فضائلِ صدقات – ۳۲

حضرت خیثمہ بن عبد الرحمن رحمہ اللہ کی سخاوت

حضرت اعمش سلیمان بن مہران رحمہ اللہ مشہور محدّث ہیں۔ فرماتے ہیں کہ میرے پاس ایک بکری تھی۔ وہ بیمار ہو گئی۔

حضرت خیثمہ بن عبد الرحمن رحمہ اللہ روزانہ صبح کو اور شام کو دو وقت اس بکری کی عیادت کرنے میرے پاس تشریف لاتے، بکری کا حال پوچھتے اور یہ بھی دریافت کرتے کہ بچوں کو دودھ تو ملتا نہیں ہوگا، وہ ضد تو نہیں کرتے؟ بکری نے کچھ کھایا یا نہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔ اور ہمیشہ چلتے ہوئے جس ٹاٹ پر میں بیٹھا کرتا تھا، اس کے نیچے کچھ ڈال جاتے تھے کہ یہ بچوں کے لیے اٹھا لینا۔

بکری کی بیماری کے زمانہ میں تین سو دینار (اشرفیوں) سے زیادہ مجھے ان کے احسان سے ملا۔ مجھے یہ خواہش ہونے لگی کہ یہ بکری بیمار ہی رہے، تو اچھا ہے۔

حضرت اسماء بن خارجہ رحمہ اللہ کی بہت اچھی عادتیں

عبد الملک بن مروان رحمہ اللہ نے حضرت اسماء بن خارجہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ مجھے تمہاری بعض عادتیں بہت اچھی پہنچی ہیں، تم اپنے معمولات مجھے بتاؤ۔

انہوں نے عذر کر دیا کہ میری کیا عادت اچھی ہو سکتی ہے! دوسروں کی عادتیں بہت بہت اچھی ہیں، ان سے دریافت کریں۔

مگر جب انہوں نے اصرار سے قسم دے کر پوچھا، تو انہوں نے بتایا کہ مجھے تین چیزوں کا ہمیشہ اہتمام رہا۔

ایک یہ کہ کبھی کسی بیٹھنے والے کی طرف میں نے پاؤں نہیں پھیلایا۔

دوسرے جب میں نے کھانا پکایا اور اس پر لوگوں کو بلایا، تو ان کھانے والوں کا میں نے اپنے اوپر احسان اس سے بہت زیادہ سمجھا، جتنا میرا ان پر ہو۔

تیسرے جب کسی ضرورت مند نے کوئی سوال کیا، میں نے اس کے دینے میں کسی مقدار کو بھی زائد نہیں سمجھا (جو کچھ دیا اس کو ہمیشہ کم ہی سمجھتا رہا)۔ (فضائل صدقات، ص ۷۱۳)

Check Also

فضائلِ اعمال – ۴۰

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک قبر پر گذر کُمَیل رحمۃ اللہ علیہ ایک …