فضائلِ صدقات – ۲۹

حضرت سعید بن عامر رحمہ اللہ کی سخاوت

حضرت سعید بن عامر رحمہ اللہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جانب سے حمص کے حاکم (گورنر) تھے۔ اہل حمص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی متعدد شکایتیں کیں اور ان کے معزول کرنے کی درخواست کی۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حق تعالی شانہ نے فراست کا خاص حصہ عطا فرمایا تھا، جس کی وجہ سے مردم شناسی میں خاص دخل تھا اور اس کا ہزاروں مرتبہ تجربہ بھی ہو چکا تھا۔ اس پر تعجب فرمایا کہ میں نے تو بہت بہتر سمجھ کر تجویز کیا تھا اور اِس کی دعا کی کہ یا اللہ! میری فراست کو لوگوں کے بارہ میں زائل نہ فرما کہ اس سے تو سارے ہی محکموں کے آدمیوں میں نااہلوں کے گھس جانے کا اندیشہ ہے۔

اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید رحمہ اللہ کو طلب کیا اور شکایت کرنے والوں کو بھی بلایا اور ان سے دریافت فرمایا کہ تم لوگوں کو ان سے کیا کیا شکایتیں ہیں؟ انہوں نے تین شکایتیں کی تھیں۔

ایک یہ کہ دن میں بہت دیر سے گھر سے نکلتے ہیں (عدالت میں دیر سے پہنچتے ہیں)۔ دوسرے: رات کو اگر کوئی ان کے پاس جائے، تو اس وقت اس کی شکایت نہیں سنتے۔ تیسرے: ہر مہینہ میں ایک دن تعطیل کرتے ہیں۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دونوں فریق کو سامنے کھڑا کیا اور فرمایا کہ نمبر وار مطالبات کرو؛ تاکہ ہر شکایت کا علیحدہ علیحدہ جواب لیا جائے۔

ان لوگوں نے کہا کہ صبح کو دیر میں گھر سے نکلتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے جواب طلب کیا۔ انہوں نے عرض کیا کہ میری بیوی تنہا کام کرنے والی ہے۔ میں آٹا گوندھتا ہوں، روٹی پکاتا ہوں۔ جب روٹی تیار ہو جاتی ہے، تو کھانے سے فارغ ہو کر وضو کر کے باہر چلا آتا ہوں۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دوسرا مطالبہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ رات کو کام نہیں کرتے۔ کوئی جاتا ہے، تو اس کی حاجت پوری نہیں ہوتی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کا کیا جواب تمہارے پاس ہے؟ حضرت سعید رحمہ اللہ نے عرض کیا: میرا دل نہیں چاہتا کہ اس کا اظہار کروں۔ میں نے دن اور رات کو تقسیم کر رکھا ہے۔ دن مخلوق کا اور رات خالق کی۔ میں نے رات ساری کی ساری اپنے مولی کو دے رکھی ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیسرا مطالبہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ مہینہ میں ایک دن تعطیل کرتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کا کیا جواب ہے؟ حضرت سعید رحمہ اللہ نے عرض کیا کہ میرے پاس کوئی خادم نہیں ہے۔ میں مہینہ میں ایک دن اپنے کپڑے خود ہی دھوتا ہوں، ان کو خشک کر کے پہننے میں شام ہو جاتی ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حق تعالیٰ شانہ کا شکر ادا کیا کہ میری فراست غلط نہ ہوئی۔ اس کے بعد ان لوگوں سے فرمایا کہ تم اپنے امیر کی قدر کرو۔

ان سب کے جانے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید رحمہ اللہ کے پاس ایک ہزار دینار (اشرفیاں) بھیجیں کہ ان کو اپنی ضروریات میں خرچ کریں۔ ان کی بیوی نے کہا: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے بہت سی ضروریات کا انتظام فرما دیا۔ اب تمہیں خود گھر کے کاروبار کرنے کی احتیاج نہ رہےگی۔ ایک خادم بھی اس میں سے خریدا جا سکتا ہے اور دوسری ضروریات بھی پوری کی جا سکتی ہیں۔

حضرت سعید رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہاں ہم سے بھی زیادہ محتاج اور ضرورت مند لوگ موجود ہیں۔ ان کو ان لوگوں پر نہ خرچ کر دیں؟ بیوی نے اس کو خوشی سے قبول فرما لیا۔

انہوں نے اس میں سے چھوٹی چھوٹی تھیلیاں بنا کر ایک فلاں مسکین کو، ایک فلاں یتیم کو، ایک فلاں کو، غرض بہت سا حصہ تو اسی وقت تقسیم فرما دیا۔ کچھ بچا تھا، اس کو بیوی کے حوالہ کر دیا کہ تھوڑا تھوڑا خرچ کرتی رہیں۔

بیوی نے کہا کہ اس بچی ہوئی رقم سے ایک غلام خرید لیں، گھر کے کاروبار میں تمہیں سہولت ہو جائےگی۔ فرمانے لگے کہ نہیں، عن قریب تجھ سے زیادہ حاجت والے تیرے پاس آئیں گے۔ (فضائل صدقات، ص ۷۰۷-۷۰۹)

Check Also

فضائلِ اعمال – ۳۶

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ کی کھجور کے خوف سے تمام رات جاگنا …