باغِ محبّت(چھٹی قسط)‏

بسم الله الرحمن الرحيم

حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے اخلاقِ حمیدہ

یہ بات مشہور و معروف ہے کہ انسان کے اخلاق و عادات اور اس کے افعال، اس کے دل کی کیفیات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اگر کسی کا دل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبّت سے لبریز ہو، تو یہ محبّت اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری کرنے میں، سنت کے مطابق زندگی گزارنے میں اور مخلوق کے ساتھ شفقت و ہمدردی کرنے کی صورت میں خود بخود نظر آئےگی۔ اس کے بر خلاف اگر کسی کے دل میں صرف مال و دولت کی محبّت اور شہرت و نام وری کی چاہت اور ہَوَس ہو، تو یہ چاہت اور ہَوَس اس کے معاملات، اخلاق اور محنتوں میں نمایاں طور پر ظاہر ہوگی۔

جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کی حیاتِ طیبہ پر نظر ڈالتے ہیں، تو ہمیں ان کی زندگی کے ہر گوشہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبّت پورے طور پر نظر آتی ہے۔ ان کی پاکیزگی اور تقویٰ و طہارت ہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا اور آخرت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیّت کے لیے منتخب فرمایا۔

عام طور پر جب لوگوں کی مجلس لگتی ہے اور گفتگو شروع ہوتی ہے، تو دوسروں کی زندگی کے بارے میں بات چیت ہونے لگتی ہے اور لوگ غیبت میں مبتلا ہوتے ہیں؛ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات  اس قسم کے گناہوں سے بے حد اجتناب کرتی تھیں۔

 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات میں سےایک بیوی حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ہے۔ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا بہت سی مبارک صفات کی حامل تھیں۔ ان کی ایک خاص صفت یہ تھی کہ یہ دل کی بہت صاف، پاک طبیعت اور غیبت سے بے انتہا بچنے والی تھیں۔

غیبت سے احتراز

جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان اور الزام تراشی کا واقعہ پیش آیا۔ جس میں بہت سے منافقین نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف جھوٹی باتیں پھیلائیں اور ان پر گندے الزامات لگائے؛ تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ان کی پاکیزگی اور براءت کا فیصلہ فرمایا اور ان کے حق میں دو رکوع نازل فرمایا۔  حدیث شریف میں منقول ہے کہ قرآن مجید کی آیات کے نزول سے پہلے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے ان کی سوکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں دریافت کیا۔ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے فوراً جواب دیا کہ جو میں نے نہیں سنا اور نہیں دیکھا اس کے متعلق میں غلط خبر اور کذب بیانی سے اپنے کانوں اور آنکھوں کی حفاظت کرتی ہوں، واقعی میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں خیر کے سوا کچھ نہیں جانتی ہوں۔ (صحیح البخاری)

محتاجوں اور  فقیروں کے ساتھ ہم دردی

حضرت زینب رضی اللہ عنہا صاف دل اور پاک مزاج ہونے کے ساتھ ساتھ غریبوں کے ساتھ انتہائی شفقت اور ہم دردی کا برتاؤ کرنے والی تھیں۔ چناں چہ یہ خود جانوروں کی کھالوں کو دباغت دیتی تھیں اور ان کو بیچ کر غریبوں پر پیسے خرچ کیا کرتی تھیں۔ (مرقاۃ)

 ایک مرتبہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواجِ مطہرات سے فرمایا کہ”میرے انتقال کے بعد تم میں سے سب سے پہلے مجھ سے وہ ملے گی، جس کے ہاتھ  سب سے زیادہ لمبے ہوں۔ “یہ سن کر ازواجِ مطہرات  نے اپنے ہاتھوں کو ناپنا شروع کر دیا کہ کس کے ہاتھ زیادہ لمبے ہیں۔ تو سب سے زیادہ لمبے ہاتھ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے تھے؛ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سب سے پہلے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا، جس سے یہ بات سب پر واضح ہو گئی کہ ہاتھ کی لمبائی سے مراد صدقہ کی کثرت تھی۔ (صحیح البخاری)

پردے کا حد درجہ اہتمام

حجۃ الوداع کے موقع پر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواجِ مطہرات سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ”اِس کے بعد اپنے گھروں میں رہیں (یعنی اس فریضۂ حج کو ادا کرنے کے بعد آپ سب اپنے گھروں میں ہی رہیں۔ضرورت کے بغیر گھروں سے نہ نکلیں)۔“ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نصیحت کا اثر یہ تھا کہ حضرت سودہ اور حضرت زینب رضی اللہ عنہما نفلی حج ادا کرنے کے لیے بھی اپنے گھروں سے نہیں نکلیں ۔“ حضرت زینب اور حضرت سودہ رضی اللہ عنہما فرمایا کرتی تھیں کہ”اللہ کی قسم ! رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مبارک فرمان سننے کے بعد ہم کبھی کسی سواری پر سوار نہیں ہوئیں ۔“ (مسندِ احمد)

اس سے ہم اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا پردے کا کتنا زیادہ خیال رکھتی تھیں کہ اگر چہ ان کے لیے نفلی حج اور عمرہ ادا کرنے کے لیے گھر سے نکلنا جائزتھا، پھر بھی وہ اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک اپنے گھر سے باہر نہیں نکلیں۔

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?p=16445


Check Also

میّت کی تدفین کا طریقہ ‏

میّت کو قبلے کی طرف سے لایا جائے اور قبر میں اِس طرح اُتارا جائے کہ میّت کو اُتارنے والے قبر میں قبلہ کی طرف رُخ کر کے کھڑے ہوں۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو اِسی طرح دفن فرماتے تھے...