مرض الموت

مرض الموت وہ بیماری ہے جس میں انسان مسلسل بیمار رہتا ہے اور بالآخر اس بیماری کی وجہ سے انسان کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

اس بیماری کو مرض الموت کہا جائےگا خواہ:

(۱) وہ بیماری انسان کو فوراً صاحبِ فراش بنا دیتی ہے اور اس کو چلنے پھرنے سے عاجز کر دیتی ہے، (۲) یا وہ بیماری انسان کو فوراً چلنے پھرنے سے عاجز نہیں کرتی ہے؛ بلکہ وہ انسان کی صحت کو آہستہ آہستہ خراب کرتی ہے یہاں تک کہ انسان بالآخر مر جاتا ہے۔

اس دوسری صورت میں اگر چہ انسان چلنے پھرنے پر قادر ہو اور وہ اپنی گھریلو ضرورتیں یا گھر کے باہر کی ضرورتیں پوری کرنے کی استطاعت رکھتا ہو، پھر بھی اس بیماری کو مرض الموت میں شمار کیا جائےگا اور اس بیماری پر مرض الموت کے احکام نافذ ہوں گے؛ کیونکہ اس میں انسان کی صحت مسلسل خراب ہو رہی ہے اور بیماری بڑھتی جا رہی ہے۔

فقہائے کرام نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ مرض الموت کی بیماری ایک سال تک رہ سکتی ہے۔

یہ بات ذہن میں رہنی چاہیئے کہ اگر کوئی شخص ایسی بیماری میں مبتلا ہو جائے، جو عام طور پر موت کا سبب بنتی ہے؛ مگر اس بیماری سے اس کی صحت کو زیادہ خطرہ لاحق نہیں ہے اور نہ ہی وہ بیماری زیادہ بڑھ رہی ہے؛ بلکہ وہ اس بیماری کے باوجود کئی سالوں تک زندہ رہتا ہے، تو اس صورت میں ایسے آدمی کی مرض الموت اس وقت شروع ہوگی جب اس کی صحت بہت زیادہ بگڑ جائے اور وہ اسی حالت میں مر جائے۔

اگر کوئی شخص ایسی بیماری میں مبتلا ہو جائے جو عام طور پر موت کا سبب بنتی ہے؛ مگر وہ اس بیماری سے شفایاب ہو جائے، تو اس بیماری کو مرض الموت نہیں کہا جائے گا اور اس صورت میں مرض الموت کے احکام اس پر جاری نہیں ہوں گے۔

اگر کوئی شخص مرض الموت میں ہو، مگر وہ اُس بیماری کے علاوہ کسی اور سبب سے مر جائے (مثال کے طور پر وہ آخری درجہ کے کینسر میں مبتلا ہو، مگر وہ کار کے حادثہ کی وجہ سے مرجائے) تب بھی اس بیماری کو ”مرض الموت “ ہی کہا جائےگا۔

مرض الموت سے متعلق متفرّق مسائل

مرض الموت میں مبتلا شخص سے متعلق بہت سے مسائل ہیں، جنہیں فقہائے کرام نے بیان کیا ہے، ہم ذیل میں ان میں سے کچھ مسائل ذکر کر رہے ہیں:

(۱) جو شخص مرض الموت کی حالت میں ہو، اس کو شریعت نے اس کے مال کے صرف ایک تہائی حصہ میں معاملہ کرنے کی اجازت دی ہے؛ اس کو صرف ایک تہائی مال میں معاملہ کرنے کی اجازت اس وجہ سے دی گئی کہ اس کے بقیہ دو تہائی مال میں اس کے وارثین کو حقوق مل گئے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ جب وہ مرض الموت میں مبتلا ہو گیا، تو اس کے وارثین کے حقوق اس کے مال سے وابستہ ہو گئے اور اس کے لئے ان کے حقوق میں (یعنی دو تہائی میں) معاملہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

لہذا مرض الموت کی حالت میں وہ جو بھی معاملہ کرے، مثلاً وہ صدقہ یا خیرات کرے یا وہ کوئی چیز وقف کرے یا وہ کسی کو کوئی چیز ہبہ کرے، تو ان سب معاملات کو وصیّت میں شمار کیا جائےگا اور یہ وصیّت اس کے موت کے بعد صرف اس کے مال کے ایک تہائی حصّہ میں نافذ ہوگی۔

لہذا اس کی وفات کے بعد سب سے پہلے:

(۱) اس کے مال سے اس کی تدفین کے اخراجات کی ادائیگی کی جائےگی، (۲) پھر اس کے قرض اور دین کو ادا کیا جائےگا، (۳) اس کے بعد دیکھا جائےگا کہ اس نے مرض الموت میں جو کچھ وصیّتیں کی ہیں، وہ ایک تہائی مال کے اندر میں ہیں یا اس سے زائد ہیں؟ اگر وہ ایک تہائی مال کے اندر ہوں، تو اس کی ساری وصیّتیں نافذ ہوں گی اور اگر وہ ایک تہائی مال سے زائد ہوں، تو وہ صرف تہائی مال تک نافذ ہوں گی اور بقیہ مال کو (جو اس نے ایک تہائی سے زیادہ وصیّت کی ہو ) اس کے ترکہ میں شامل کر دیا جائےگا اور اس کو وارثین کے درمیان تقسیم کیا جائےگا۔

(۲) مرض الموت میں مبتلا شخص کے لئے اپنے کسی وارث کو کوئی چیز ہبہ کرنا جائز نہیں ہے اور اگر وہ مرض الموت میں کوئی چیز ہبہ کرےگا، تو اس کا ہبہ کرنا جائز نہیں ہے اور اس کی ہبہ کردہ چیز اس کے ترکہ میں شامل کر دی جائےگی؛ تاکہ اس کے انتقال کے بعد دوسرے مالوں کی طرح اس مال کو بھی وارثین کے درمیان ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائےگا۔

Source: http://muftionline.co.za/node/30825


 

(من غالب حالة الهلاك بمرض أو غيره بأن أضناه مرض عجز به عن إقامة مصالحه خارج البيت) هو الأصح كعجز الفقيه عن الإتيان إلى المسجد وعجز السوقي عن الإتيان إلى دكانه وفي حقها أن تعجز عن مصالحها داخله كما في البزازية ومفاده أنها لو قدرت على نحو الطبخ دون صعود السطح لم تكن مريضة (الدر المختار ۳/۳۸٤)

والصحيح أن من عجز عن قضاء حوائجه خارج البيت فهو مريض وإن أمكنه القيام بها في البيت إذ ليس كل مريض يعجز عن القيام بها في البيت كالقيام للبول والغائط كذا في التبيين (الفتاوى الهندية ۱/٦٤۳)

ولو أعيد المخرج للقتل إلى الحبس أو رجع المبارز بعد المبارزة إلى الصف صار في حكم الصحيح كالمريض إذا برئ من مرضه كذا في البدائع (الفتاوى الهندية ۱/٤٦۳)

قوله إن مات في ذلك الوجه أو قتل دليل على أنه لا فرق بين ما إذا مات بذلك السبب أو بسبب آخر كالمريض إذا قتل وفيه خلاف عيسى بن أبان هو يقول إن مرض الموت ما يكون سببا للموت ولما مات بسبب آخر علمنا أن مرضه لم يكن مرض الموت قلنا الموت اتصال بمرضه حيث لم يصح حتى مات وقد يكون للموت سببان فلم يتبين أن مرضه لم يكن الموت (تبيين الحقائق ۲/۲٤۸)

(قوله أو بسبب آخر كالمريض إذا قتل) وهذا ظاهر الرواية عن أصحابنا اهـ أتقاني (حاشية الشلبي ۲/۲٤۸)

(وتجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه إلا أن تجيز ورثته بعد موته) (رد المحتار ٦/٦۵٠)

و(لا يصح تبرعه إلا من الثلث …) (الدر المختار ۳/۳۸٦)

قال العلامة ابن ع​ابدين رحمه الله (قوله ولا يصح تبرعه إلا من الثلث) أي كوقفه ومحاباته وتزوجه بأكثر من مهر المثل (رد المحتار ۳/۳۸٦)

إذا وهب أحد في مرض موته شيئا لأحد ورثته وبعد وفاته لم تجز الورثة الباقون لا تصح تلك الهبة أما لو وهب وسلم لغير الورثة فإن كان ثلث ماله مساعدا لتمام الموهوب تصح وإن لم يكن مساعدا ولم تجز الورثة الهبة تصح في المقدار المساعد ويكون الموهوب له مجبورا برد الباقي (مجلة الأحكام، المادة: ۸۷۹)

(وتبطل هبة المريض ووصيته لمن نكحها بعدهما) أي بعد الهبة والوصية لما تقرر أنه يعتبر لجواز الوصية كون الموصى له وارثا أو غير وارث وقت الموت لا وقت الوصية

قال العلامة ابن عابدين رحمه الله (قوله وتبطل هبة المريض ووصيته إلخ) لأن الوصية إيجاب عند الموت وهي وارثة عند ذلك ولا وصية للوارث والهبة، وإن كانت منجزة صورة فهي كالمضاف إلى ما بعد الموت حكما لأن حكمها يتقرر عند الموت، ألا ترى أنها تبطل بالدين المستغرق وعند عدم الدين تعتبر من الثلث هداية (رد المحتار ٦/٦۵۹)

إذا باع شخص في مرض موته شيئا من ماله لأحد ورثته يعتبر ذلك موقوفا على إجازة سائر الورثة فإن أجازوا بعد موت المريض ينفذ البيع وإن لم يجيزوا لا ينفذ (مجلة الأحكام، المادة: ۳۹۳)

إذا باع المريض في مرض موته شيئا لأجنبي بثمن المثل صح بيعه وإن باعه بدون ثمن المثل وسلم المبيع كان بيع محاباة يعتبر من ثلث ماله فإن كان الثلث وافيا بها صح وإن كان الثلث لا يفي بها لزم المشتري إكمال ما نقص من ثمن المثل وإعطاؤه للورثة فإن أكمل لزم البيع وإلا كان للورثة فسخه (مجلة الأحكام، المادة: ۳۹٤)

فأما إقراره بالدين لغيره فلا يخلو من أحد وجهين إما أن أقر به لأجنبي أو لوارث فإن أقر به لوارث فلا يصح إلا بإجازة الباقين عندنا (بدائع الصنائع ٦/٦۵۸)

هذا إذا أقر لوارث فإن أقر لأجنبي فإن لم يكن عليه دين ظاهر معلوم في حالة الصحة يصح إقراره من جميع التركة استحسانا (بدائع الصنائع ٦/٦۵۸)

إيجار المريض لا تشترط صحة المؤجر ولذلك لو آجر وهو في مرض موته مالا له من آخر بأقل من أجرة المثل فالإجارة نافذة في كل ذلك المال لا في ثلثه فقط لأن إعارته وهو في مرض موته جائزة فكذا إجارته (درر الحكام شرح مجلة الأحكام ۱/٤۵٠)

الباب الخامس في طلاق المريض قال الخجندي الرجل إذا طلق امرأته طلاقا رجعيا في حال صحته أو في حال مرضه برضاها أو بغير رضاها ثم مات وهي في العدة فإنهما يتوارثان بالإجماع … ولو طلقها طلاقا بائنا أو ثلاثا ثم مات وهي في العدة فكذلك عندنا ترث ولو انقضت عدتها ثم مات لم ترث وهذا إذا طلقها من غير سؤالها فأما إذا طلقها بسؤالها فلا ميراث لها كذا في المحيط (الفتاوى الهندية ۱/٤٦۲)

Check Also

باغِ محبّت (تیرہویں قسط)‏

بسم الله الرحمن الرحيم خیر وبرکت کی چابی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے …