفے تو بہت مگر یہ بات بہت کم ہے کہ مال سے انس و محبت نہ ہو۔ یا ہو مگر پھر بھی احتیاط کرے، تو یہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔"...
اور پڑھوآمدنی کے لحاظ سے خرچ کرنا
جتنی چادر ہو اتنا ہی پاؤں پھیلانا چاہیئے، پہلے دیکھ لو کہ ہمارے پاس کتنا ہے اور کس قدر گنجائش ہے اسی کے اندر خرچ کرو، تو پھر ان شاء اللہ مالی پریشانی نہ اٹھانی پڑےگی...
اور پڑھومسلمانوں کے دینی زوال پر ترس اور تشویش کا اظہار
دنیا کے نقصان کو نقصان سمجھا جاتا ہے؛ لیکن دین کے نقصان کو نقصان نہیں سمجھا جاتا، پھر ہم پر آسمان والا کیوں رحم کرے، جب ہمیں مسلمانوں کی دینی حالت کے ابتر ہونے پر رحم نہیں...
اور پڑھوبڑوں کی اصلاح کا طریقہ
مولوی محمد رشید کی اس بات سے میرا بڑا جی خوش ہوا؛ کیونکہ ظاہر کرنا تو ضروری ہی تھا؛ لیکن انہوں نے نہایت ادب سے ظاہر کیا۔ یہ پوچھا کہ کیا یہ بیع میں تو داخل نہیں...
اور پڑھو
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી