عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أولى الناس بي يوم القيامة أكثرهم علي صلاة (سنن الترمذي، الرقم: ٤٨٤ وحسنه الإمام الترمذي رحمه الله)
حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا، جس نے (دنیوی زندگی میں) مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجا۔
درود شریف کی کثرت کی وجہ سے شاندار خوشبو کا ظہور
حضرت مولانا فیض الحسن سہارنپوری رحمۃ الله علیہ کے داماد نے ایک مرتبہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ الله علیہ سے بیان کیا کہ مولانا فیض الحسن سہارنپوری رحمۃ الله علیہ کا جس مکان میں انتقال ہوا، وہاں ایک مہینہ تک خوشبو عطر کی آتی رہی۔
حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمۃ الله علیہ سے اس کو بیان کیا۔ فرمایا: یہ برکت درود شریف کی ہے۔
حضرت مولانا فیض الحسن سہارنپوری رحمۃ الله علیہ کا معمول تھا کہ ہر شبِ جمعہ کو بیدار رہ کر درود شریف کا شغل فرماتے۔ (فضائل درود، ۱۵۳)
حضرت حکیم بن حزام رضی الله عنہ کا سوال نہ کرنے کا عہد
حضرت حکیم بن حزام رضی الله عنہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ کچھ طلب کیا۔ حضور صلی الله علیہ وسلم نے عطا فرمایا۔ پھر کسی موقع پر کچھ مانگا۔ حضور صلی الله علیہ وسلم نے پھر مرحمت فرما دیا۔
تیسری دفعہ پھر سوال کیا۔ حضور صلی الله علیہ وسلم نے عطا فرمایا اور یہ ارشاد فرمایا کہ حکیم! یہ مال سبز باغ ہے۔ ظاہر میں بڑی میٹھی چیز ہے؛ مگر اس کا دستور یہ ہے کہ اگر یہ دل کے استغنا سے ملے، تو اس میں برکت ہوتی ہے اور اگر طمع اور لالچ سے حاصل ہو، تو اس میں برکت نہیں ہوتی۔ ایسا ہو جاتا ہے (جیسے جوع البقر کی بیماری ہو) کہ ہر وقت کھائے جائے اور پیٹ نہ بھرے۔
حکیم رضی الله عنہ نے عرض کیا: یا رسول الله! آپ کے بعد اب کسی کو نہیں ستاؤں گا۔ (صحیح البخاری ؛ فضائلِ اعمال، حکایاتِ صحابہ، ص ۱۴۹)
يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّم دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ
Source: http://ihyaauddeen.co.za/?p=4363