رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو درود پہنچانے والا فرشتہ

عن عمار بن ياسر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله وكل بقبري ملكا أعطاه الله أسماء الخلائق فلا يصلي علي أحد إلى يوم القيامة إلا أبلغني باسمه واسم أبيه هذا فلان بن فلان قد صلى عليك (رواه البزار كما في الترغيب والترهيب، الرقم: ۲۵۷۴، قال الهيثمي: رواه البزار وفيه ابن الحميري واسمه عمران يأتي الكلام عليه بعده … قال البخاري: لا يتابع على حديثه وقال صاحب الميزان: لا يعرف ونعيم بن ضمضم ضعفه بعضهم، وبقية رجاله رجال الصحيح كذا في مجمع الزوائد، الرقم: ۱۷۲۹۱)

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے حضور صلى الله علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے کہ اللہ جل شانہ نے ایک فرشتہ میری قبر پر مقرر کر رکھا ہے، جس کو ساری مخلوق کی باتیں سننے کی قدرت عطا فرما رکھی ہے۔ پس جو شخص بھی مجھ پر قیامت تک درود بھیجتا رہےگا، وہ فرشتہ مجھ کو اُس کا اور اُس کے باپ کا نام لے کر درود پہنچاتا ہے کہ فلاں شخص جو فلاں کا بیٹا ہے، اُس نے آپ پر درود بھیجا ہے۔ (فضائل درود، ص ۲۹)

خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سکھایا ہوا درود

کمال الدمیری رحمہ اللہ نے شرح المنہاج میں نقل کیا ہے کہ حضرت شیخ ابو عبد اللہ بن نعمان رحمہ اللہ کو خواب میں سو بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔

آخری بار جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، تو انہوں نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ پر کونسا درود بھیجنا میرے لیے سب سے افضل ہے؟

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ یہ درود پڑھا کرو:

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ الَّذِيْ مَلَأْتَ قَلْبَهُ مِنْ جَلَالِكَ وَعَيْنَهُ مِنْ جَمَالِكَ ‏فَأَصْبَحَ فَرِحًا مَسْرُوْرًا مُؤَيَّدًا مَنْصُوْرًا

اے اللہ! ہمارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج، جن کے دل کو آپ نے اپنے جلال سے بھر دیا اور جن کی آنکھ کو اپنے جمال سے بھر دیا، تو وہ شاداں وفرحاں ہو گئے اور (غیب سے) ان کی مدد ونصرت کی گئی۔

(النجم الوهاج في شرح المنهاج ۸/۴۸۷، القول البديع صـ ۱۴۷)‏

حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبّت اپنی ذات سے بھی زیادہ‎ ‎

ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اندر اپنی ذات کے علاوہ ہر چیز کے مقابلہ میں آپ کی محبّت سب سے زیادہ ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اس ذات کی قسم، جس کے قبضے میں میری جان ہے (تمہارا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوگا)، جب تک کہ میں تمہارے نزدیک تمہاری ذات سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اب میرے اندر اپنی ذات سے بھی آپ کی محبّت سب سے زیادہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! اب تمہارا ایمان مکمل ہو گیا۔

يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّم دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ

Check Also

مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت درود شریف پڑھنا

عن أبي حميد أو أبي أسيد الأنصاري رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى …