سورہ اخلاص کی تفسیر

قُل هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ ‎﴿١﴾‏ اللّٰهُ الصَّمَدُ ‎﴿٢﴾‏ لَم يَلِدْ وَلَم يُوْلَد ‎﴿٣﴾‏ وَلَمْ يَكُن لَهُ كُفُوًا اَحَدٌ ‎﴿٤﴾‏

آپ (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے)  کہ دیجیئے کہ اللہ ایک ہے (یعنی اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں یکتا ہے) (۱) اللہ بے نیاز ہے (یعنی ساری مخلوق اس کی محتاج ہے اور وہ کسی کا محتاج نہیں ہے) (۲) اس کے کوئی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے (۳) اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے (۴)

تفسیر

اس سورت میں عقیدہ توحید (اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اپنی ذات وصفات میں) بیان کی گئی ہے جو اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔

توحید کا عقیدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے مشرکوں، یہودیوں اور عسائیوں کے لیے ایک نئ چیز تھی۔

مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ بہت سے معبود بناتے تھے جن کی وہ عبادت کرتے تھے، نیز وہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے۔

جہاں تک عسائیوں کی بات ہے، تو وہ تثلیت کا عقیدہ رکھتے تھے اور الوہیت کو تین حصوں میں تقسیم کرتے تھے یعنی وہ کہتے تھے کہ خدا تین حصوں کا مجموعہ ہے – باپ، بیٹا اور روح القدس اور وہ یہ عقیدہ بھی رکھتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں۔

جہاں تک عرب کے یہودیوں کا تعلق ہے، تو ان کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت عزیر علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے عقیدہ توحید کو بیان کیا اور انہیں ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی دعوت دی کہ ان کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے، تو ان میں سے بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کا تعارف طلب کرنے لگے اور مختلف سوالات کرنے لگے۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سوالات کے جواب میں اس سورت کو نازل فرمایا۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ سے متعلق ان کے تمام باطل عقائد اور غلط فہمیوں کو انتہائی فصاحت وبلاغت کے ساتھ، ایک مختصر اور متاثر کن انداز میں رد کیا گیا ہے جس کا کسی دوسری زبان میں کما حقہ ترجمہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس سورت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہر قسم کے شرک کی نفی کی گئی ہے اور توحید کے بنیادی اُصول کو بیان کیا گیا ہے۔

سورہ اخلاص کے فضائل

احادیث مبارکہ میں اس سورت کی بہت سی فضیلتیں وارد ہوئی ہیں۔

ایک حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص اس سورت کو ایک بار پڑھتا ہے، اس کو ایک تہائی قرآن شریف پڑھنے کے برابر ثواب ملتا ہے۔

اسی طرح ایک دوسری حدیث شریف میں وارد ہے کہ جو شخص صبح وشام تین قل (سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس) کی تلاوت کرتا ہے، تو یہ تین سورتیں اس کو اس دن کی تمام مشکلات، مصائب اور پریشانیوں سے بچاتی ہیں۔

قُل هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ ‎﴿١﴾‏

آپ (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے)  کہ دیجیئے کہ اللہ ایک ہے (یعنی اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں یکتا ہے)

جب کفار نے الله تعالیٰ کے بارے میں سنا، تو انہوں نے طنزیہ انداز میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے کہا کہ آپ ہمیں الله تعالیٰ کا نسب بتائیے۔

صرف یہی نہیں؛ بلکہ ان میں سے بعض لوگ تو یہاں تک پوچھنے لگے کہ کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ الله تعالیٰ کی تخلیق کس چیز اور کس مادہ سے ہوئی ہے؟

اسی موقع پر یہ سورت نازل ہوئی۔

اس سورت میں الله تعالیٰ کے متعلق سوالوں کا تفصیلی جواب دیا گیا ہے، اسی طرح کفار کے اعتراضات کا بھی جواب دیا گیا ہے۔

اس سورت کی پہلی آیت میں الله تعالیٰ نے اپنے آپ کو لفظِ “أحد” کے ساتھ تعبیر کیا ہے۔ لفظِ “أحد” کا ترجمہ ‘ایک اور تنہا’ ہے۔

یہ لفظ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ الله تعالی اپنی ذات وصفات میں یکتا ہے۔

الله تعالیٰ کے اپنی ذات میں یکتا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ الله تعالیٰ کا وجود انسان کے وجود کی طرح نہیں ہے جو اپنے وجود میں کسی سبب یا ذریعہ کا محتاج ہے (جیسے اولاد اپنے والدین کے ذریعے سے پیدا ہوتی ہیں)۔

اسی طرح الله تعالی کا وجود عارضی نہیں ہے جو ایک مدت کے بعد ختم ہو جائےگا (جیسے انسان کا وجود ہے)؛ بلكہ الله تعالیٰ کا وجود أبدی ہے؛ کیونکہ الله تعالیٰ کی نہ کوئی ابتدا ہے اور نہ انتہا۔

الله تعالیٰ کے اپنی صفات میں یکتا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ الله تعالیٰ کی ہر صفت کامل اور بے مثال ہے۔

الله تعالیٰ کی صفات محدود نہیں ہیں، جب کہ انسان کی صفات محدود ہیں۔ مثلاً اگر کوئی شخص دیکھنے کی قدرت رکھتا ہے، تو وہ صرف ایک خاص حد تک دیکھ سکتا ہے اور اس سے آگے نہیں دیکھ سکتا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص سامان اٹھانے پر قادر ہے، تو وہ صرف ایک محدود وزن کا بوجھ اٹھا سکتا ہے، وہ اس سے زیادہ بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ اللہ تعالیٰ انسان کی طرح نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات محدود نہیں ہیں۔

حاصل یہ ہے کہ انسان کی ہر صفت کی کوئی نہ کوئی حد ہوتی ہے، جب کہ الله تعالیٰ کی صفات کی کوئی حد نہیں ہے؛ لہذا الله تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں ہر اعتبار سے کامل ومکمل ہے۔

سوره اخلاص کی تفسیر

اللّٰهُ الصَّمَدُ﴿٢﴾‏ 

اللہ بے نیاز ہے (یعنی ساری مخلوق اس کی محتاج ہے اور وہ کسی کا محتاج نہیں ہے) (۲)

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لیے لفظِ “الصمد” استعمال کیا ہے۔

“الصمد” کا مطلب ہے بے نیاز یعنی وہ ذات جس کی ساری مخلوق محتاج ہے، جب کہ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔

دوسرے لفظوں میں یوں سمجھو کہ اللہ تعالٰی وہ ذات ہے جو بالکل بے نیاز ہے اور ساری مخلوق اپنے وجود وبقا اور ترقی کے لیے ہر لمحہ اس کی محتاج ہے، جب کہ وہ کسی بھی وقت کسی کا محتاج نہیں ہے؛ لہٰذا اللہ تعالیٰ کی یہ صفت “الصمد” ایک ایسی صفت ہے، جو  اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے۔

بت پرستوں کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے بہت سے شرکاء ہیں، جو کائنات کے امور کو انجام دینے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔

اس آیت کریمہ میں اس بات کا واضح طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی معاملے میں کسی کی مدد کا محتاج نہیں ہے، بلکہ ہر ایک کو ہر لمحہ اس کی مدد کی ضرورت ہے۔ وہ ہستی جو دوسروں کی مدد کی محتاج ہے، وہ معبود کہلانے کے لائق نہیں ہے۔

لَم يَلِدْ وَلَم يُوْلَد ‎﴿٣﴾

نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا (یعنی نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے)۔

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ بیان فرما رہے ہیں کہ نہ اس نے کسی کو جنا (یعنی اس کی کوئی اولاد نہیں ہے) اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ہے۔

اس آیت کریمہ میں اہلِ مکہ کے ان سوالوں کا جواب ہے، جن کو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اللہ تعالیٰ کے نسب کے بارے میں پیش کیا تھا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ ہمیں اللہ کا نسب بتائیے۔

اللہ تعالی ان کو جواب دیتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ وہ ایک ہے، اکیلا ہے، نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ وہ جنا گیا ہے۔

دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ ابدی ہے، اس کی کوئی ابتدا اور انتہا نہیں ہے۔ اسی طرح اس کا وجود کسی سبب یا ذریعہ پر موقوف نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وجود انسان کے وجود کے بر عکس ہے؛ کیونکہ انسان والدین کے ذریعہ سے پیدا ہوتا ہے۔

کچھ فرقے جیسے ملحدین، خدا کو نہیں مانتے ہیں؛ چنانچہ یہ سورت ان کے عقیدہ کی تردید کرتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے۔ اللہ تعالی وہ واحد ذات ہے، جو ہمیشہ رہنے والی ہے اور اپنی ذات وصفات میں یکتا ہے۔

دوسرے فرقے جیسے عیسائی، ایک خدا کو مانتے ہیں؛ لیکن یہ بھی کہتے ہیں کہ خدا کے کچھ حدود ہیں۔ عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام خدا ہیں اور خدا کے بیٹے بھی ہیں۔

اسی طرح عرب کے یہودیوں کا عقیدہ تھا کہ نبی عزیر علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں۔

لہذا یہ فرقے خدا کو مخلوق کے مشابہ قرار دیتے ہیں، جو اپنے وجود کے لیے سبب اور واسطہ کی محتاج ہے۔

اس لیے اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ان کو جواب دیتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں ہے اور نہ وہ والدین کے ذریعہ سے پیدا ہوئے ہیں اور وہ مخلوق کے بر عکس ہے، جس کے لیے حدود ہیں۔

مندرجہ بالا فرقوں کے علاوہ، دوسرے فرقوں جیسے مشرکین کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ معبود برحق ہیں؛ لیکن کائنات کا نظام سنبھالنے کے لیے ان کے کچھ شرکاء ہیں، جو ان کی مدد کرتے ہیں۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ان کے جواب میں فرماتے ہیں کہ وہ مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہیں ہے، جب کہ ساری مخلوق اس کی محتاج ہے۔

Check Also

سورہ لہب کی تفسیر

تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ ‎﴿١﴾‏ مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ ‎﴿٢﴾‏ سَيَصْلَىٰ نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ ‎﴿٣﴾‏ وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ ‎﴿٤﴾‏ فِي …