عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: من صلى علي عشرا صلى الله عليه مئة ومن صلى علي مئة صلى الله عليه ألفا ومن زاد صبابة وشوقا كنت له شفيعا وشهيدا يوم القيامة (أخرجه أبو موسى المديني بسند قال الشيخ مغلطاي لا بأس به كما في القول البديع ص٢٣٦)
حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مجھ پر دس (۱۰) بار درود بھیجتا ہے، الله تعالیٰ اس پر سو (۱۰۰) بار درود (رحمت) بھیجتے ہیں، جو مجھ پر سو بار درود بھیجتا ہے، الله تعالیٰ اس پر ہزار بار درود بھیجتے ہیں اور جو (میری) محبت اور شوق میں زیادہ (درود) بھیجےگا، میں قیامت کے دن اس کے لیے سفارش کروں گا اور اس کے لیے گواہ بنوں گا۔
ضرورت کے وقت درود شریف کا مدد کے لیے آگے آنا
شیخ المشائخ حضرت شبلی نوّر الله مرقدہ سے نقل کیا گیا ہے کہ میرے پڑوس میں ایک آدمی مر گیا۔ میں نے اس کو خواب میں دیکھا، میں نے اس سے پوچھا: کیا گزری؟ اس نے کہا: شبلی! بہت ہی سخت سخت پریشانیاں گزریں اور مجھ پر منکر نکیر کے سوال کے وقت گڑبڑ ہونے لگی، میں نے اپنے دل میں سوچا کہ یا الله! یہ مصیبت کہاں سے آرہی۔ کیا میں اسلام پر نہیں مرا۔
مجھے ایک آواز آئی کہ یہ دنیا میں تیری زبان کی بے احتیاطی کی سزا ہے۔ جب ان دونوں فرشتوں نے میرے عذاب کا ارادہ کیا، تو فوراً ایک نہایت حسین شخص میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گیا۔ اس میں سے نہایت ہی بہتر خوشبو آرہی تھی۔ اس نے مجھ کو فرشتوں کے جوابات بتا دیئے، میں نے فوراً کہہ دیئے۔
میں نے ان سے پوچھا کہ الله تعالیٰ آپ پر رحم کرے آپ کون صاحب ہیں؟ انہوں نے کہا: میں ایک آدمی ہوں جو تیرے کثرتِ درود سے پیدا کیا گیا ہوں، مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں ہر مصیبت میں تیری مدد کروں۔ (فضائل درود شریف، ص ١٦٠)
حضرت آدم علیہ السلام کی طرف سے حضرت حوّا علیہا السلام کا مہر
شیخ عبد الحق محدّث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے مدارج النبوّۃ میں لکھا ہے کہ جب حضرت حوّا علیہا السلام پیدا ہوئیں، حضرت آدم علیہ السلام نے ان پر ہاتھ بڑھانا چاہا۔ ملائکہ نے کہا: صبر کرو؛ جب تک نکاح نہ ہو جائے اور مہر ادا نہ کر دو۔
انہوں نے پوچھا: مہر کیا ہے؟ فرشتوں نے کہا کہ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پر تین بار درود شریف پڑھنا اور ایک روایت میں بیس بار آیا ہے۔ (فضائلِ درود، ص۱۵۵)
يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّم دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ
Source: http://whatisislam.co.za/index.php/durood/item/423 & http://ihyaauddeen.co.za/?p=4709