عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من زار قبري وجبت له شفاعتي (سنن الدارقطني، الرقم: 194) رواه البزار والدارقطني قاله النووي وقال ابن حجر في شرح المناسك: رواه ابن خزيمة في صحيحه وصححه جماعة كعبد الحق والتقي السبكي وقال القاري في شرح الشفا : صححه جماعة من أئمة الحديث. (فضائلِ حج صـ ۱۸۲، وسنده جيد كما في البدر المنير ٦/۲۹۷)
حضرت عبد الله بن عمر رضی الله عنہما حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جس شخص نے میری قبر کی زیارت کی، اس کے لیے میری شفاعت ضروری ہو گئی (یعنی میں اس کے لیے قیامت کے دن الله تعالیٰ سے ضرور سفارش کروں گا کہ اس کو بخش دیا جائے)۔
درود- بیماریوں سے شفا کا ذریعہ
نزھۃ المجالس میں لکھا ہے کہ بعض صلحاء میں سے ایک صاحب کو حبسِ بول ہو گیا (پیشاب رُک گیا)۔ انہوں نے خواب میں عارف بالله حضرت شیخ شہاب الدّین ابن رسلان کو، جو بڑے زاہد اور عالم تھے، دیکھا اور ان سے اپنے مرض کی شکایت وتکلیف کہی۔
انہوں نے فرمایا: تُو تریاقِ مجرّب (شفا کی دوا) سے کہاں غافل ہے؟ یہ درود شریف پڑھا کر:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلٰى رُوْحِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ فِيْ الْأَرْوَاحْ وَصَلِّ وَسَلِّمْ عَلٰى قَلْبِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ فِيْ الْقُلُوْبِ وَصَلِّ وَسَلِّمْ عَلٰى جَسَدِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ فِيْ الْأَجْسَادْ وَصَلِّ وَسَلِّمْ عَلٰى قَبْرِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ فِيْ الْقُبُوْرْ
اے الله! تمام روحوں میں سے حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کی مبارک روح پر درود وسلام اور برکت بھیج اور تمام دلوں میں سے حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کے مبارک دل پر درود وسلام بھیج اور تمام جسموں میں سے حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کے جسمِ مبارک پر درود وسلام بھیج اور تمام قبروں میں سے حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کی قبر پر درود وسلام بھیج۔
خواب سے اٹھنے کے بعد ان صاحب نے اس درود کو کثرت سے پڑھا اور ان کا مرض زائل ہو گیا۔ (نزھۃالمجالس ۲/۸۵ ، فضائل درود، ص ۱۸۲)
يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّم دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ
Source: