فرشتوں کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو درود شریف کی اطلاع ملنا

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من صلى علي عند قبري سمعته ومن صلى علي من بعيد أعلمته (أخرجه أبو الشيخ في الثواب له من طريق أبي معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عنه ومن طريقه الديلمي وقال ابن القيم إنه غريب قلت: وسنده جيد كما أفاده شيخنا كذا في القول البديع صـ ۳۲۵)

حضرت ابو هریره رضی اللہ عنہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جو شخص میرے اوپر میری قبر کے قریب درود بھیجتا ہے، میں اس کو خود سنتا ہوں اور جو دور سے مجھ پر درود بھیجتا ہے، مجھے (فرشتوں کے ذریعہ سے) اس کا علم دیا جاتا ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ کا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرنا

صاحب احیاء نے لکھا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو رہے تھے اور یوں کہہ رہے تھے کہ

یا رسول اللہ، میرے ماں باپ آپ پر قربان! ایک کھجور کا تنہ، جس پر سہارا لگا کر آپ منبر بننے سے پہلے خطبہ پڑھا کرتے تھے، پھر جب منبر بن گیا اور آپ اس پر تشریف لے گئے، تو وہ کھجور کا تنہ آپ کے فراق سے رونے لگا؛ یہاں تک کہ آپ نے اپنا دستِ مبارک اس پر رکھا، جس سے اس کو سکون ہوا (یہ حدیث کا مشہور قصہ ہے)۔ یا رسول اللہ! آپ کی امّت آپ کے فراق سے رونے کی زیادہ مستحق ہے بنسبت اس تنے کے (یعنی امّت اپنے سکون کے لیے توجہ کی زیادہ محتاج ہے)۔

یا رسول اللہ، میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کا عالی مرتبہ اللہ کے نزدیک اس قدر اونچا ہوا کہ اس نے آپ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّه: جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔

یا رسول اللہ، میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کی فضیلت اللہ کے نزدیک اتنی اونچی ہوئی کہ آپ سے مطالبہ سے پہلے معافی کی اطلاع فرما دی؛ چنانچہ ارشاد فرمایا: عَفَا اللَّهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمْ: اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کرے! تم نے ان منافقوں کو جانے کی اجازت دی ہی کیوں؟

یا رسول اللہ، میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کا علوِّ شان اللہ کے نزدیک ایسا ہے کہ آپ اگرچہ زمانہ کے اعتبار سے آخر میں آئے؛ لیکن انبیاء کی میثاق میں آپ کو سب سے پہلے ذکر کیا گیا؛ چنانچہ ارشاد ہے: وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ الآیۃ۔

یا رسول اللہ، میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کی فضیلت کا اللہ کے یہاں یہ حال ہے کہ کافر جہنم میں پڑے ہوئے اس کی تمنا کریں گے کہ کاش آپ کی اطاعت کرتے اور کہیں گے: يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا۔

یا رسول اللہ، میرے ماں باپ آپ پر قربان! اگر حضرت موسیٰ (علیٰ نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام) کو اللہ جل شانہ نے یہ معجزہ عطا فرمایا ہے کہ پتھر سے نہریں نکال دیں، تو یہ اس سے زیادہ عجیب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی انگلیوں سے پانی جاری کر دیا (کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معجزہ مشہور ہے)۔

یا رسول اللہ، میرے ماں باپ آپ پر قربان! اگر حضرت سلیمان (علیٰ نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام) کہ ہَوا ان کو صبح کے وقت میں ایک مہینہ کا راستہ طے کرا دے اور شام کے وقت میں ایک مہینہ کا طے کرا دے، تو یہ اس سے زیادہ عجیب نہیں ہے کہ آپ کا براق رات کے وقت میں آپ کو ساتویں آسمان سے بھی پرے لے جائے اور صبح کے وقت آپ مکہ مکرمہ واپس آ جائیں۔ صَلّی اللهُ عَلَیْکَ: اللہ تعالیٰ ہی آپ پر درود بھیجے۔

یا رسول اللہ، میرے ماں باپ آپ پر قربان! اگر حضرت عیسیٰ (علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام) کو اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ عطا فرمایا کہ وہ مُردوں کو زندہ فرما دیں، تو یہ اس سے زیادہ عجیب نہیں کہ ایک بکری جس کے گوشت کے ٹکڑے آگ میں بھون دیئے گئے ہوں، وہ آپ سے یہ درخواست کرے کہ آپ مجھے نہ کھائیں، اس لیے کہ مجھ میں زہر ملا دیا گیا ہے۔

یا رسول اللہ، میرے ماں باپ آپ پر قربان! حضرت نوح (علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام) نے اپنی قوم کے لیے یہ ارشاد فرمایا: رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا: اے رب! کافروں میں سے زمین پر بسنے والا کوئی نہ چھوڑ۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے بد دعا کر دیتے، تو ہم میں سے ایک بھی باقی نہ رہتا۔ بے شک کافروں نے آپ کی پشتِ مبارک کو روندا (کہ جب آپ نماز میں سجدہ میں تھے۔ آپ کی پشتِ مبارک پر اونٹ کا بچہ دان رکھ دیا تھا) اور غزوۂ احد میں آپ کے چہرۂ مبارک کو خون آلودہ کیا۔ آپ کے دندانِ مبارک کو شہید کیا اور آپ نے بجائے بد دعا کے، یوں ارشاد فرمایا: اَللّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِىْ فَاِنَّهُمْ لَايَعْلَمُوْنَ: اے اللہ! میری قوم کو معاف فرما کہ یہ لوگ جانتے نہیں (جاہل ہیں)۔

یا رسول اللہ، میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کی عمر کے بہت تھوڑے سے حصے میں (کہ نبوّت کے بعد تیئیس ہی سال ملے)، اتنا بڑا مجمع آپ پر ایمان لایا کہ حضرت نوح علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کی طویل عمر (ایک ہزار برس) میں اتنے آدمی مسلمان نہ ہوئے (کہ حجۃ الوداع میں ایک لاکھ چوبیس ہزار تو صحابہ رضی اللہ عنہم تھے اور جو لوگ غائبانہ مسلمان ہوئے، حاضر نہ ہو سکے، ان کی تعداد تو اللہ ہی کو معلوم ہے)۔ آپ پر ایمان لانے والوں کی تعداد بہت زیادہ سے زیادہ ہے۔ (بخاری کی مشہور حدیث عُرِضَتْ عَلَىَّ الْاُمَمُ میں ہے: رَاَيْتُ سَوَادًا كَثِيْرًا سَدَّ الْاُفُق کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امّت کو اتنی کثیر مقدار میں دیکھا کہ جس نے سارے جہاں کو گھیر رکھا تھا) اور حضرت نوح علیہ السلام پر ایمان لانے والے بہت تھوڑے ہیں (قرآن پاک میں ہے: وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ)۔

یا رسول اللہ، میرے ماں باپ آپ پر قربان! اگر آپ اپنے ہمجنسوں ہی کے ساتھ نشست وبرخواست فرماتے، تو آپ ہمارے پاس کبھی نہ بیٹھتے اور اگر آپ نکاح نہ کرتے؛ مگر اپنے ہی ہم مرتبہ سے، تو ہمارے میں سے کسی کے ساتھ بھی آپ کا نکاح نہ ہو سکتا تھا اور اگر آپ اپنے ساتھ کھانا نہ کھلاتے؛ مگر اپنے ہی ہمسروں کو، تو ہم میں سے کسی کو اپنے ساتھ کھانا نہ کھلاتے۔ بیشک آپ نے ہمیں اپنے پاس بٹھایا۔ ہماری عورتوں سے نکاح کیا۔ ہمیں اپنے ساتھ کھانا کھلایا۔ بالوں کے کپڑے پہنے۔ (عربی) گدھے پر سواری فرمائی اور اپنے پیچھے دوسرے کو بٹھایا اور زمین پر (دسترخوان بچھا کر) کھانا کھایا اور کھانے کے بعد اپنی انگلیوں کو (زبان سے) چاٹا اور یہ سب امور آپ نے تواضع کے طور پر اختیار فرمائے۔ صَلَّی اللهُ عَلَیْکَ وَسَلَّمَ: اللہ تعالیٰ ہی آپ پر درود وسلام بھیجے۔ (فضائل درود شریف، ص ۱۸۳ تا ۱۸۷)

يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّم دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ

Check Also

سو بار درود شریف پڑھنے کا خاص ثواب

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال من صلى علي عشرا صلى الله عليه مئة ومن صلى علي مئة صلى الله عليه ألفا ومن زاد صبابة وشوقا كنت له شفيعا وشهيدا يوم القيامة أخرجه أبو موسى المديني بسند قال الشيخ مغلطاي لا بأس به (القول البديع ص٢٣٦)...