عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ما من أحد يسلم علي إلا رد الله علي روحي حتى أرد عليه السلام (سنن أبي داود، الرقم:۲٠٤۱، وسنده جيد كما قال العراقي في المغني عن حمل الأسفار في الأسفار صـ ۳٦۷) رواه أحمد في رواية عبد الله كذا في المغني للموفق وأخرجه أبو داود بدون لفظ عند قبري لكن رواه في باب زيارة القبور بعد أبواب المدينة من كتاب الحج (فضائلِ حج صـ ۹۹)
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص بھی میری قبر کے پاس آ کر مجھ پر سلام پڑھے، تو اللہ جل شانہ میری روح مجھ تک پہونچا دیتے ہیں۔ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔
ف: ابن حجر رحمہ اللہ شرح مناسک میں لکھتے ہیں کہ میری روح مجھ تک پہونچانے کا مطلب یہ ہے کہ بولنے کی قوّت عطا فرما دیتے ہیں۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک اللہ جل شانہ کی حضوری میں مستغرق رہتی ہے، تو اس حالت سے سلام کا جواب دینے کی طرف متوجّہ ہوتی ہے۔
اکثر علماء نے منجملہ ان کے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ سے بھی علامہ زرقانی رحمہ اللہ نے نقل کیا کہ یہ مطلب نہیں کہ اس وقت روح واپس آتی ہے؛ بلکہ وہ تو وصال کے بعد ایک مرتبہ واپس آ چکی، تو مطلب یہ ہے کہ میں چونکہ روح میری واپس آ چکی اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔ (فضائلِ حج، ص ۹۹)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شدید محبّت
غزوۂ بدر میں حضرت ابو بکر صدّیق رضی اللہ عنہ کے صاحب زادے حضرت عبد الرحمٰن رضی اللہ عنہ کفار کی طرف سے لڑ رہے تھے؛ کیونکہ انہوں نے اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا تھا، بعد میں انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔
اسلام قبول کرنے کے بعد ایک روز اپنے والد ماجد حضرت ابو بکر صدّیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے تھے۔ دوران گفتگو انہوں نے کہا: میرے ابّا جان! غزوۂ بدر میں متعدد بار آپ میری تلوار کے نشانے پر آ گئے تھے؛ لیکن میں نے اپنی تلوار روک لی تھی؛ کیونکہ میں نے اس بات کا خیال رکھا کہ آپ میرے والد ہیں۔
حضرت ابو بکر صدّیق رضی اللہ عنہ نے برجستہ فرمایا: اگر تم میری تلوار کے نشانے پر آ جاتے، تو میں تمہیں نہیں چھوڑتا؛ کیونکہ تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی کرنے کے لیے آئے تھے۔ (تاریخ الخلفاء)
يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّم دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ