
حضرت سعید بن خالد اُمَوِی کی سخاوت
حضرت سعید بن خالد اُمَوِی بہت زیادہ مال دار تھے۔ عرب میں ان کی ثَرْوَت ضَرْبُ الْمَثَل تھی۔
ان کا دستور تھا کہ جب کوئی حاجت مند ان کے پاس آتا، تو جو موجود ہوتا، اس میں بخل نہ کرتے۔
لیکن اگر کسی وقت کچھ نہ ہوتا، تو اس کو ایک اقرار نامہ لکھ کر دے دیتے کہ جب میرے پاس کہیں کچھ آئےگا (یا میں مر جاؤں)، تو اس رقعہ کے ذریعہ سے وصول کر لینا۔
حضرت قیس بن سعد خَزْرَجی کی سخاوت
حضرت قیس بن سعد خَزْرَجی ایک مرتبہ بیمار ہوئے اور احباب میں سے کوئی عیادت کو نہ آیا، جس پر ان کو تعجب ہوا؛ بالخصوص جن کی آمد ورفت زیادہ تھی، صِحّت کے زمانہ میں اکثر آیا کرتے تھے۔
گھر کے لوگوں سے پوچھا: یہ کیا بات ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہر شخص تمہارا مَقْرُوض ہے۔ ایسی حالت میں بغیر قرضہ لئے ہوئے آنے سے لوگوں کو شرم آتی ہے۔
فرمانے لگے کہ اس کم بخت مال کا ناس ہو۔ یہ دوستوں کی ملاقات بھی چھڑا دیتا ہے۔
یہ کہہ کہ ایک شخص کو بلایا اور اس کے ذریعہ سے شہر میں منادِی کرائی کہ قیس کا جس جس کے ذمہ قرضہ ہے، وہ قیس نے سب کو معاف کر دیا۔
اس کے بعد جو عیادت کرنے والوں کا ہجوم ہوا، تو دروازہ کی دہلیز بھی ٹوٹ گئی۔ (فضائل صدقات، ص )
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી