
عبد الحمید بن سعد رحمہ اللہ کی سخاوت
ایک مرتبہ مصر میں قحط پڑا۔ عبد الحمید بن سعد رحمہ اللہ مصر کے حاکم تھے۔ کہنے لگے:
میں شیطان کو بتاؤں گا کہ میں اس کا دشمن ہوں (وہ ایسے وقت میں بہت احتیاج سے خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے)۔
مصر میں جتنے فقرا نادار تھے، سب کا کھانا اپنے ذمے لے لیا کہ جب تک اَرزانی ہو، ان کا کھانا میرے ذمہ رہےگا۔
چناں چہ ایسا ہوتا رہا؛ یہاں تک کہ قحط دور ہو گیا، بازار کا نرخ ارزاں ہو گیا۔
اس کے بعد یہ معزول کر دیے گئے۔ جب یہ مصر سے رخصت ہونے لگے، تو جن تاجروں سے قحط کے زمانہ میں قرض لے کر کھلاتے رہے، ان کے دس لاکھ درم ان کے ذمہ قرضہ تھا۔
چوں کہ وہاں سے رخصت ہو کر جا رہے تھے؛ اس لیے اپنے اہل وعیال کے زیور وغیرہ مانگ کر ان تاجروں کے پاس رہن رکھ گئے۔ جو چیزیں رہن رکھی تھیں، ان کی قیمت پچاس کروڑ دِرم تھے۔
کچھ دن ارادہ کرتے رہے کہ ان کا قرضہ ادا ہو کہ زیورات کے رہن کو خلاص کر لیں؛ مگر اتنی رقم مہیا نہ ہو سکی۔ ان تاجروں کو لکھ دیا کہ ان زیوروں کو فروخت کر کے اپنا قرضہ وصول کر لیں اور جتنی رقم باقی بچے، وہ مصر کے ان اہلِ ضرورت پر تقسیم کر دیں، جن کی اس وقت میں نے مدد نہیں کی۔
زیور والیاں بھی تو اُسی دور کی پیداوار تھیں۔ ان کو اس میں کیا تامّل ہو سکتا تھا کہ ان کا زیور فروخت کر کے فقراء پر تقسیم ہو جائے۔ (فضائل صدقات، ص ۷۰۹)
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી