
(۱) رمضان سے پہلے ہی رمضان کی تیاری شروع کر دیں۔ بعض بزرگانِ دین رمضان کی تیاری رمضان سے چھ ماہ قبل شروع فرما دیتے تھے۔
(۲) جب ماہِ رجب شروع ہو جائے، تو مندرجہ ذیل دعا مانگیں:
اَللّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيْ رَجَبٍ وَّشَعْبَان وَبَلِّغْنَا رَمَضَان
اے الله! ہمارے لیے ماہِ رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں ماہِ رمضان تک پہونچا۔
عن أنس رضي الله عنه أنه قال: كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا دخل رجب قال: اَللّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيْ رَجَبٍ وَّشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَان (شعب الايمان، الرقم: ۳۸۱۵)
حضرت انس رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ جب رجب شروع ہوتا تھا، تو نبی صلی الله علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے:
اَللّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيْ رَجَبٍ وَّشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَان
(۳) رمضان کی برکتوں اور رحمتوں سے پورے طور پر مستفید ہونے کے لیے آدمی کو نظام الاوقات (یعنی ٹائم ٹیبل) بنانا چاہیئے۔
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال: من صام رمضان وعرف حدوده وتحفظ مما ينبغي له أن يتحفظ كفر ما قبله (رواه ابن حبان في صحيحه والبيهقي كما في الترغيب و الترهيب، الرقم: ۱٤۷٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص رمضان المبارک کا روزہ رکھے اور اس کے حدود کو پہچانے (یعنی وہ رمضان المبارک کے حدود اور احکام اور آداب کی رعایت کرے) اور جن جن چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیئے، ان سب سے وہ اجتناب کرے، تو اس کے تمام پچھلے (صغائر) گناہ مٹا دئے جائیں گے۔
(۴) اگر کسی کے ذمہ حقوق الله یا حقوق العباد کی ادائیگی باقی ہو (حقوق الله جیسے قضا نمازیں، قضا روزہ اور صدقات واجبہ وغیرہ اور حقوق العباد جیسے کسی پر ظلم کیا ہو یا کسی کو تکلیف پہونچائی ہو یا کسی کے قرض یا دین اس کے ذمہ ہو)، تو ماہِ رمضان کی آمد سے قبل ان تمام معاملات کو پورا کر لیں اور ہر ایک کا حق ادا کر لیں۔
کسی پر ظلم کیا ہو یا کسی کو تکلیف پہونچائی ہو، تو ان سے معافی طلب کریں؛ تاکہ آپ رمضان المبارک کی برکتیں پورے طور پر حاصل کر سکیں۔
(۵) رمضان سے پہلے اپنی نفل عبادت میں اضافہ کریں اور عبادت کا معمول بنائیں؛ تاکہ رمضان المبارک میں آپ زیادہ سے زیادہ عبادت کر سکیں۔
(۶) رمضان المبارک سے قبل خوب استغفار کریں اور دعائیں بھی کریں۔
(۷) رمضان المبارک سے قبل تمام مصروفیات سے فارغ ہونے کی کوشش کریں؛ تاکہ آپ رمضان المبارک میں زیادہ سے زیادہ عبادت کر سکیں۔
عن عبادة بن الصامت رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال يوما وحضر رمضان: أتاكم رمضان شهر بركة يغشاكم الله فيه فينزل الرحمة ويحط الخطايا ويستجيب فيه الدعاء ينظر الله تعالى إلى تنافسكم فيه ويباهي بكم ملائكته فأروا الله من أنفسكم خيرا فإن الشقي من حرم فيه رحمة الله عز و جل (رواه الطبراني ورواته ثقات إلا أن محمد بن قيس لا يحضرني فيه جرح ولا تعديل کما فی الترغيب والترهيب، الرقم: ۱٤۹٠)
حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک دن ارشاد فرمایا کہ رمضان آچکا ہے، جو خیر وبرکت کا مہینہ ہے۔ اس مہینہ میں الله تعالیٰ تمہیں (اپنی رحمتوں اور برکتوں سے) ڈھانپ لیتے ہیں۔ رحمت نازل فرماتے ہیں، گناہوں کو معاف فرماتے ہیں اور دعا قبول فرماتے ہیں۔ الله تعالیٰ اس ماہ میں نیک کاموں میں تمہاری مسابقت کو دیکھتے ہیں اور اپنے فرشتوں کے سامنے تمہارے اوپر خوشی کا اظہار فرماتے ہیں؛ لہذا الله تعالیٰ کو اپنے اچھے اور نیک کام دکھاؤ؛ بے شک بدنصیب وہ ہے، جو اس ماہ میں (یعنی ماہ رمضان میں) الله تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو گیا۔
(۸) رمضان شروع ہونے کے بعد اور رمضان کے دوران مندرجہ ذیل دعا مانگیں:
اَللّهُمَّ سَلِّمْنِيْ لِرَمَضَان وَسَلِّمْ رَمَضَانَ لِيْ وَسَلِّمْهُ لِيْ مُتَقَبَّلًا
الہٰی! ماہِ رمضان کے لیے مجھے سلامت رکھیئے اور ماہِ رمضان کو میرے لیے سلامت رکھیئے اور اس کو میری طرف سے قبول فرمایئے۔
عن عبادة بن الصامت قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا هؤلاء الكلمات إذا جاء رمضان اللهم سلمني لرمضان وسلم رمضان لي وسلمه لي متقبلا. رواه الطبرناني في الدعاء والديلمي وسنده حسن (كنز العمال، الرقم: ۲٤۲۷۷)
حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ جب ماہِ رمضان آتا تھا، تو رسول الله علیہ وسلم ہمیں یہ کلمات سکھاتے تھے:
اَللّهُمَّ سَلِّمْنِيْ لِرَمَضَان وَسَلِّمْ رَمَضَانَ لِيْ وَسَلِّمْهُ لِيْ مُتَقَبَّلًا
(۹) ماہِ رمضان میں نیک اعمال کرنے اور بُرے اعمال سے بچنے کی عادت ڈالیں۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: إذا كان أول ليلة من شهر رمضان صفدت الشياطين ومردة الجن وغلقت أبواب النار فلم يفتح منها باب وفتحت أبواب الجنة فلم يغلق منها باب وينادي مناد يا باغي الخير أقبل ويا باغي الشر أقصر ولله عتقاء من النار وذلك كل ليلة (سنن الترمذي، الرقم: ٦۸۲)
حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب رمضان کی پہلی شب ہوتی ہے، تو شیاطین اور سرکش جنات جکڑ دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے سارے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔ ان میں سے کوئی دروازہ بھی کھلا نہیں رہتا اور جنت کے سارے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور الله تعالیٰ کی طرف سے آواز لگانے والا فرشتہ آواز لگاتا ہے کہ اے نیکی کے طالب! آگے بڑھ اور اے برائی کے خواہش مند! رک جا اور الله تعالیٰ کی طرف سے بہت سے بندوں کو دوزخ سے آزاد کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ پورے رمضان المبارک کی ہر شب میں ہوتا ہے۔
(۱۰) اگر آپ کسی روزہ دار کو افطار کرانے کی استطاعت رکھتے ہیں، تو ضرور کریں، خواہ اسے افطار کے لیے ایک کھجور بھی دیں۔
عن زيد بن خالد الجهني قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من فطر صائما كان له مثل أجره غير أنه لا ينقص من أجر الصائم شيئا (سنن الترمذي، الرقم: 807، وقال: هذا حديث حسن صحيح)
حضرت زید بن خالد الجہنی رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی روزہ دار کو افطار کرائے، تو اسے وہی ثواب ملےگا، جو روزہ دار کو ملتا ہے، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی واقع ہو۔
(۱۱) بزرگانِ دین کی صحبت میں وقت گزاریں؛ تاکہ آپ رمضان المبارک کی برکات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکیں۔
(۱۲) حرام اور مشتبہ چیزوں سے احتراز کریں، خواہ وہ مشتبہ یا حرام چیزیں کھانے پینے سے متعلق ہوں یا عمل سے متعلق ہوں۔
(۱۳) روزہ ایک عظیم عبادت ہے؛ لہذا روزہ کی حالت میں ہر اس عمل سے احتراز ضروری ہے، جس سے روزہ کا ثواب ضائع ہو جائے؛ چنانچہ روزہ دار کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر قسم کے لایعنی کام اور فضول بات سے کلی طور پر اجتناب کرے۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: رب صائم ليس له من صيامه إلا الجوع ورب قائم ليس له من قيامه إلا السهر (سنن ابن ماجة، الرقم: ۱٦۹٠)
حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ ان کو روزہ سے بھوک کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا ہے اور بہت سے رات کے نماز پڑھنے والے (رات کے عبادت گزار) ایسے ہیں کہ ان کو رات کی عبادت سے جاگنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملتا ہے۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة في أن يدع طعامه وشرابه (صحیح البخاري، الرقم: ۱۹٠۳)
حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص (روزہ کی حالت میں) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے، تو الله تعالیٰ کو اس بات کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دے۔
(۱۴) روزہ کی حالت میں گالی گلوچ، جھگڑا اور بیہودہ گفتگو سے احتراز ضروری ہے۔
اگر کوئی آدمی روزہ دار سے جھگڑا کرنا چاہے، تو روزہ دار کو چاہیئے کہ وہ اس کو اچھے انداز میں کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں (یعنی روزہ دار کے لیے جھگڑا کرنا بالکل مناسب نہیں ہے)۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وإذا كان يوم صوم أحدكم فلا يرفث ولا يصخب فإن سابه أحد أو قاتله فليقل إني امرؤ صائم (صحیح البخاري، الرقم: ۱۹٠٤)
حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی روزہ سے ہو، تو وہ فحش گفتگو نہ کرے اور نہ شور مچائے (یعنی جاہلانہ طریقہ پر شور مچاتے ہوئے بات نہ کرے)۔ اگر کوئی اس سے گالی گلوچ کرے یا اس سے جھگڑا کرے، تو وہ اس سے کہہ دے میں روزہ دار ہوں۔
(۱۵) ماہِ رمضان میں نفل کا ثواب فرض کے برابر ہو جاتا ہے اور فرض کا ثواب ستر گنا بڑھ جاتا ہے؛ لہذا ماہِ رمضان میں زیادہ سے زیادہ نوافل کا اہتمام کریں اور فرائض سے بالکل غفلت نہ برتیں۔
عن سلمان رضي الله عنه قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم في آخر يوم من شعبان … من تقرب فيه بخصلة من الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه ومن أدى فريضة فيه كان كمن أدى سبعين فريضة فيما سواه (الترغيب و الترهيب، الرقم: ۱٤۸۳)
حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے شعبان کے آخری دن ہمارے سامنے خطبہ دیا۔ (آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ) جو شخص اس ماہ میں کوئی اچھا کام (نفل) کر کے الله تعالیٰ کا قرب حاصل کرے، تو اس کو ماہِ رمضان کے علاوہ میں فرض ادا کرنے والے کے برابر ثواب ملےگا اور جو اس ماہ میں ایک فرض ادا کرے، تو اس کو اس شخص کے برابر ثواب ملےگا، جس نے دیگر مہینوں میں ستر فرائض ادا کیے۔
(۱۶) رمضان المبارک کی ہر شب بیس رکعت نمازِ تراویح ادا کریں۔ نمازِ تراویح سنتِ مؤکدہ ہے۔
حضرت عمر رضی الله عنہ کے دور میں تمام صحابۂ کرام رضی الله عنہم نے بیس رکعت نمازِ تراویح پر اتفاق کیا تھا۔ نمازِ تراویح میں کم از کم ایک قرآن کریم مکمل کرنے کی کوشش کریں۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه (سنن ابی داود، الرقم: ۱۳۷۳)
حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو آدمی ایمان اور ثواب کی امید کے ساتھ رمضان کی راتوں میں نمازِ تراویح پڑھے۔ اس کے پچھلے (سارے چھوٹے) گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔
عن عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله تبارك وتعالى فرض صيام رمضان عليكم وسننت لكم قيامه فمن صامه وقامه إيمانا واحتسابا خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه (سنن النسائي ۱/۳٠۸)
حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک الله تعالیٰ نے تمہارے اوپر رمضان کا روزہ فرض کیا ہے اور میں نے تمہارے لیے اس کی راتوں میں تراویح نماز پڑھنا سنت کیا ہے؛ لہذا جو شخص ماہِ رمضان میں ایمان اور ثواب کی امید کے ساتھ روزہ رکھے اور تراویح نماز پڑھے، تو وہ (اپنے سارے چھوٹے) گناہوں سے پاک و صاف ہو جائےگا اس دن کی طرح، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا تھا (جس دن وہ پیدا ہوا تھا)۔
عن ابى الحسناء أن علي بن أبي طالب رضی الله عنه أمر رجلا أن يصلي بالناس خمس ترويحات عشرين ركعة (سنن الكبرى للبيهقي، الرقم: ٤۸٠۵ فی باب ما روي في عدد ركعات القيام في شهر رمضان)
حضرت ابو الحسناء رحمہ الله سے مروی ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی الله عنہ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کے ساتھ بیس رکعات نمازِ تراویح پڑھائیں۔
عن الأعمش عن زيد بن وهب قال: كان عبد الله بن مسعود رضی الله عنه يصلي لنا في شهر رمضان فينصرف عليه ليل قال الأعمش: كان يصلي عشرين ركعة و يوتر بثلاث (عمدة القاري ۱۱/۱۲۷)
حضرت اعمش رحمہ الله فرماتے ہیں کہ ماہِ رمضان میں حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنہ ہمارے ساتھ بیس رکعات (تراویح نماز) پڑھاتے تھے اور تین رکعتیں و تر پڑھاتے تھے۔
روى البيهقي بإسناد صحيح انهم كانوا يقيمون على عهد عمر بعشرين ركعة و علي عهد عثمان و علي (و هكذا هو في عمدة القاري) (فتح الملهم ۲/۳۲٠)
امام بیہقی رحمہ الله نے صحیح سند سے نقل کیا ہے کہ صحابۂ کرام رضی الله عنہم حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی الله عنہم کے دور میں بیس رکعتیں (نمازِ تراویح) پابندی سے پڑھتے تھے۔
(۱۷) مندرجہ ذیل چار اعمال بکثرت کریں:
(الف) کلمہ طیبہ کا ذکر کرنا (یعنی لا الٰه الا الله کا ذکر کرنا)۔
(ب) استغفار کرنا۔
(ج) جنت کا سوال کرنا۔
(د) جہنم سے پناہ مانگنا۔
عن سلمان رضي الله عنه قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في آخر يوم من شعبان … واستكثروا فيه من أربع خصال خصلتين ترضون بهما ربكم وخصلتين لا غناء بكم عنهما فأما الخصلتان اللتان ترضون بهما ربكم فشهادة أن لا إله إلا الله وتستغفرونه وأما الخصلتان اللتان لا غناء بكم عنهما فتسألون الله الجنة وتعوذون به من النار (الترغيب والترهيب، الرقم: ۱٤۸۳)
حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے شعبان کے آخری دن ہمارے سامنے تقریر کی، (آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس تقریر میں فرمایا کہ) اس مہینہ میں (ماہ رمضان میں) چار اعمال کثرت سے کرو۔ (ان چار اعمال میں سے) دو عمل ایسے ہیں کہ تم ان کے ذریعہ اپنے رب کی خوشنودی حاصل کروگے اور دوسرے دو عمل ایسے ہیں کہ ان کے بغیر تمہارے لیے کوئی چارہ نہیں ہے۔ رب کو خوش کرنے والے اعمال کلمہ “لا الٰه الا الله” اور استغفار ہیں اور دو ضروری اعمال (جن کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے) الله تعالیٰ سے جنت کا سوال کرنا اور جہنم سے پناہ مانگنا ہے۔
(۱۸) ماہِ رمضان میں خوب دعائیں کریں۔ روزہ دار کی دعا ضرور قبول کی جاتی ہے، خاص طور پر افطار سے پہلے جو دعا مانگی جاتی ہے، وہ قبول ہوتی ہے۔
عن أبي هريرة رضی الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ثلاثة لا ترد دعوتهم الصائم حتى يفطر والإمام العادل ودعوة المظلوم يرفعها الله فوق الغمام ويفتح لها أبواب السماء ويقول الرب: وعزتي لأنصرنك ولو بعد حين (سنن الترمذي، الرقم: ۳۵۹۸)
حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تین لوگوں کی دعا رد نہیں کی جاتی ہے: (۱) روزہ دار کی دعا، تا آں کہ وہ افطار کر لے (۲) عادل بادشاہ کی دعا (۳) مظلوم کی دعا (بد دعا) الله تعالیٰ اس کو بادلوں کے اوپر اٹھا لیتے ہیں اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیتے ہیں اور الله تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میری عزت کی قسم! میں ضرور بالضرور تمہاری مدد کروں گا، اگر چہ کچھ مدّت کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔
عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: للصائم عند إفطاره دعوة مستجابة وكان عبد الله بن عمرو إذا أفطر دعا أهله وولده ودعا (شعب الايمان، الرقم: ۳٦۲٤)
حضرت عمرو رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ افطار کے وقت روزہ دار کی دعا قبول کی جاتی ہے۔ (راوی فرماتے ہیں کہ) حضرت عبد الله بن عمرو رضی الله عنہ کی عادتِ مبارکہ یہ تھی کہ جب افطار کا وقت ہوتا، تو وہ اپنے گھر والوں اور بچوں کو بلاتے تھے اور (ان سب کے ساتھ) دعا کرتے تھے۔
(۱۹) ماہِ رمضان کو شہر القرآن (قرآن کا مہینہ) کہا جاتا ہے؛ لہذا اس ماہ میں جتنا زیادہ ہو سکے، قرآنِ پاک کی تلاوت کرنا چاہیئے۔ حافظوں کو غیر حافظوں سے زیادہ قرآن پاک پڑھنا چاہیئے۔
(۲۰) ماہِ رمضان میں خوب سخاوت کریں۔ ماہِ رمضان میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی سخاوت خوب بڑھ جاتی تھی۔
عن ابن عباس رضی الله عنہما قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أجود الناس وكان أجود ما يكون في رمضان حين يلقاه جبريل وكان يلقاه في كل ليلة من رمضان فيدارسه القرآن فلرسول الله صلى الله عليه وسلم أجود بالخير من الريح المرسلة (صحیح البخاري، الرقم: ٦)
حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنہما فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم تمام لوگوں میں سے سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی سخاوت اس مبارک مہینہ میں دوسرے اوقات کے مقابلہ میں زیادہ تھی اور (آپ صلی الله علیہ وسلم کی سخاوت اس مہینہ میں اس وقت اپنی نہایت تک پہنچتی) جب حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ سے (قرآن مجید کا دور کرنے کے لیے) ملاقات کرتے تھے اور حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ سے رمضان کی ہر رات میں ملاقات کرتے تھے اور آپ کے ساتھ قرآن کا دور کرتے تھے۔ (غرض یہ کہ) رسول الله صلی الله علیہ وسلم اس مبارک مہینہ میں سخاوت و فیاضی میں رحمت کی تیز ہوا سے بھلائی اور خیر میں بڑھے ہوئے تھے۔
(۲۱) سحری کھانے میں بے پناہ برکتیں ہیں؛ لہذا روزہ شروع کرنے سے پہلے سحری کے لیے ضرور جاگیں۔
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: السحور كله بركة فلا تدعوه ولو أن يجرع أحدكم جرعة من ماء فإن الله عز و جل وملائكته يصلون على المتسحرين (رواه أحمد کما فی الترغيب و الترهيب، الرقم: ۱٦۲۳، وقال: وإسناده قوي)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سحری کھانے میں برکت ہے۔ اس لیے اسے ہرگز نہ چھوڑیئے؛ اگر چہ پانی کا ایک گھونٹ کیوں نہ ہو؛ کیوں کہ الله تعالیٰ سحری کھانے والوں پر اپنی خاص رحمت نازل فرماتے ہیں اور فرشتے ان کے لیے خیر کی دعا کرتے ہیں۔
وعن عمرو بن العاص رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فصل ما بين صيامنا وصيام أهل الكتاب أكلة السحر (صحیح مسلم، الرقم: ۱٠۹٦)
حضرت عمرو بن العاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمارے اور اہلِ کتاب کے روزوں کے درمیان فرق کرنے والی چیز سحری کا کھانا ہے۔
(۲۲) رات کے آخری حصہ میں سحری کرنا مستحب ہے (یعنی صبح صادق سے کچھ وقت پہلے)۔
عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن نبي الله صلى الله عليه وسلم وزيد بن ثابت تسحرا فلما فرغا من سحورهما قام نبي الله صلى الله عليه وسلم إلى الصلاة فصلى قلنا لأنس: كم كان بين فراغهما من سحورهما ودخولهما في الصلاة قال: قدر ما يقرأ الرجل خمسين آية (صحیح البخاري، الرقم ۵۷٦)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم اور زید بن ثابت رضی الله عنہ نے سحری کھائی اور جب دونوں سحری سے فارغ ہو گئے، تو الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم نمازِ فجر کے لیے کھڑے ہو گئے۔ ہم نے پوچھا (یعنی حضرت انس رضی الله عنہ کے شاگردوں نے ان سے پوچھا کہ) سحری کھانے اور نمازِ فجر کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ انہوں نے جواب دیا: پچاس آیتوں کی تلاوت کے بقدر۔
(۲۳) رمضان المبارک نمازِ تہجد پڑھنے کا بہترین موقع ہے؛ اس لیے کہ سحری کے لیے جاگنا ہی ہے۔
(۲۴) غروب آفتاب کے بعد افطار جلدی کریں۔
عن سهل رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يزال الناس بخير ما عجلوا الفطر (سنن الترمذي، الرقم: ٦۹۹، وقال: حديث سهل بن سعد حديث حسن صحيح)
حضرت سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تک لوگ افطار میں جلدی کریں، وہ ہمیشہ بھلائی میں رہیں گے۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قال الله تعالى: أحب عبادي إلي أعجلهم فطرا (سنن الترمذي، الرقم: ۷٠٠)
حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میرے بندوں میں سے مجھے وہ بندے سب سے زیادہ محبوب ہیں جو افطار میں جلدی کریں۔
(۲۵) کھجور اور پانی سے افطار کرنا بہتر ہے۔
عن سلمان بن عامر رضی الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا أفطر أحدكم فليفطر على تمر فإنه بركة فإن لم يجد تمرا فالماء فإنه طهور (سنن الترمذي، الرقم: ٦۵۸)
حضرت سلمان بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی روزہ سے ہو، تو وہ کھجور سے افطار کرے، کیوں کہ اس میں برکت ہے اور اگر کھجور نہ ملے، تو پانی سے افطار کرے؛ کیونکہ یہ ایک پاکیزہ چیز ہے۔
عن أنس رضی الله عنہ قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يفطر قبل أن يصلي على رطبات فإن لم تكن فتميرات فإن لم تكن تميرات حسى حسوات من ماء (سنن الترمذي، الرقم: ٦۹٦)
حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نمازِ مغرب سے قبل چند تر کھجوروں سے افطار فرماتے تھے۔ اگر تر کھجوریں دستیاب نہ ہوتیں، تو خشک کھجوروں سے افطار فرماتے تھے اور اگر خشک کھجوریں بھی دستیاب نہ ہوتیں، تو چند گھونٹ پانی نوش فرما لیتے تھے۔
(۲۶) افطار کے بعد مندرجہ ذیل دعا پڑھیں:
اَللّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ فَتَقَبَّلْ مِنِّيْ إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ العَلِيم
اے الله! میں نے آپ ہی کے لیے روزہ رکھا اور آپ ہی کی روزی سے افطار کیا۔ آپ میرا روزہ قبول فرمائیے۔ بے شک آپ زیادہ سننے والے اور جاننے والے ہیں۔
ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ
پیاس بجھ گئی اور رگیں تر ہو گئیں اور ان شاء الله اجر و ثواب ثابت (اور حاصل) ہو گیا۔
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ أَنْ تَغْفِرَ لِي
اے اللہ! تیری اس رحمت کے صدقے، جو ہر چیز کو شامل ہے، یہ مانگتا ہوں کہ تُو میری مغفرت فرما دے۔
يَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَةِ اغْفِرْ لِي
اے وسیع مغفرت کرنے والے! میری مغفرت فرما۔
(۲۷) اگر آپ کے لیے ممکن ہو، تو رمضان کے اخیر عشرہ میں اعتکاف کریں۔
عن ابن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال في المعتكف: هو يعتكف الذنوب ويجري له من الحسنات كعامل الحسنات كلها (سنن ابن ماجة، الرقم: ۲۱٠۸)
حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اعتکاف کرنے والے کے بارے میں فرمایا کہ جو آدمی اعتکاف میں بیٹھتا ہے، تو وہ اپنے آپ کو گناہوں سے محفوظ کرتا ہے اور اس کے لیے ساری نیکیاں جاری رہتی ہے (یعنی ساری نیکیاں اس کے نامۂ اعمال میں لکھی جاتی ہیں) اور وہ اس آدمی کی طرح ہوتا ہے، جو ساری نیکیاں کرتا ہے (یعنی اعتکاف سے پہلے وہ جن نیکیوں کا عادی تھا اور اعتکاف کی وجہ سے وہ ان ساری نیکیوں کو نہیں کر سکتا ہے، الله تعالیٰ اس کو ان ساری نیکیوں کا ثواب عطا کر دیتے ہیں)۔
عن ابن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من اعتكف يوما ابتغاء وجه الله تعالى جعل الله بينه وبين النار ثلاث خنادق أبعد مما بين الخافقين (رواه الطبراني في الأوسط والبيهقي واللفظ له كما في الترغيب و الترهيب، الرقم: ۱٦۵٠)
حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص الله تعالیٰ کی خوشنودی کے خاطر ایک دن اعتکاف کرتا ہے، الله تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ کر دیتے ہیں۔ ہر خندق کے بیچ مشرق ومغرب کی دوری کے بقدر فاصلہ ہوتا ہے۔
(۲۸) رمضان کے اخیر عشرہ کی طاق راتوں میں شبِ قدر تلاش کریں۔
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: دخل رمضان فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن هذا الشهر قد حضركم وفيه ليلة خير من ألف شهر من حرمها فقد حرم الخير كله ولا يحرم خيرها إلا محروم (سنن ابن ماجه، الرقم: ۱٦٤٤)
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ جب رمضان شروع ہوا، تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک ماہِ رمضان تمہارے پاس آ گیا۔ اس میں ایک ایسی رات ہے، جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ جو شخص اس رات کی برکت اور فیض سے محروم رہ گیا، وہ تمام بھلائیوں سے محروم رہ گیا اور واقعی بدنصیب شخص وہی ہے، جو اس کی بھلائیوں سے محروم رہتا ہے۔
(۲۹) طاق راتوں میں سونے سے پہلے کچھ وقت عبادت میں صرف کریں۔ پھر تہجد کے لیے بیدار ہونے کی نیت کریں؛ تاکہ آپ اسی وقت زیادہ عبادت کر سکیں گے۔ عبادت کیئے بغیر مت سوئیں؛ اس لیے کہ ہو سکتا ہے کہ آنکھ نہ کھلے اور بابرکت رات گزر جائے۔
(۳۰) شبِ قدر میں مندرجہ ذیل دعا پڑھیں۔
اَللّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنّيْ
اے الله! بے شک آپ سب سے زیادہ معاف کرنے والے ہیں۔ آپ معافی کو پسند کرتے ہیں۔ مجھے معاف فرمائیے۔
عن عائشة رضي الله عنها قالت: قلت: يا رسول الله! أرأيت إن علمت أي ليلة ليلة القدر ما أقول فيها؟ قال: قولي: اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني (سنن الترمذي، الرقم: ۳۵۱۳، وقال: هذا حديث حسن صحيح )
حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے فرمایا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اے الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم! اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کونسی شب، شبِ قدر ہے، تو میں اس میں کون سی دعا مانگوں؟ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جواب دیا کہ تم یہ دعا مانگو:
اَللّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنّيْ
(۳۱) جو شخص عشاء، فجر اور تراویح کی نماز باجماعت پڑھے، الله تعالیٰ اس کو پوری رات عبادت کرنے کا ثواب عطا فرمائیں گے اور اگر وہ شب، شبِ قدر ہے، تو الله تعالیٰ اس کو شبِ قدر کا ثواب عطا فرمائیں گے۔
عن عثمان رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من صلى العشاء في جماعة فكأنما قام نصف الليل ومن صلى الصبح في جماعة فكأنما صلى الليل كله (صحيح مسلم، الرقم: ٦۵٦)
حضرت عثمان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے عشاء کی نماز (مسجد میں) جماعت کے ساتھ ادا کی، تو گویا کہ اس نے آدھی رات عبادت کی (اور اس کو آدھی رات عبادت کرنے کا ثواب ملےگا) اور جس نے نمازِ فجر (مسجد میں) جماعت کے ساتھ ادا کی، تو گویا کہ اس نے پوری رات عبادت کی (اور اس کو پوری عبادت کرنے کا ثواب ملےگا)۔
عن أبي ذر رضي الله عنه قال: … فقام بنا حتى ذهب ثلث الليل ثم لم يقم بنا في السادسة وقام بنا في الخامسة حتى ذهب شطر الليل فقلنا له: يا رسول الله! لو نفلتنا بقية ليلتنا هذه؟ فقال: إنه من قام مع الإمام حتى ينصرف كتب له قيام ليلة (سنن الترمذي، الرقم: ۸٠٦)
حضرت ابو ذر غفاری رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ (رمضان کا) روزہ رکھا۔ تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے رمضان کی پچیسویں شب ہمارے ساتھ آدھی رات تک تمازِ تراویح پڑھائی، تو ہم نے عرض کیا: اے الله کے رسول! صلی الله علیہ وسلم کاش آپ ہمیں رات کے بقیہ حصہ میں بھی نماز پڑھاتے۔ تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے امام کے ساتھ نماز پڑھی، یہاں تک کہ وہ (نماز پوری کرکے گھر) لوٹا، تو اس کو پوری رات عبادت کرنے کا ثواب دیا جائےگا۔
(۳۲) عید کی رات میں جاگیں اور عبادت کریں۔
عن أبي أمامة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من قام ليلتي العيدين محتسبا لم يمت قلبه يوم تموت القلوب (رواه ابن ماجه ورواته ثقات إلا أن بقية مدلس وقد عنعنه كما في الترغيب و الترهيب، الرقم: ۱٦۵۵)
حضرت ابو امامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی راتوں میں حصولِ ثواب کی امید کرتے ہوئے عبادت کرے، اس کا دل اس دن مردہ نہیں ہوگا، جس دن (لوگوں کے) دل مردہ ہو جائیں گے (جس دن دل مردہ ہو جائیں گے سے مراد وہ زمانہ ہے، جب لوگ فتنہ و فساد میں مبتلا ہو جائیں گے اور ان کے دل الله تعالٰی سے غافل ہو جائیں گے، اس وقت الله تعالٰی اس بندے کے دل کو اپنے ذکر سے زندہ رکھیں گے)۔
(۳۳) رمضان کے بعد شوال کے چھ روزہ رکھنے کا اہتمام کریں۔
عن أبي أيوب الأنصاري رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من صام رمضان ثم أتبعه ستا من شوال كان كصيام الدهر (صحيح مسلم، الرقم: ۱۱٦٤)
حضرت ابو ایوب انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو آدمی رمضان کے روزہ رکھے، پھر وہ شوال کے چھ (نفلی) روزہ رکھے، تو اس کو پورے سال کے روزہ رکھنے کا ثواب ملےگا۔
Source: http://ihyaauddeen.co.za/?p=6546
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી