مسجد کی سنتیں اور آداب – ۹

نماز کے لیےمسجد جانے کی فضیلتیں

(۱) گھر میں وضو کرے اور پھر پیدل چلتے ہوئے نماز کے لیے مسجد جانا۔ یہ عمل گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ اور درجات کے بلند ہونے کا ذریعہ ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من تطهر في بيته ثم مشى إلى بيت من بيوت الله ليقضي فريضة من فرائض الله كانت خطواته إحداهما تحط خطيئة والأخرى ترفع درجة (صحيح مسلم رقم ٦٦٦)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”جس نے اپنے گھر میں وضو کیا اور پھر اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر (کسی مسجد) کی طرف چلا؛ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرائض میں سے کوئی فرض (نماز) ادا کرے، تو اس کے ایک قدم سے ایک گناہ مٹایا جائےگا اور اس کے دوسرے قدم سے ایک درجہ‏ (آخرت میں)‏ بلند کیا جائےگا۔“

(۲) جو مسجد آتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں۔

عن عمرو بن ميمون عن عمر قال المساجد بيوت الله في الأرض وحق على المزور أن يكرم زائره (المصنف لابن أبي شيبة رقم ۳۵۷۵۸)

حضرت عمر و بن میمون رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ”مسجدیں زمین پر اللہ تعالیٰ کے مکانات ہیں اور میزبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔“

(۳) وہ لوگ جو بکثرت مسجد جاتے ہیں انہیں ”اللہ تعالیٰ کے گھر والے“ کا لقب دیا جاتا ہے اور وہ اللہ تعالی کےخاص بندے ہوتے ہیں۔

عن أنس بن مالك قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن عمار بيوت الله هم أهل الله عز وجل (مجمع الزوائد رقم ۲٠۳٠)[۱]

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا کہ”اللہ تعالیٰ  کے گھروں کو آباد رکھنے والے ہی اللہ والے ہیں۔“

نوٹ: اللہ تعالیٰ کے کوئی گھر والے نہیں ہے؛ لیکن یہاں مراد یہ ہے کہ جس طرح آدمی کے گھر والے اس سے بہت قریب ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ قریب ہے۔

(۴) بکثرت مسجد جانے سے ایمان اور دین کی حفاظت ہوتی ہے۔

عن معاذ بن جبل رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إن الشيطان ذئب الإنسان كذئب الغنم يأخذ الشاة القاصية والناحية فإياكم والشعاب وعليكم بالجماعة والعامة والمسجد (الترغيب والترهيب رقم ٤۹۹)[۲]

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ”در حقیقیت شیطان انسان کے لیے ایک ایسا بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کا بھیڑیا ہوتا ہے وہ اس بکری کو جو ریوڑ سے دور چلی گئی ہو یا ریوڑ کے کنارے پر ہو پکڑتا ہے لہذا تم پہاڑ کی گھاٹیوں سے بچو (اختلاف و افتراق سے بچو) اور جماعت، مجمع اور مسجد سے جڑے رہو۔“

Source: https://ihyaauddeen.co.za/?p=7640


[۱] قال الهيثمي: رواه الطبراني في الأوسط وأبو يعلى والبزار وفيه صالح المري وهو ضعيف

صالح ابن بشير ابن وادع المري بضم الميم وتشديد الراء أبو بشر البصري القاص الزاهد ضعيف من السابعة مات سنة اثنتين وسبعين وقيل بعدها ‏‏(تقريب التهذيب صـ ۲۷۱)‏

عن أبي الدرداء رضي الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول المسجد بيت كل تقي وتكفل الله لمن كان المسجد بيته بالروح ‏والرحمة والجواز على الصراط إلى رضوان الله إلى الجنة (الترغيب والترهيب، الرقم: ۵٠۱)‏

قال الهيثمي: رواه الطبراني في الكبير والأوسط والبزار وقال إسناده حسن وهو كما قال رحمه الله تعالى

[۲] قال المنذري: رواه أحمد من رواية العلاء بن زياد عن معاذ ولم يسمع منه

Check Also

نکاح اور ولیمہ کی سنتیں اور آداب

شریعت نے میاں بیوی میں سے ہر ایک کو الگ الگ ذمہ داریاں دی ہے، شریعت نے دونوں کو الگ ذمہ داریوں کا مکلف اس وجہ سے بنایا، کیونکہ مرد اور عورت مزاج اور فطرت کے اعتبار سے مختلف ہیں؛ لہذا دونوں کا فرضِ منصبی ایک نہیں ہو سکتا ہے...