عن عبد الله بن أبي طلحة عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم جاء ذات يوم والبشر يرى في وجهه فقال: إنه جاءني جبريل فقال: أما يرضيك يا محمد أن لا يصلي عليك أحد من أمتك إلا صليت عليه عشرا ولا يسلم عليك أحد من أمتك إلا سلمت عليه عشرا (سنن النسائى، الرقم: ۱۲۹۵)
حضرت ابو طلحہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہمارے سامنے اس حال میں تشریف لائے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کا چہرۂ انور خوشی سے چمک رہا تھا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے (اپنی فرحت وسرور کی وجہ بیان کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور فرمایا: اے محمد صلی الله علیہ وسلم! کیا یہ بات آپ کو خوشی نہیں دیتی ہے کہ (الله تعالیٰ آپ سے فرما رہے ہیں کہ) جو بھی آدمی آپ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، میں اس پر دس درود (رحمتیں) بھیجتا ہوں اور جو بھی آدمی آپ پر ایک مرتبہ سلام بھیجتا ہے، میں اس پر دس سلام بھیجتا ہوں۔
دورد کے ساتھ سلام پڑھنا
ابو سلیمان حرّانی رحمہ الله کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضورِ اقدس صلی الله علیہ وسلم کی خواب میں زیارت کی۔
حضور صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابو سلیمان! جب تو حدیث میں میرا نام لیتا ہے اور اس پر درود بھی پڑھتا ہے، تو پھر “وَسَلَّم” کیوں نہیں کہا کرتا، یہ چار حروف ہیں اور ہر حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں، تو تو چالیس نیکیاں چھوڑ دیتا ہے۔ (فضائل درود، ص ۱۶۳)
درود شریف برائے حفاظت
مناہج الحسنات میں ابن فاکہانی کی کتاب فجر منیر سے نقل کیا ہے کہ ایک بزرگ نیک صالح موسیٰ ضریر بھی تھے۔ انہوں نے اپنا گزرا ہوا قصہ مجھ سے نقل کیا کہ ایک جہاز ڈوبنے لگا اور میں اس میں موجود تھا۔
اس وقت مجھ کو غنودگی سی ہوئی۔ اس حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو یہ درود تعلیم فرما کر ارشاد فرمایا کہ جہاز والے اس کو ہزار بار پڑھیں۔ ہنوز تین سو بار نوبت پہنچی تھی کہ جہاز نے نجات پائی۔
یہ سب درود شریف کی برکت تھی، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں سکھایا تھا۔
وہ درود یہ ہے:
أّللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلَوةً تُنْجِينَا بِهَا مِن جَمِيعِ الْأَهْوَالِ وَالْآفَاتِ وَتَقْضِي لَنَا بِهَا جَمِيعَ الحَاجَاتِ وَتُطَهِّرُنَا بِهَا مِن جَمِيعِ السَّيِئَاتِ وَتَرْفَعُنَا بِهَا أَعْلَى الدَّرَجَاتِ وَتُبَلِّغُنَا بِهَا أَقْصَى الغَايَاتِ مِن جَمِيعِ الخَيرَاتِ فِي الحَيَوةِ وَبَعدَ الممَات (اِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيئٍ قَدِيرٌ)
اے اللہ! ہمارے آقا ومولٰی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسی رحمت نازل فرما، جو ہمارے لیے تمام مصیبتوں اور پریشانیوں سے حفاظت کا ذریعہ ہو، جس سے ہماری ضرورتیں پوری ہوں، جس سے ہم تمام گناہوں سے پاک وصاف ہو جائیں، جس کی برکت سے ہمیں (آخرت میں) بلند ترین مقام نصیب ہو اور جس کے ذریعہ ہم زندگی اور موت کے بعد کی تمام بھلائیوں کے اعلیٰ اور آخری مقام پر پہونچ جائیں۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ (الفجر المنير للفاكهاني ص ۷۷، الجملة الأخيرة: “إنك على كل شيئ قدير” مذكورة في فضائل درود ص ۱۵۱)
يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّم دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ
Source: http://ihyaauddeen.co.za/?p=5585