رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق – ۳

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اطاعت

ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بیٹھنے کا حکم دیا۔ جو صحابہ کرام مسجد میں موجود تھے، وہ فوراً بیٹھ گئے۔

اس وقت حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد سے باہر تھے؛ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سن کر وہ مسجد میں داخل ہوئے بغیر فوراً وہیں بیٹھ گئے یعنی انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ یہ حکم صرف ان لوگوں کے لیے ہے، جو مسجد میں ہیں۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ہمیشہ موت کو اپنے سامنے رکھا؛ چناں چہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سوچا کہ اگر مسجد میں داخل ہونے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو جائے، تو کل قیامت کے دن اگر اللہ تعالیٰ ان سے یہ سوال کریں کہ جب تم نے میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سنا کہ انہوں نے تم کو بیٹھنے کا حکم دیا ہے، تو تم نے ان کی اطاعت کیوں نہیں کی؟

چناں چہ اسی خیال سے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فوراً وہیں بیٹھ گئے۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد کے باہر بیٹھے ہوئے دیکھا، تو آپ نے فرمایا: اے ابن مسعود! اندر آ جاؤ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صحابہ کرام کی اطاعت وفرماں برداری کا یہی درجہ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جو محبت اور عقیدت تھی، وہ سب سے اعلی درجے کی محبت اور عقیدت تھی۔

درود وسلام بھیجنے کا فریضہ

جس طرح ایک مومن کو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، عقیدت اور اطاعت کا فریضہ ادا کرنا چاہیے، اسی طرح اسے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجنے کا فریضہ بھی ادا کرنا چاہیے۔

حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے جو مجھ پر (دنیا میں) سب سے زیادہ درود پاک پڑھیں گے۔

مومن کو چاہیے کہ روزانہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے ۔ البتہ جمعہ کے دن  زیادہ سے  درود بھیجنا چاہیے ، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن زیادہ دردو بھیجنے کا حکم دیا  ہے۔

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر جمعہ کو مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیوں کہ میری امت کا درود ہر جمعہ کو مجھ پر پیش کیا جاتا ہے ، جو مجھ پر سب سے زیادہ درود پڑھے گا وہ (قیامت کے دن) مجھ سے  سب سے زیادہ قریب ہوگا۔

Check Also

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق – ۲

پختہ ایمان اور کامل یقین کا فریضہ دوسرا فریضہ یہ ہے کہ ہم نبی کریم …